رات کے دو بج رہے تھے لیکن احتشام احسن اپنی سٹڈی ٹیبل پر جھکے فائلز کھولے، اہم نکات لکھنے میں مصروف تھے۔ وہ ملک کے مایہ ناز وکیل ہونے کے ساتھ ساتھ عالمی سیاست پر بھی گہری نگاہ رکھتے تھے۔ کئی زبانوں میں مہارت اور شعلہ بیاں مقرر ہونے نے ان کی شخصیت کی کشش کئی گنا بڑھا دی تھی۔
سوشل میڈیا پر ان کی نیوز ویب ساٸٹس اور یوٹیوب چینلز کی ریٹنگ متاثر کن تھی۔ ان کا ایک ایک آڈیو وڈیو کلپ بین الاقوامی سطح پر وائرل ہو جایا کرتا تھا۔
صبح انہوں نے کرمنل لاز کی ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کرنا تھی اور سہ پہر میں انسانی حقوق اور آزادی نسواں پر ملکی سطح کی اہم میٹنگ کی صدارت بھی۔ اس سب کی تیاری میں رات آدھے سے زیادہ بیت چکی تھی۔
اگلی صبح کانفرنس میں احتشام صاحب کے مقالے کو بےحد پذیرائی حاصل ہوئی۔ تحقیق میں ان کی ان تھک محنت، جانفشانی سے کیے گئے تقابلی جائزے اور بہترین تجاویز پر قریبا تمام شرکائے کانفرنس مرعوب نظر آ رہے تھے۔ سہ پہر تک ان کی خود اعتمادی جس میں پہلے ہی کچھ کمی نہ تھی کچھ اور بھی پروان چڑھ چکی تھی۔
میٹنگ میں کرسی صدارت پر تشریف رکھے ان کے ماتھے کے بل نمایاں ہو رہے تھے۔ ان کا لمحہ لمحہ قیمتی تھا اور میٹنگ شروع کرنے سے پہلے جس قاری کو قرات کے لیے بلایا گیا تھا وہ تاحال موجود نہیں تھا۔ بس قاری صاحب آ جائیں تو اللہ کا نام لے کر میٹنگ شروع کرتے ہیں۔ انہیں بتایا گیا.
ہممم تلاوت ہی کرنا ہے نا، کوئی بھی کر سکتا ہے میں کیے دیتا ہوں، انہوں نے زعم سے کہا. تعوذ تسمیہ کے ساتھ سورۃ الفاتحہ کا آغاز کیا لیکن یہ کیا،،،، زبان اور حافظہ دونوں نے ساتھ چھوڑ دیا۔ وہ آیات جو دن میں کئی کئی بار پڑھنے کا حکم ہے، ایک اعلی تعلیم یافتہ شخص ان کو پڑھ ہی نہ پایا. کسی نے قہقہ بلند کیا اور کسی نے مسکرانے پر اکتفا کیا۔ مقام افسوس کہ یہ نا تو ہنسنے کا مقام تھا نا مسکرانے کا۔ کیا کیجیے کہ یہ محض ایک واقعہ نہیں ہے، یہ ہم سب کی کہانی ہے۔
پلے نرسری کی عمر کے بچوں سے لے کر یونیورسٹیوں میں پڑھتے جوانوں تک سب کو سب کچھ رٹا ہوا ہے۔
نہیں آتا تو نصاب کی آفاقی کتاب کا سبق نہیں آتا۔ وقت نہیں ملتا تو قرآن پاک کھولنے کا نہیں ملتا. اس پر ہم سب ایک دوسرے سے نہایت بھولپن سے اپنے زوال کا سبب پوچھتے ہیں۔
اتنا مبہم سا یہ سویرا کیوں ہے؟
اب بھی تاریکی کا بسیرا کیوں ہے؟
رکھ کر اب جزدان میں سورج سب لوگ؟
پوچھا کرتے ہیں یہ اندھیرا کیوں ہے؟
آج کل ویسے بھی ہر طرف حقوق پر آواز اٹھائی جا رہی ہے۔ کہیں حقوق نسواں زیر بحث ہیں تو کہیں حقوق اطفال کا غلغلہ ہے۔ کوٸی مزدوروں کے حقوق کے لیے لڑ رہا ہے تو کوٸی تاجروں کے لیے۔ یہ سب حقوق سب کو تب ہی مل سکتے ہیں کہ جب ہم قرآن پاک کو اس کے حقوق دیں۔ جان لیں کہ قرآن پاک کے ہم پر یہ پانچ حق ہیں۔
١۔۔ایمان۔۔ ہم قرآن پر ایمان لائیں کہ یہ اللہ کی کتاب ہے۔
٢۔۔ تلاوت۔۔ باقاعدگی سے تلاوت قرآن کو معمول کا حصہ بنایا جائے۔
٣۔۔فہم ۔۔۔قرآن پاک کا حق ہے اس کے مطالب و معنی کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔
٤۔۔عمل اور اس کے احکام کے نفاذ کی کوشش.
قرآن پاک کا ہم پر حق یہ بھی ہے کہ ہم اس میں دیے گئے تمام احکامات کی نہ صرف خود تعمیل کریں بلکہ حکمت و تدبیر کے ساتھ گھر، خاندان اور معاشرے میں اس کے نفاذ کے لیے بھی کوشاں رہیں۔
٥۔۔تبلیغ
جہاں تک ہو سکے قرآن پاک کا پیغام اپنے قول و فعل سے عام کرنے کی سعی کریں۔
آج کے اس نفسا نفسی کے دور میں ہر بندہ حقوق کی جنگ لڑ رہا ہے اور مسلسل یہ جنگ ہار رہا ہے کیونکہ ہم مسلمان قرآن پاک کو وہ حق دینے کے لیے تیار نہیں جس کا وہ حق دار ہے، یوں ہم نہ صرف خیر کے دروازے اپنے اوپر بند کیے بیٹھے ہیں بلکہ اقوام عالم تک بھی خیر کی خبر پہنچانے سے قاصر ہیں۔ ہمارا ایمان ناقص، تلاوت بے اثر ہے. فہم کے ہم طالب نہیں، عمل، نفاذ اور تبلیغ تو میلوں کی مسافت پر ہیں۔
اب اگر ہم انفرادی اور اجتماعی سطح پر اپنے حقوق کی جنگ جیتنا چاہتے ہیں اور دنیا میں امن کے خواہاں ہیں تو ہمیں قرآن پاک کو اس کا حق دینا ہے۔
تو عزیز بہنو!
آج ہی سے کچھ وقت بالخصوص نماز فجر کے بعد کا وقت قرآن پاک کے لیے مختص کریں۔
تلاوت کریں۔
ترجمہ تفسیر پڑھیں۔
جو پڑھیں دن بھر اس پر عمل کے لیے جان کھپائیں۔
اپنے بچوں اور گھر والوں کو اس پر عمل کی دعوت دیں۔
ہر ہر آیت سے اپنا دل، گھر، معاشرہ اور یہ دنیا منور کرنے کا عزم کر لیں۔
قرآن کو حق دیں اور اللہ پاک کی رحمت سے دنیا و آخرت کی خیر پر اپنا حق محفوظ کر لیں۔

