تحریر: نمرہ مرزا اور فریال بشیر شیخ
ماسٹر بین الاقوامی تعلقات عامہ
تعلیم ایک رسمی اور باضابطہ مطالعہ ہے جو کسی فرد کو اسکول، کالج یا یونیورسٹی میں مختلف مضامین، کورسز اور خصوصاً مخصوص شعبوں میں حاصل ہوتی ہے۔ جہاں ایک شخص پڑھتا ہے، مہارتیں سیکھتا ہے، ڈگری حاصل کرتا ہے اور سسٹم کے تحت کام کرتا ہے۔
دوسری جانب، آگاہی عمومی اور بنیادی علم پر مشتمل ہوتی ہے جیسے کہ مختلف قوانین، ذمہ داریوں، صحیح اور غلط کی پہچان، اور یہ جاننا کہ معاشرے میں عمومی طور پر کیا ہو رہا ہے۔ آگاہی دراصل کسی فرد کی سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت کا نام ہے۔ یہ ایک شخص کو یہ ادراک دیتی ہے کہ وہ اپنی تعلیم، سیکھے گئے علم اور مہارتوں کو کس طرح استعمال کرے۔
آگاہی ایک راستہ فراہم کرتی ہے کہ ایک فرد اخلاقی، سماجی اور انسانی بنیادوں پر فیصلے کیسے کر سکتا ہے۔ جب کہ تعلیم کا تعلق کتابوں، رسمی تعلیم، طریقہ کار، تکنیکوں اور نظریات سے ہوتا ہے، آگاہی ہمیں بتاتی ہے کہ کیا، کیوں، کب اور کیسے ہمیں کوئی کام کرنا چاہیے۔ آگاہی میں ہم اخلاقیات اور اقدار کو دیکھتے ہیں۔
اکثر لوگ کہتے ہیں کہ تعلیم اور آگاہی ایک ہی چیز ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ بہت سے لوگ جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں، وہ اخلاقی طور پر آگاہ نہیں ہوتے، جبکہ کئی ایسے افراد جو تعلیم یافتہ نہیں یا کم تعلیم یافتہ ہوتے ہیں، وہ بنیادی قوانین، اصولوں اور صحیح و غلط سے واقف ہوتے ہیں۔
تعلیم معاشرے میں ایک اہم ذریعہ ہے؛ تعلیم کا زور ہوتا ہے “کیا” پر، جب کہ آگاہی “کیوں” اور “کیسے” پر مرکوز ہوتی ہے۔ سب سے پہلے ہمیں آگاہی کو سمجھنا چاہیے۔ جب ہمارے ذہن میں کوئی سوال آتا ہے، جیسے کہ “دنیا کیوں اور کیسے بنی؟” تو ہم اس پر تحقیق کرتے ہیں۔ پہلے آگاہی ذہن میں آتی ہے، پھر ہم مطالعہ کرتے ہیں۔
تعلیم اور آگاہی کے نتائج میں فرق ہوتا ہے۔ آگاہی کا مقصد لوگوں کے رویے اور عقائد کو ایک مخصوص مسئلے کے بارے میں بدلنا ہوتا ہے، جبکہ تعلیم کا مقصد علم، مہارت اور ایسی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہوتا ہے جو زندگی کے مختلف شعبوں میں استعمال ہو سکیں۔
یہاں ہم چولستان پروجیکٹ کی مثال بھی بیان کر سکتے ہیں۔ بہت سے لوگ دراصل جانتے ہی نہیں تھے کہ یہ منصوبہ کیا ہے؟ انہیں اصل معاملے کا علم نہ تھا، لیکن انہوں نے اجتماعی احتجاج کیا، ایک آواز بنے، اور یہ ایک بڑا مسئلہ بن گیا کیونکہ انہیں صرف اتنا پتہ تھا کہ کچھ غلط ہونے جا رہا ہے یا ایک صوبے کے لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے، جو کہ نہیں ہونی چاہیے۔ دوسری طرف، وہ لوگ جو اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے، طاقتور پوزیشنز پر تھے، اور بیوروکریسی سے وابستہ تھے، وہ خاموش رہے، انہوں نے کوئی مزاحمت نہیں کی۔
ایسے کئی اور واقعات ہیں جن کی مدد سے ہم تعلیم اور آگاہی میں فرق کو بیان کر سکتے ہیں۔ مثلاً، کراچی جیسے بڑے شہر میں، ڈگری یافتہ لوگوں کی موجودگی کے باوجود بھی شہریوں میں شہری شعور، ٹریفک قوانین کی آگاہی، صفائی ستھرائی، اور قانون کی پابندی کا فقدان نظر آتا ہے۔ جس کی وجہ سے کوڑے کرکٹ کے مسائل، غلط پارکنگ، پانی کا ضیاع اور سڑکوں پر خطرات جیسی مشکلات سامنے آتی ہیں۔
یہ صرف تعلیم کی بات نہیں ہے؛ لوگوں میں سماجی ذمہ داری اور شہری شعور کی بھی آگاہی ہونی چاہیے۔
تعلیم ڈگریاں دیتی ہے، لیکن آگاہی ذمہ داری کا احساس پیدا کرتی ہے۔
کراچی کی معاشرتی مسائل کی جڑ بنیادی طور پر آگاہی کی کمی ہے۔
آگاہی مہمات لوگوں کو ان کے حقوق جیسے کہ تعلیم کے حق، صحت، ماحولیاتی تحفظ، غربت میں کمی، مالی شعور، اور خواتین کے خلاف تشدد کی روک تھام جیسے موضوعات پر معلومات فراہم کرتی ہیں۔ مؤثر تعلیم اور آگاہی مہمات اکثر حکومت، غیر سرکاری تنظیموں، اور نجی اداروں کے درمیان شراکت سے چلائی جاتی ہیں تاکہ مختلف علاقوں اور آبادیوں تک پیغام پہنچایا جا سکے۔
مندرجہ بالا سب کے ساتھ ساتھ، ہمارے معاشرے میں خواتین کی تعلیم کا مسئلہ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، جس میں ہم تعلیم اور آگاہی دونوں کو بیان کر سکتے ہیں۔
“کچھ ثقافتوں میں خواتین کو ثانوی تعلیم حاصل کرنے سے اس لیے روکا جاتا ہے کہ اگر وہ تعلیم حاصل کر لیں گی تو وہ اپنے حقوق سے آگاہ ہو جائیں گی اور انسانی حقوق کے خلاف ہونے والے مظالم پر آواز اٹھائیں گی۔”
مثال کے طور پر، اگر کوئی تعلیمی مہم نو عمر حمل کی شرح کو کم کرنے کے لیے بنائی گئی ہو، تو اس کا ہدف 12 سے 18 سال کے نوجوان ہوں گے۔ جبکہ ویکسینیشن سے متعلق مہم کا ہدف بچے اور بالغ دونوں ہوں گے۔ بعض اوقات یہ مہمات معاشرے کے وسیع تر طبقوں کو بھی ہدف بناتی ہیں۔
ایک اور مثال انسدادِ تمباکو نوشی کی مہمات کی ہے، جنہوں نے دنیا بھر میں سگریٹ نوشی کی شرح کم کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ان مہمات نے لوگوں کو سگریٹ نوشی کے مضر صحت اثرات کے بارے میں تعلیم دی اور انہیں سگریٹ چھوڑنے کی ترغیب دی۔ اس کے نتیجے میں پھیپھڑوں کے کینسر اور دیگر بیماریوں کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے۔
آخر میں، اگرچہ آگاہی اور تعلیم دونوں اہم تصورات ہیں، لیکن یہ دائرہ کار، شمولیت کی سطح، اور نتائج کے اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ آگاہی کسی خاص مسئلے کی جانب توجہ دلانے کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے، جبکہ تعلیم کسی فرد کو زندگی میں کامیابی کے لیے درکار علم اور مہارت فراہم کرتی ہے۔
آگاہی مہمات قلیل مدتی رویوں کی تبدیلی لا سکتی ہیں، جب کہ تعلیم طویل مدتی سوچ اور رویوں میں تبدیلی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

