Site icon Writers Club Pakistan

ڈیجیٹل اسکلز اور آج کی دنیا

تحریر: عائشہ فلک، حضرو
ہم پتھروں کے دور سے ڈیجیٹل دور میں داخل ہوچکے ہیں۔ بیسویں صدی کے ایجادات کا ایک لامحدود سلسلہ شروع ہوچکا ہے جو کہ تاحال جاری ہے۔ یہ ایک لمحہ کا کھیل نہیں اس کے پیچھے سالوں کی محنت ہے۔ جوں جوں دنیا جدت اختیار کررہی ہے تو لوگوں کے رہن سہن سے لے کر کمانے اور کھانے کے طریقوں میں بھی فرق آگیا ہے۔

آج اگر ہم خود کو نہیں بدلیں گے تو بہت پیچھے رہ جائیں گے۔ ہمیں اپنے بچوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید اسکلز کی اہمیت بتانی ہوگی تا کہ وہ ناصرف ان اسکلز اور مہارتوں سے واقف ہوسکیں بلکہ سیکھ کر نئی دنیا میں اپنا مقام بھی بناسکیں بلکہ میرا ذاتی خیال ہے والدین کے علاوہ یہ چیز ہمارے اسکول و کالجز میں بھی بتائی جانی چاہیے اور سکھانے کے لیے گورنمنٹ اور پرائیوٹ سیکٹر کو بھی پالیسی بنانی چاہیے اگرچہ ان جدید اسکلز کو سیکھنے کے لیے یوٹیوب، گوگل اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا سہارا لیا جاسکتا ہے جہاں ہر بہت بہترین انداز میں سکھایا جاتا ہے۔
اسکلز کی کئی اقسام ہیں جیسے کہ سوشل میڈیا مارکیٹنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، گرافک ڈیزائنگ، کاپی رائٹنگ اور کانٹینٹ رائٹنگ وغیرہ۔ جو سب سے بہترین شکل ہے وہ ڈیجیٹل مارکیٹنگ ہے مگر آپ اپنی دلچسپی کے مطابق انتخاب کرسکتے ہیں چونکہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس آچکی ہے تو اس کو سیکھنا ہر ایک کے بے حد ضروری ہے کیونکہ مستقبل میں ہر ملازمت کا انحصار اسی پر ہوگا۔ ہمارے ملک میں کئی لوگ بھی ڈیجیٹل اسکلز سیکھ مفت بھی سیکھا رہے ہیں۔ ہاشم سرور اور عرفان ملک دونوں اپنے یوٹیوب چینل اور سوشل میڈیا پر مفت سیکھا رہے۔

اس کے علاوہ پاکستان کی آفیشل گورنمنٹ ادارہ ڈی جی اسکلز بھی مفت میں یہ کورسز سیکھا رہے ہیں ناصرف یہ بلکہ سرٹیفکیٹ بھی جاری کیے جاتے ہیں اور مسلسل رہنمائی بھی کی جاتی ہے۔ بہرحال ان تمام اسکلز کو اگر کالج اور اسکول لیول سے سیکھایا جائے تو ہمارے نوجوان تعلیم مکمل کرنے کے دوران اور بعد میں وقت ضائع کیے بغیر فوری طور پر کمانے کے لیے تیار ہوسکتے ہیں اور اپنے ملک اور اپنی تقدیر بدل سکتے ہیں۔
”ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں“

Exit mobile version