Site icon Writers Club Pakistan

بیٹی ہونے اور بنانے میں فرق

آدرش نواز (رکن)

آج علیزے کو دیکھنے کیلئے چند لوگ آ رہے تھے۔ گھر میں گہما گہمی تھی۔ سب اپنے اپنے کام نمٹا رہے تھے۔ علیزے کافی بے چین لگ رہی تھی۔ شاید یہ کیفیت گھر کی سب سے بڑی بیٹی ہونے کی اور بھائی نہ ہونے کی وجہ سے تھی یا پھر اجنبی لوگوں کے ساتھ کسی بندھن میں بندھنے کا خوف تھا۔ رشتے والے آگئے تھے سب خاطر تواضع میں مگن تھے۔ علیزے کی ہونے والی ساس علیزے کو دیکھ کر مسلسل اس کی بلائیں لے رہی تھی ۔ علیزے کو دیکھ کر بار بار ما شاء اللہ بول رہی تھی ۔ “ہم آپ کی بیٹی کو بہو نہیں بلکہ اپنی بیٹی بنا کر لے جائیں گے” علیزے کی ساس نے علیزے کو دیکھتے ہوئے کہا ۔علیزے کی ساس کے یہ الفاظ اسکی تمام بے چینیوں کو جسے بہا کر لے گئے ہوں۔ اُس کے دل میں خوشی کی ایک لہر دوڑنے لگ گئی۔ وہ کافی مطمئن ہو گئی کہ میرے سسرال والے کم از کم روایتی سسرال والے نہیں لگ رہے یہ تو مجھے بیٹیوں کی طرح رکھیں گے۔

کچھ عرصے بعد علیزے کی شادی ہو گئی ۔ شادی کے بعد کچھ عرصے تک رسمی خاطر تواضع اور نمائشی پیار محبت کا سلسلہ چلتا رہا ۔ آخر کار سسرال تھا، کیسے اتنا عرصہ کوئی دکھاوے کی محبت نبھا سکتا ہے؟ آہستہ آہستہ علیزے کی ساس نے گھر کی تمام ذمہ داریاں علیزے کو سونپ دی ۔ ایک دن علیزے بہت بیمار تھی ،وہ صبح جلدی نہ اٹھ سکی ۔علیزے کی ساس آگ بگولہ ہو گئی ،اُس نے تو جیسے آسمان سر پہ اُٹھا لیا ہو۔ یہ تمہارے باپ کا گھر نہیں ہے جہاں تم جب مرضی سے سو جب مرضی ہو اٹھو۔بیمار ہی ہو مری تو نہیں ہو ناں ۔ یہ الفاظ سُننے کی دیر تھی کہ علیزے کے قدموں سے جیسے زمیں چِھن گئی ہو ۔ شاید اس نے اپنی ساس کا اصلی روپ پہلی بار ریکھا تھا ۔ ایک دم سے علیزے کو اپنی ساس کی کہی ہوئی وہ بات یاد آ گئی ” ہم آپکی بیٹی کو بہو نہیں بلکہ بیٹی بنا کر لے جائیں گے”

کیا بیٹی کہہ دینا کافی ہوتا ہے ؟
ماں باپ ساری عمر بیٹی کو نازوں سے پالتے ہیں۔ بیٹی کی آنکھوں کی نمی ماں باپ کو اندر سے توڑ دیتی ہے ۔ ماں باپ اپنی بیٹی کے بارے میں کوئی ایک بُرا لفظ بھی برداشت نہیں کر سکتے۔ باپ ہر کڑے وقت میں بیٹی کیساتھ کھڑا ہوتا ہے ۔ ماں بیٹی کیلئے ایسی گھنی چھاؤں بن جاتی ہے جس کے آنچل میں بیٹی خود کو پُر سکون محسوس کرتی ہے ۔ ایک باپ ساری عمر محنت مزدوری کر کے بیٹی کی فرمائشیں پوری کرتا ہے ۔ ماں باپ ساری عمر کی جمع پونجی لگا کے بیٹی کیلئے جہیز بناتے ہیں تاکہ ہماری بیٹی کو کوئی طعنہ نہ دے۔ ہماری بیٹی کو کوئی اس بات سے پریشان نہ کرے کہ تم لائی ہی کیا ہو۔ کیا کوئی اور یہ سب کر سکتا ہے؟ کیا ساس، سسر یہ ساری قربانیاں دے سکتے ہیں ؟ کیا ساس ماں بن کے اپنی بہو کو اپنی بیٹی جیسا پیار دے سکتی ہے؟ کیا سسر بہو کو بیٹی جیسا پیار دے سکتا؟ کیا سُسر باپ جیسا مضبوط سائبان بن سکتا ہے جو اپنی بیٹی کی طرف آنے والے ہر طوفان سے لڑ جائے؟
نہیں ناں چاہ کر بھی نہیں ۔اگر یہ سب انکی اپنی بیٹی کیساتھ ہو تو ان کیلئے ناقابلِ برداشت ہو جاتا۔ تو پھر یہ دعویٰ کیسا کہ ہم بہو نہیں بیٹی بنا کر لے جا رہے۔ وہ جو شادی سے پہلے بیٹی بنانے کا دعویٰ کرتے ہیں شادی کے بعد وہ اپنی اس نام نہاد بیٹی سے کہتے ہیں کہ یہ جو تم اتنی عیش و عشرت سے زندگی گزار رہی ہو یہ سب تم اپنے باپ کے گھر سے نہیں لائی ہو۔ میرے بیٹے کی محنت کی کمائی ہے۔
تو کیا کوئی ماں باپ اپنی بیٹی کو یہ طعنہ دیتے ؟ نہیں ناں

بیٹی کی طرف اُٹھنے والی ایک گندی نگاہ باپ کا کلیجہ چھلنی کر دیتی۔
خدارا یہ دعویٰ کرنا چھوڑ دیں کہ ہم اسے اپنی بیٹی بنا کر لے جا رہے کیونکہ وہ بیٹی پھر خوش فہمیوں کی مالا پرو لیتی ہے کہ اگلے گھر بھی میں ایسے ہی شان و شوکت سے رہوں گی۔ اور پھر جب آہستہ آہستہ اس مالا کی گانٹھ ڈھیلی ہونے لگتی ہے تو وہ ننھی کلی بکھر جاتی ہے اس کی روح زخمی ہو جاتی ہے ۔ آپ بہو کو بہو کی حیثیت سے بھی اگر بیاہ کر لے جائیں اور اسکے تمام حقوق پورے کریں تو یہ بھی بہت ہوگا۔ کیونکہ بیٹی کے جھوٹے دعوے سے بہو کا مقام بہت بلند ہے۔ یہاں بہو کے فرائض بتائے جاتے ہیں اور حقوق کو پامال کرنے کی کاوشیں کی جاتی ہیں۔ آپ کسی کا لختِ جگر اپنے گھر لاتے ہیں اس کو عزت دیں ،پیار دیں، محبت دیں۔ یہ سوچ کر اُس کے ساتھ اچھا برتاؤ کریں کہ آپ کی بیٹی نے بھی کسی کی بہو بننا ہے ۔تو کیا آپ اپنی بیٹی کیلئے یہ سب برداشت کر سکیں گے؟ اگر نہیں تو پھر خود کو بدلیں، اپنی سوچ بدلیں اپنا انداز بدلیں کیونکہ یہ دنیا مکافاتِ عمل ہے۔ جو آپ کریں گے وہ لوٹ کر ضرور آئے گا ۔ کسی کی بیٹی کی آہوں کی وجہ نہ بنیں۔ انتخاب آپ کا اپنا ہے کہ آپ اپنی بیٹی کو خوش اور مطمئن دیکھنا چاہتے ہیں یا نہیں ۔
اللہ کریم سب بیٹیوں کے نصیب اچھے کرے (آمین)

Exit mobile version