Site icon Writers Club Pakistan

اس کو کیا نام دوں؟

تحریر: نوید احمد جتوئی
صبح کے وقت جب ٹھنڈی ہوا کے جھونکے چل رہے ہوں تو نیند کی شدت میں اضافہ ہو جاتا ہے جہاں وقت اٹھنے کا ہو کچھ لمحے مزید نیند اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے، انسان کے ساتھ ایسا ہوتا ہے، میرے ساتھ بھی ہوا ہے۔ صبح صادق اٹھنے کے بجائے سورج کی کرنوں نے اٹھنے پرکردیا۔
اٹھتے ہی نگاہ گھڑی پر پڑی، صبح 9 بجے بجے تھے، یعنی میرے آفس جانے میں باقی 15 منٹ رہ گئے۔ جب وقت کی کمی ہو اور کام بہت زیادہ تو کچھ سمجھ نہیں آتا یہی صورتحال میرے ساتھ تھی۔ خیر تیار ہونے کے بعد ناشتے کی ٹیبل پر پہنچا تو والدہ نے ناشتہ پہلے سے تیار کر رکھا تھا اور مسکراتے ہوئے بولیں میں نے خود نہیں جگایا کہ تم تھکے ہوئے سوئے تھے یہ الفاظ سنتے ہی میں پریشان ہوگیا کہ والدہ کو آج کیا ہوگیا ہے۔ روزانہ ایک بالٹی پانی کی ڈالتی ہیں اور اٹھتے ہی ایک تھپڑ رسید کرتی ہیں ساتھ کچھ مکس اچار والی گالیاں دیتی ہیں پھر ناشتہ نہیں سیدھا آفس کی راہ دکھاتی ہیں آج ایسا کچھ نہیں تھا تو پریشان ہونا بنتا ہے۔
بڑے بھائی صاحب نے میری گاڑی (موٹر بائیک) پہلے سے باہر نکال کر کھڑی کر دی تھی ناشتہ کیا گھر کے باہر نکلا تو پھر سے کچھ پریشانی میں مزید اضافہ ہوا کہ کیونکہ روزانہ بڑے بھائی صاحب کی موٹر بائیک بھی میں ہی نکالتا ہوں اور زرا دیر سے آنے پر بھائی کے غصے کا سامنا کرنا پڑتا ہے آج یہاں بھی مختلف دیکھنے کو ملا اب تو پرشانی کے ساتھ حیرانگی نے بھی ڈیرا ڈلنا شروع کر دیا خیر مجھے ایسا لگا کہ میں نیند میں ہوں ابھی تک ایسا کچھ نہیں ہے اگر ایسا ہوتا تو پہلے والدہ کی طرف سے پانی پھر تھپڑ اسکے بعد بغیر ناشتہ کیے آفس کی طرف روانگی سے قبل بھائی صاحب کی گاڑی نکالنا یہ سب اتفاق نہیں ہوسکتا ہاں ابھی نیند میں ہی ہوں ۔
گھر سے روانہ ہوا تو یہی سوچا کہ اب پتا چلے گا جب بائیک میں پیٹرول ڈلواؤں گا جہاں 280 سے کم کالیٹر نہیں ملتا اور لیٹر کا کچھ پتہ نہیں چلتا یہ تو عموماً سی بات ہے مگر نیند سے تب بیداری ہوتی ہے جب رات کے اندھیرے میں چپکے سے پیٹرول کی قیمتوں میں بھاری بھرکم اضافہ کیا جاتا ہے صبح جہاں 180 روپے لیٹر پیٹرول کی قمیت 280روپے میں ہوتی ہے، پیٹرول پمپ پر پہنچا تو عملے کی جانب سے ایک عجیب سا نظم و ضبط دیکھنے کو ملا ایک صاحب آگے بڑھے اور بڑے پیار سے بولنے گے سر کتنے کا پیٹرول گاڑی میں ڈالوں پہلے تو اس کے رویے نہیں پچھلی حیرانگی میں اضافہ کیا پھر تو جب پیٹرول کی باری آئی تو میرے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی ۔ میں نے اس کو کہا کہ بھائی اس میں 280 کا پیٹرول ڈال دیں صاحب مسکرا کر بولنے لگے سر 200 سے میں ٹنکی فل کر کے دے رہے ہیں رات کو حکومت نے اعلان کر دیا ہے بڑا ریلیف مل گیا ہے یہ سنتے ہوئے میری آنکھوں کے ساتھ منہ بھی کھل گیا ایسا بھی ممکن ہے اور وہ بھی پاکستان میں ! لڑکے نے پیٹرول دیا اور 80 روپے بھی واپس کردیئے ۔
اب تو بھیا موڈ بھی اچھا ہوگیا اور حکومت کی تعریفوں کے پھل باندھ دیے اور یہ بات قابل زکر ہے کہ آج ٹریفک میں کوئی کھلل نہیں ٹریفک کی روانی میں نظم وضبط دیکھنے میں مل رہا تھا یہ بھی کسی عجوبے سے کم کا نظارہ نہیں تھا اچانک ہی ٹریفک پولیس کے اہلکاروں پر نظر پڑی اب تو موڈ کا ستھیا ناز ہوگیا کیونکہ ٹریفک پولیس والے ( جنکو عام الفاظ میں ٹلے ) بھی کہا جاتا ہے بغیر رشوت کے چھوڑتے ہی نہیں خیر آج میرے پاس 80 روپے بچے ہوئے تھے وہی نکال کر سائیڈ پر رکھ لیئے ٹریفک اہلکار جلدی سے سامنے آیا اور رکنے کا اشارہ کیا رکنے پر اہلکار قریب آیا اور سب سے پہلے تو سلام کیا اس کے بعد میرے آگے ہیلمٹ جو ٹنکی پر کھا تھا اس کو اٹھایا اور مجھے پہناتے ہوئے کہنے لگے کہ بیٹا یہ آپ کی سیفٹی کے لیے ہے ناکہ موٹر سائیکل کی سیفٹی کے لیے اب آپ جا سکتے ہیں ، میں تو بلکل ہل گیا ایسے چونکا دینے والے واقعات رونما ہو رہے ہیں جن پر کبھی یقین نہیں کیا جاسکتا ۔
اب باری آفس کی ہے پارکنگ کے قریب پہنچا وہ گنجا سامنے بیٹھا ہوا تھا جس کے ساتھ روزانہ لڑائی ہوتی ہے بائیک پارکنگ کرنے میں، پارکنگ مین خود اٹھا اور میرے قریب آکر مجھے بولنے لگا نوید بھائی گاڑی مجھے دیں میں اس کو وہاں لگادیتا ہوں رات کو نکلنے میں آسانی ہو جائے گی میں اس کے منہ کو تکتا رہ گیا کہ جب روزانہ اس کو بولتا ہوں کہ مجھے گاڑی وہاں پارک کرنے دیں تو صاحب سختی سے منا کر دیتا ہے لڑائی کر کے پارک کرنے کے بعد جب رات کو چھٹی ملتی ہے تو گاڑی دوسرے جگہ پارک ہوئی ملتی ہے جہاں سے نکالتے ہوئے آدھا گھنٹہ مزید لگ جاتا ہے آج یہ خود کہہ رہا کہ اس کو میرا احساس ہو گیا ہے، یہ کیا ہو رہا ہے میرے ساتھ اب تو دماغ، آنکھیں، منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔
آفس پہنچا تو باس کا بلاوا آگیا ساتھ وہ فائل لیتے آنا جو کل دی تھی کام کے لیے اب تو سوچ میں پڑگیا کہ گھر سے لیکر آفس تک سب اچھا بلکہ زندگی میں کبھی نا ہونے والے واقعات ہوئے ہیں اب موڈ میں بہت اچھا ہو گیا تھا اس کو کیا جواب دونگا کہ میں نے کام مکمل نہیں کیا آج جلدی آنے کی بجائے دیر سے آیا ہوں الٹا کام نامکمل خیر باس کے آفس میں پہنچا تو باس آج خود بہت خوش مزاج میں نظر آرہے تھے۔ ہلکی ہلکی مسکراہٹ ساتھ میں ہونٹوں سے گن گنانے کی آواز گویا کہیں کھوئے ہوئے نظر آرہے تھے۔ ویسے تو سارا دن غصے میں رہتے ہیں ان سے بات کرنے کو دل نہیں کرتا قصور نا ہونے کے باجود بھی ڈانٹ ڈبٹ چلتی رہتی ہے۔

آج اس کو کیا ہوا کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا، میں نے باس کو بولا کہ سر کام ابھی نامکمل ہے بس اتنا کہنا تھا کہ باس نے بغیر کچھ سنے بولے بیٹا کوئی بات نہیں سارا دن کام کرتے ہوئے تھک جاتے ہو۔ آپ بھی انسان ہو جائے جب مکمل ہوجائے لے آنا آج بھی مکمل نا ہو تو کوئی بات نہیں کل دے دینا۔
جب یہ سارے واقعات رونما ہوئے تو مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا کروں اور ایسے زندگی میں کبھی نا ہونے والے واقعات نے مزید حیرانگی میں اضافہ کردیا اب تو بالکل سمجھ نہیں آرہی کہ یہ کیا تھا اور اس کو کیا نام دوں۔

مجھے تو واقعی سمجھ نہیں آرہا اگر کسی اور کے ساتھ ایسا ہوا تو وہ بخوبی جانتا ہوگا کہ یہ کیا تھا اور اس کو کیا نام دوں۔

Exit mobile version