تاریخ کے جھروکوں میں ایک عالیشان محفل سجی ہے۔ دنیا کا سب سے عظیم رہنما اور استاد سنہری الفاظ میں سبق دے رہا ہے۔ سامعین چپ سادھے ان پرکشش باتوں کو سننے میں مشغول ہیں جو دل و دماغ میں اترتی چلی جا رہی ہیں۔ اچانک آواز آنا بند ہو گئی، لوگوں نے دیکھا کہ وہ شخصیت کہیں اور متوجہ ہو گئی ہے۔ دو ننھے پھول ہیں جو کبھی گرتے کبھی اٹھتے ہیں۔ وہ استاد انہیں گود میں لیے منبر پر تشریف لائے اور جو تاریخی بول اس پاک زبان سے ادا ہوئے، وہ کچھ یوں تھے۔ ”بے شک تمھارا مال اور اولاد فتنہ ہیں۔“
وہ عظیم شخصیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تھی اور وہ دو ننھے پھول حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما تھے۔ مگر وہ تنبیہ ان کے لیے نہیں بلکہ ہمارے لیے تھی کہ ان کے لیے نہ مال فتنہ بنا اور نہ ہی اولاد۔ یہاں تک کہ بے ایمان لوگوں نے ان شخصیات کو ہی فتنہ پھیلانے کی وجہ بنا لیا۔ اور یوں عظیم استاد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور بے مثال پیروکاروں رضی اللہ عنہما کی پیروی کو فراموش کر دیا گیا۔
یہ حسن و حسین وہ تھے کہ جنہیں دنیا میں ہی جنتی نوجوانوں کے سردار بننے کی خوشخبری مل چکی تھی۔ یہ دونوں نہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے نواسے بلکہ اللہ کے نبی کی آنکھوں کے نور تھے اور صحابیِ رسول ہونے کا شرف بھی حاصل تھا۔ کبھی کبھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیٹھ سواری ہوتی اور یہ دونوں ننھے شہزادے اس پر ہنستے کھیلتے سوار۔ ان کے نام رکھنے اور عقیقے سے لے کر تربیت تک سب فرائض بہترین طور پر انجام دینے والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے۔ آج اپنے بچوں کے لیے پڑھی جانے والی حفاظت کی مسنون دعا کے لیے بھی ہم ان ہی بچوں کے مرہونِ منت ہیں۔ ہر دفعہ نماز میں درود پڑھتے ہوئے ان پر سلامتی بھیجنا ہماری شریعت کا مطلوب ہے۔
ان کی عظمت بیان کرنے کے لیے میرے پاس کیا الفاظ ہوں گے کہ جن کے والد خلیفہ حضرت علی رضی اللہ و عنہ، جن کی والدہ حضرت فاطمہ جنت میں عورتوں کی سردار، جن کی نانی خدیجتہ الکبریٰ اور جن کے نانا خود محمد مصطفٰی ہوں۔ غرض یہ کہ حضرت حسن و حسین دونوں کی عظمت مسلمہ اور بر حق ہے جس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔
مگر برا ہو ان ظالموں کا جنہوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ پر ظلم کیا۔ اتنی عظمتوں اور بلندیوں کے باوجود تاریخ بتاتی ہے کہ کربلا میں تڑپتے لاشے تھے، سسکتے بچے تھے، آگ اور خون کا دریا رواں تھا، جلے ہوئے خیمے تھے جہاں سے آہوں اور فریادوں کے سوا کوئی آواز نہ آتی تھی۔ یہ جو معصوم بلک رہے تھے، یہ جو سر نیزوں پر اچھالے گئے تھے، یہ جو وجود خاک میں اٹے ہوئے تھے۔ وہی تھے کہ جنہیں کبھی وہ ہونٹ چومتے تھے جن سے وحیِ الٰہی کے مقدس کلمات ادا ہوئے تھے۔ کہ جن سے محبت کرنا نبی کی محبت کا ثبوت دینا ہے۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،
”حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں۔“ ”حسین سے محبت کرنے والے سے اللہ محبت فرمائے۔“پھر بھی اس خاندان کا چشم و چراغ بے دردی سے شہید کر دیا گیا (انا للہ وانا الیہ راجعون)
لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا کہ مقامِ حسین کس بات کا متقاضی ہے۔؟ ان کی زندگی کے حالات و واقعات اپنے اندر کیا پیغام رکھتے ہیں۔؟ ہم بحیثیت مسلمان ان پیغامات کو سمجھ کر اور اپنی زندگی میں لاگو کر کے اللہ کا قرب و رضا کیسے حاصل کر سکتے ہیں۔؟
میدان کربلا میں جب ننھے علی اصغر کو تیر لگا تو انہوں نے اللہ سے فریاد کی، ”اے مالک میری مصیبت کو آسان فرما کہ اس بچے کا خون صالح علیہ السلام کی اونٹنی کے خون سے سستا تو نہیں۔“ دشمن کی فوجیں سامنے تھیں اور موت سر پر منڈلا رہی تھیں لیکن آپ کی زبان پر جاری یہ دعا تھی، ”اے میرے مالک، ہر تکلیف میں تجھ ہی پر اعتماد ہے۔“
یعنی دکھ و مصیبتوں میں اللہ سے التجا و فریاد جاری رکھی۔ اس سے ہمیں توحید خداوندی اور توکل علی اللہ کا گہرا سبق ملتا ہے۔ جب کسی نے آپ سے پوچھا کہ، ”اللہ سے اتنا ڈرتے کیوں ہیں۔؟“ تو جواب دیا، ”روزِ قیامت وہی امن میں ہوگا جو دنیا میں اللہ رب العزت سے ڈر گیا۔“ دعا ہے کہ ہماری زندگی میں اس درجے کا تقوی اور خوفِ خدا پیدا ہو جائے۔
• ایک شخص حضرت حسن اور حضرت علی کو برا بھلا کہتا اور نازیبا کلمات بولتا جا رہا تھا۔ آپ کی برداشت کا یہ عالم تھا کہ آپ مسکرائے جا رہے تھے، اپنے پاس موجود چالیس درہم اس کو پیش کیے اور فرمایا،
”ان سے اپنی حالت درست کر لے، لیکن یاد رکھنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گالم گلوچ سے منع فرمایا ہے۔“ وہ شخص آپ کی برداشت کو دیکھتے ہوئے معذرت خواہ ہوا اور سچے دل سے توبہ بھی کر لی۔ اللہ ہمیں بھی حسنِ اخلاق کے اس درجے تک پہنچا دے۔
• ایک دفعہ اپنے گھر پر مہمانوں کی موجودگی میں مصروف تھے۔ ملازم گرم شوربے کا پیالہ لیے حاضر ہوا۔ ایک تو بڑے لوگوں کی ہیبت پھر آپ کی شخصیت کا رعب و دبدبہ اس کی وجہ سے ملازم کے پیر لڑکھڑائے اور شوربے کا پیالہ گر پڑا جس سے آپ کے کپڑے خراب ہوگئے۔ اور چہرے پرغصہ آ گیا، یہ دیکھ کر ملازم فورا بول اٹھا،
”مومن تو غصہ پی جاتے ہیں۔“ آپ نے جواب دیا، ”خوش ہو جاؤ میرا غصہ ٹھنڈا ہوگیا۔“ ملازم پھر بولا، ”مومن تو معاف کرنے والے ہوتے ہیں۔“ آپ نے جواب دیا، ”جاؤ میں نے معاف کر دیا۔“ اب کہ ملازم نے کہا، ”وہ مالک نیکی کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔“ اس پر آپ نے فرمایا، ”جاؤ تمھیں آزاد کیا اور تمھارا خرچ بھی اپنے ذمے لیا۔“ اللہ ہمیں بھی قرآن کی تلاوت کرنے کے ساتھ ساتھ قرآنی آیات کی عملی تصویر پیش کرنے والا بنا دے۔
• ایک بار آپ کو خبر ملی کہ فلاں آدمی آپ کے بارے میں بہت غلط بول رہا ہے۔ تو غصے کی جگہ کھجوروں کا ایک ٹوکرا لیے اس کے گھر پہنچ گئے اور فرمایا، ”اسے قبول کیجیے، مجھے خبر پہنچی ہے کہ آپ نے نیکیوں کا تحفہ میرے نام کیا ہے تو میں اس کے بدلے میں آپ کے لیے یہ لایا ہوں۔“ اللہ یہ تواضع اور عاجزی ہمارے اندر پیدا کر دے کہ ہم تکبر سے بچتے ہوئے درگزر کا راستہ اپنائے رکھیں۔
• میدانِ کارزار میں جب مسلم بن عقیل کے قتل کی خبر ملی، جب قاسم بن حسن کی لاش کو اٹھا کر علی اکبر کے پہلو میں لٹایا تو کیا فرمایا، ”اے اہلِ بیت! صبر کیجئے، اے چچاؤں کی اولاد صبر کیجئے۔ اس کے بعد تمھیں کوئی تکلیف نہیں آنے والی۔“ سب کو جمع کر کے یہ پیغام دیا، ”میں تمھیں وصیت کرتا ہوں کہ جب میں دشمن کے ہاتھوں مارا جاؤں تو میرے لیے صفِ ماتم نہ بچھانا، نہ گریبان چاک کرنا، نہ رخساروں پر طمانچے مارنا، نہ اپنے چہرے کو زخمی کرنا۔“
زخموں سے چور ہو کر جب لڑکھڑاتے ہوئے زمین پر گرے تو زبان سے یہ کلمہ ادا کیا، ”تیرے فیصلے پر میں صابر اور راضی ہوں۔ اے میرے مالک! تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔“
اللہ ہمیں بھی اپنی زندگی میں آنے والی پریشانیوں اور دین کے راستے میں آنے والے مصائب کے سامنے یونہی صبر و استقلال اور ہمت و استقامت کا پہاڑ بن کر ڈٹ جانے کی توفیق عطا فرمائے۔ کیونکہ دین کے لیے تھامی گئی اسی صبر اور استقامت کی ڈور میں دین و دنیا دونوں ہی کی امامت کا راز ہے، اللہ کی محبت و نصرت کی تائید ہے، کہ صبر کرنے والوں کے لیے اجر عظیم اور جنت کی بشارت دی گئی ہے جو یقیناً برحق ہیں۔ اللہ ہمیں اس دولت سے مالا مال کر دے۔ آمین
اگر ہمیں ان سے محبت ہے تو خوش ہونے کا مقام ہے کیونکہ بدلے میں اللہ رب العزت اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت ملے گی۔ یعنی صرف ایمان کی تجدید نہیں بلکہ یہ محبت بہت سے دنیاوی اور اخروی فوائد کا ذریعہ ہے ۔۔۔ جس کا ثبوت دینے کے لیے ہمیں کسی ماتم کی ضرورت نہیں،
کہہ دو غم حسین منانے والوں کو
مومن کبھی شہید کا ماتم نہیں کرتے
ہے محبت جان سے زیادہ آلِ رسول سے
یوں سرِ عام ہم ان کا تماشا نہیں کرتے
روئیں وہ جو منکر ہیں شہادت ِ حسین کے
ہم زندہ و جاوید کا ماتم نہیں کرتے
نوٹ: رائٹرز کلب اور اس کی پالیسی کا اس تحریر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ writerscpk@gmail.com پر ای میل کردیجیے۔

