السلام علیکم! ناظرین میں ہوں ۔۔۔۔ اور آپ دیکھ رہے ہیں اے آر جے ڈراماز کا یوٹیوب چینل۔
آج ہم آپ کو بتائیں گے جیو ٹی وی کے ڈرامہ سیریل فطور کی قسط 43-44 میں پائی جانے والی کچھ ٹیکنیکل غلطیوں کے متعلق جو کہ یقینا ہر کسی ڈرامے میں ہوتی ہیں
دلنشین جو کہ اس ڈرامے میں فیصل قریشی کی بیوی کا کردار ادا کر رہی ہیں وہ اور حمزہ کا ایکسیڈنٹ ہوتا اور ان کو اسپتال لایا جاتا ہے اور ان کے اہل خانہ اسپتال پہنچتے ہیں تو چونکہ کورونا ایس او پیز پر عمل کرنا ضروری ہوتا ہے ڈرامے کا پورا عملا اس پر عمل درآمد نہیں کرتا یقینا یہ بات غلط ہے
پھر تین کرسیوں کے درمیان والی کرسی پر نشان لگایا ہوا ہے کہ یہاں نہیں بیٹھنا تو حمزہ کی بہن اسی جگہ بیٹھ جاتی ہے اور کوئی اسے روکتا بھی نہیں جبکہ ڈائریکٹر صاحب کو پتا بھی ہے کہ یہ ایکسیڈنٹ حقیقت میں نہیں ہوا کم از کم یہاں تو خیال کرلیتے بھیا جی۔۔۔۔ اب اتنا حقیقی رنگ بھی نہ دیں کہ سنجیدہ غلطی کر جائیں۔
چلیں جی آگے دیکھیے، دلنشین کے میاں جی کو فون لگایا پولیس والے انکل نے اور وہ فورا پہنچے، جلد بازی میں بندہ جیسے کھڑا ہوتا ہے پہنچتا ہے پر یہ کیا، یہاں تو فیصل قریشی جو کہ شوہر نامدار ہیں گھڑی اتار کر آگئے، حالانکہ یہاں ان کو وقت دیکھنے کی اشد ضرورت پڑنی تھی ، اب ایسے تو نہ کریں لوگ کیا کہیں گے بیوی سے جان چھڑانا چاہتے ہیں۔
لیجیے جناب پولیس والے انکل نے فون کیا تو پوچھا بھئی آپ ہی دلنشین کے میاں ہیں؟ فیصل قریشی کہتے ہیں جی، اور پھر وہ نکل پڑتے ہیں مگر جیسے وہ اسپتال پہنچتے ہیں پولیس والے انکل پوچھتے ہیں آپ حیدر، یعنی ان کو نام کا پتا چل جاتا ہے جبکہ بیوی نے فون میں فقط ہاسبنڈ جی لکھا ہوا نام سیو کیا ہوا ہوگا۔۔۔ پولیس والے انکل بھی غائبانہ جانکاری کے ماہر لگتے ہیں
پھر جب فیصل قریشی یعنی حیدر اپنی ماں کو لے کر واپس گھر جاتا ہے تو وہاں اس کے ہاتھ میں گھڑی پھر سے آجاتی ہے اور ساتھ میں دوسرے ہاتھ میں کڑا بھی آگیا، قریشی صاحب ٹھیک جارہے ہیں آپ، ایک دن کے لیے نہ پہنتے تو کیا چلا جاتا،
دلنشین سے سب ناراض ہوکر چلتے بنتےہیں مگر ان کی ماں اور بھابھی بیٹھے رہے ہیں، مگر کوئی بھی ان کے پاس نہیں گیا، ارے ارے یہ کیا، اس بیچاری کے کان تو خالی ہیںابھی کچھ دیر پہلے تو ٹپس پہنے ہوئے تھے، لگتا ہے اسپتال والوں نے پہلا کام یہی کیا کہ اتار لیں، یا پھر ڈائریکٹر صاحب نے سوچا اب تو ویسے بھی سورہی ہیں یہ کسی اور کے کام آجائیں گی نکال لیں، ویسے یہ بات کچھ جچی نہیں اپنے کو
اب بات کرتے ہیں قسط 43 کی دلنشین اپنی ساس کے ساتھ باتیں کررہی ہیں جہاںپر ان کے بائیں ہاتھ میں چار کنگن ہیں اور بائیں میں ایک ہے، جب وہ باہر حمزہ سے مل کر واپس کمرے میں جاتی ہے تو اس کے کنگن کا رخ بدل جاتا ہے، یعنی ادھر کے ادھر ادھر کے ادھر آجاتے ہیں،
ارے یہ کیا، جوتی بھی بدل گئی، مطلب دلنشین نے کمرے میں رہنے کے لیے الگ اور باہر جانے کے لیے الگ جوتی رکھی ہوئی ہے، ویسے خاصا مشکل کام ہے یہ سمجھوتا کرنا کہ کونسا کب کیسے پہننا ہے۔
یہاں بات دلنشین کی ہی نہیں ساسوں ماں کو بھی کچھ ایسی دقت کا سامنا ہے۔
ساسو ماں کام کرواتے وقت ہاتھوں میں چوڑیاں گلے میں ہار پہنے ہیپی ہیپی بیٹھی ہیں۔
پھر اٹھ کر کمرے کا رخ کرتی ہیں تو ارے یہ کیا ان کے تو سب کچھ اتار لیا گیا،لگتا ہے کرایہ پورا ہوگیا ہوگا تو ایسے نمٹا دیا۔
پھر دلنشین جب ساسوماں سے ہوتے ہوئے حیدر سے ملتی ہے تو وہاں پھر سے جادو ہوجاتا ہے اور سب کچھ ویسا ہوجاتا ہے جیسا تھا، دونوں چوڑیاں اپنی جگہ اور جوتی بھی پہلے والی۔
چلیں جی آپ کو ایک اور جادو دکھاتے ہیں
دلنشین جھوٹ بول کر حمزہ سے ملتی ہے، شاپنگ مال سے اس کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ کر سڑک کنارے جارہے ہیں۔
اب حمزہ کی سائیڈ پر ایک ہی سین بار بار گھومے جارہا ہے، لیکن حمزہ ایک جگہ گاڑی روک لیتا ہے
پھر سین بدلتا ہے حیدر کا گھر دکھایا جاتا ہے
پھر سین پلٹتا ہے، ارے یہ کیا یہ گاڑی اچانک سے سڑک سے کسی گھر کے آگے کیسے پہنچ گئی، دلنشین کی طرف پاکستان کا جھنڈالہرا رہا تھا وہ جگہ بھی غائب، اور حمزہ کی طرف سے باہر گھر دکھنے لگا۔ گاڑی میں جادو ہے جو رکے رکے گھومتی پھر رہی ہے۔

