Site icon Writers Club Pakistan

خود کو ناپسند کرنے کی وجوہ-شافعہ افضل

ہم میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو خود کو شدّت سے ناپسند کرتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں زندگی میں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لوگ بھی انہیں پسند نہیں کرتے اور وہ کوئی بھی کام خوداعتمادی سے نہیں کرپاتے۔ ہر کام کو کرتے ہوئے متذبذب رہتے ہیں کہ صحیح کر رہے ہیں یا نہیں۔ اس کی بہت ساری وجوہ ہو سکتی ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:
1۔ ظاہری شکل وصورت اور جسمانی ساخت:
ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ لوگوں کو پرکھنے کا پیمانہ ظاہری شکل وصورت اور جسمانی ساخت ہے۔ کوئی شخص، جو ظاہری طور پر خوش شکل ہے، ہماری نظر میں اچھا ہے اور اگر اس میں کوئی کمی ہے یا وہ خوش شکل نہیں ہے، تو وہ برا ہے۔ اس وجہ سے بہت سے لوگ احساسِ کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جیسے بہت موٹے یا بہت زیادہ دبلے یا سانولی رنگت والے لوگ۔ ان کے آس پاس کے لوگ اور بعض اوقات ان کے اپنے گھر والے، انھیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ وہ اچھے نہیں ہیں۔ اس طرح وہ خود کو ناپسند کرنے لگتے ہیں۔
2۔ اہلیت:
ہمارے معاشرے میں اچھائی کا ایک اور پیمانہ زیادہ مال دار ہونا ہے۔ زیادہ پیسے والے شخص کو لوگ زیادہ قابل سمجھتے ہیں اور غریب کو نااہل۔ چاہے اس کے اندر کتنی ہی اچھائیاں موجود ہوں، وہ معاشرے میں کامیاب فرد نہیں مانا جائے گا۔ عزت ملنے کا ذریعہ بھی پیسہ اور دولت ہے۔ جس کے پاس جتنا زیادہ پیسہ ہے، وہ اتنا ہی عزت دار ہے، چاہے وہ کردار کے لحاظ سے صفر ہی کیوں نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کے احکام کی نافرمانی کیوں نہ کرتا ہو، اسے عزت دار ہی سمجھا جائے گا۔ اس کے برعکس غریب آدمی کو جینے کا حق بھی مشکل سے ملتا ہے، عزت تو دور کی بات ہے۔ اس طرح کم حیثیت والے لوگ خود کو مجرم اور ناکام سمجھنے لگتے ہیں۔
3۔ بے جا تنقید:
خود کو ناپسند کرنے کی ایک بڑی وجہ بے جا اور حد سے زیادہ تنقید بھی ہے۔ کچھ لوگوں کو بچپن ہی سے اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مثبت تنقید انسان کو سنوارتی ہے، اسے بہتری کی طرف لے جاتی ہے لیکن اگر یہی تنقید حد سے بڑھ جائے تو انسان کا اعتماد ختم کر دیتی ہے اور اسے ایسا لگتا ہے، جیسے وہ زندگی میں کچھ بھی کرنے کے قابل نہیں ہے۔
4۔ ناخوش گوار حادثات:
بعض مرتبہ ہماری زندگی میں ایسے ناخوش گوار واقعات پیش آجاتے ہیں، جو ہمیں خود کو ناپسند کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ ایسے حادثات ذہن پر ایسے اَن مٹ نقوش چھوڑ جاتے ہیں جو مٹائے نہیں مٹتے۔ کسی قریبی رشتے دار کی بے وقت موت، کوئی گہری چوٹ یا جان لیوا حادثہ ہمیں ذہنی تناؤ کا شکار کر دیتا ہے۔
بہت عرصے اسی کیفیت کا شکار رہنے کی وجہ سے اکثر لوگ بے زار ہو جاتے ہیں اورخود کو ناپسند کرنے لگتے ہیں۔ بچپن میں پیش آنے والے واقعات انسان کی نفسیات تبدیل کر دیتے ہیں۔ ان کی وجہ سے اکثر بچّے مستقل خوف کا شکار رہتے ہیں۔ اجنبیوں سے بات کرتے ہوئے ڈرتے ہیں اور ان کے اندر اعتماد کی شدید کمی ہو جاتی ہے جو بڑے ہونے کے بعد بھی بر قرار رہتی ہے۔
5۔ تشدّد:
تشدّد کی بہت ساری قسمیں ہو سکتی ہیں۔ جسمانی، ذہنی اور جنسی۔ یہ ساری اقسام انسانی شخصیت پر بے انتہا برے اثرات مرتب کرتی ہیں۔ ان سے گزرنے والے افراد کبھی نارمل نہیں رہ پاتے۔ وہ آئندہ آنے والی زندگی میں دوسروں کے لیے بھی خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔ لوگوں کے ساتھ اس طرح تعلق نہیں رکھ پاتے جیسے دوسرے لوگ رکھتے ہیں۔ اس وجہ سے انھیں لوگوں کی نفرت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لوگ انہیں قبول نہیں کرتے اور وہ خود کو ناپسند کرنے لگتے ہیں۔ وہ اس صورت حال کا ذمے دار خود کو سمجھتے ہیں۔
ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ وہ ایسے کسی واقعے کا ذمے دار اسی شخص کو ٹھہراتا ہے جس پر وہ گزرا ہو۔ خاص طور پر لڑکیوں اور خواتین کو۔ جنسی تشدّد کا شکار ہونے والوں کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ اسے دوسروں پر ظاہر نہ کریں۔ اس طرح اس کا ارتکاب کرنے والوں کو مزید شہ ملتی ہے اور وہ مزید لوگوں کے ساتھ ایسا کرتے ہیں یا ایک ہی شخص کے ساتھ بار بار یہی عمل دہراتے ہیں۔ بعض دفعہ گھر میں رہنے والے افراد ہی اس مکروہ فعل کے مرتکب ہوتے ہیں اور متاثرہ شخص لحاظ، مروت، کسی قسم کے ڈر یا یقین نہ کیے جانے کے خوف سے کسی سے کچھ کہہ نہیں پاتا۔
انسان کی شخصیت پر سب سے زیادہ اثر اس کے والدین کا ہوتا ہے۔ والدین کی ذمے داری محض یہ نہیں ہے کہ وہ بچّے پیدا کر لیں اور انھیں جیسے تیسے پال لیں۔ بچّوں کو تحفظ دینا، ان کی صحیح تربیت کرنا اور ان کی شخصیت سازی بھی والدین کا فرض ہے۔ والدین کو اپنی پوری کوشش کرنی چاہیے کہ بچوں کو برے حالات اور برے لوگوں سے بچائیں۔ انھیں صحیح، غلط، اچھے، برے کی تمیز کرنا سکھائیں۔ انھیں خود سے محبت کرنا سکھائیں۔
٭……٭……٭

Exit mobile version