تحریر: آدرش نواز، رکن
اں انسان مِل جُل کر رہتے ہوں وہاں مختلف معاشرے اور تہذیبیں وجود میں آتی ہیں ۔ہر انسان کا اندازِ فکر دوسرے انسانوں سے مختلف ہوتا ہے ،اس طرح جب مختلف افکار کے لوگ ایک ساتھ رہنے لگتے ہیں تو مختلف تہذیبیں تشکیل پاتی ہیں ۔ایسا نہیں ہوتا کہ ہر ملک کی تہذیب بالکل منفرد ہو بلکہ کچھ ممالک تو ایسے بھی ہیں جو مختلف تہذیبوں کو ضم کر کے اپنی ایک تہذیب بنا لیتے ہیں ۔کسی بھی ملک کی تہذیب اس کے مذہب کی نمائندگی کرتی ہے ۔اور ہر انسان کا اپنے مذہب سے گہرا لگاؤ ہوتا ہے کیونکہ مذہب نہیں تو پھر وجودِ انسان کسی مٹی کے ڈھیر کے سوا کچھ نہیں ۔جیسے پوری دنیا میں بے شمار تہذیبیں ہیں اسی طرح مذاہب بھی مختلف ہیں۔ لیکن ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارا یہ ماننا ہے کہ مذہب تو صرف اِسلام ہی ہے باقی سب سرابِ نظر ہے۔ ہر مذہب پہ غالب آنے والا مذہب الحمدللہ اسلام ہی ہے ۔ تہذیب مذہب کی نمائندگی کرتی ہے ۔ہمارے رسم و رواج ہماری تہذیب کا حصہ ہوتے ہیں ۔ہماری تہذیب ہمارے مذہب کی عکاسی کرتی ہے ۔میرے خیال سے ہر ملک کی تہذیب منفرد ہونی چاہیے تاکہ آسانی سے ہر کوئی پہچان سکے کہ انکا تعلق کس مذہب سے ہے ۔ کیونکہ ہماری پہچان ہمارا مذہب ہوتا ہے ۔
تہذیب کا تعلق کسی ایک خاص ملک سے نہیں ہوتا ہے بلکہ ایک ہی تہذیب مختلف ممالک اپنا سکتے ہیں ۔تہذیب کو پُر اثر بنانے میں جس چیز کا سب سے زیادہ ہاتھ ہے وہ مذہب ہے۔ ہر ملک یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنی تہذیب کو مستحکم بنائے۔ ہر چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں اچھا اور بُرا۔ضروری نہیں کہ ہر ملک پابند ہو کہ وہ صرف اپنی متعلقہ تہذیب کو ہی اپنا سکتا ہے بلکہ کوئی بھی ایسی چیز جو ہمیں نفع پہنچائے ،ہمیں اپنی طرف متوجہ کرے ہم اس کو اپنا سکتے ہیں ۔انسان کے اپنے اختیار میں ہوتا ہے کہ وہ کس قسم کی روایات کا حصہ بننا چاہ رہا ہے ۔ تہذیب وتمدن مذہب کی بنیاد ہے۔ہم میں سے بیشتر لوگ خود اپنی زندگی کو مشکل بنا لیتے ہیں ۔اور وہ مشکلات ہمارے انتخاب کا نتیجہ ہوتی ہیں ۔ہم ایسی روایات کو فوری اپنا لیتے ہیں جو فضولیات پہ مبنی ہوتی ہیں ،جو مشکلات میں اضافے کا باعث بنتی ہیں ۔لیکن وہ سب چیزیں جو ہمارے محدود وسائل میں آسانی سے ہو سکتی ہوں وہ ہمیں نظر نہیں آتی ہیں ۔نظر آئیں بھی تو ہم اسے ارادی طور پہ نظر انداز کر دیتے ہیں کیونکہ بقول ہمارے اگر معمولی چیزوں کو اپنا لیا تو معیار برقرار نہیں رہے گا ۔ فضولیات ہماری ترجیحات بن چکی ہیں ۔ جیسے سالگرہ منانا اب تقریباً ہر امیر ،غریب گھر کا لازمی جزو بن گیا ہے ۔برتھ ڈے کو سب سے پہلے مصری فراعین نے شروع کیا ۔ پھر جرمن بیکری والوں نے اس کیلئے سب سے پہلے کیک بنانا شروع کر دئیے اور اس طرح یہ مغربی تہذیب کا لازمی جزو بن گیا۔ لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اب تقریباً پوری دنیا میں تمام تہذیبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے اسکو اپنی زندگی کا اہم ایونٹ بنا لیا ہے جیسے اسکے بغیر تو رہ ہی نہیں سکتے۔
بہت سی تہذیبیں ایسی ہیں جو حکومتوں کے کنٹرول میں ہیں ۔جیسے مغربی تہذیب حکومت کے کنٹرول میں ہے ۔لیکن بہت سے ایسے ممالک بھی ہیں جن میں حکومت اور عوام کی آراء میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔اختلاف جھگڑے کی بنیاد ہوتا ہے اور جھگڑا امن کا دشمن ہوتا ہے جس سے فساد بڑھتا ہے۔اور بعض اوقات وہ فساد جنگ کی صورت اختیار کر لیتا ہے ۔ اس زمانہ جدید میں کسی بھی تہذیب کے بنانے یا بگاڑنے میں میڈیا کا کردار ناقابل فراموش ہے ۔ آج اگر مغربی تہذیب ہر طرف چھائی ہوئی ہے تو اس میں مغربی میڈیا کا بہت بڑا کردار ہے ۔ ہمیں کسی بھی تہذیب کو ٹارگٹ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اگر ہم نکتہ چینیوں کی سطح پہ آ گئے تو پھر تصادم کی راہیں ہموار ہو جائیں گی اور دنیا کا امن برباد ہو جائے گا ۔پُرامن معاشرے کے حصول کیلئے ہمیں چاہیے کہ جو چیز ہمیں جس تہذیب کی پسند آئے اسے اپنا لیں ورنہ اسے نظر انداز کر دیں۔ جیسے رومنز نے سب سے پہلے موم بتیاں لگانے کا رواج اپنایا کیونکہ ان کا عقیدہ تھا کہ اسے بدروحیں بھاگ جاتی ہیں۔ پھر جب روم عیسائی ہوا تو یہ ایونٹ بھی عیسائی مذہب کا حصہ بن گیا لیکن یہ ضروری نہیں کہ ہر تہذیب کے لوگ اسے اپنائیں ۔کبھی بھی اپنی تہذیب کو کسی دوسری تہذیب سے کم تر نہ سمجھیں ۔ تہذیب انسان کے اندر رَچ بس جاتی ہے ۔ ہر انسان کا اپنی تہذیب کے ساتھ گہرا لگاؤ ہوتا ہے ۔ہر تہذیب کو لچکدار ہونا چاہیے ۔ اگر کوئی ملک یہ چاہتا ہے کہ اسکی تہذیب کا چرچا ہو تو پھر اسے اپنی تہذیب کو پُرکشش اور منفرد بنانا چاہیے تاکہ دیکھنے والا گرویدہ ہو جائے اور اسے کسی بھی قسم کی کوئی وضاحت نہ دینی پڑے ۔ ہمیں اپنے اندر ہر اس تہذیب کو اپنانے کی لچک رکھنی چاہیے جو ہماری بقا کیلئے فائدہ مند ہو ۔اور ہر ایسا شخص ،ہر ایسی تہذیب جو خسارے کا باعث بنے اسے ترک کر دینا چاہیے ۔ اب یہ ہمارے انتخاب پہ منحصر ہے کہ ہم اپنے لیے آسانیاں چُن رہے ہیں یا پھر تہذیبوں کے ٹکراؤ کی تکرار میں اپنی زندگیوں کو اجیرن بنا رہے ہیں ۔ اچھے یا بُرے راستے کا انتخاب ہمارے اپنے اختیار میں ہوتا ہے ۔ ہمارا صحیح انتخاب ہماری منزل کو ہمارے قریب کر دیتا ہے۔ تصادم اذہان کو الجھا دیتے ہیں اسلیئے تصادم سے بچیں اور امن کو برقرار رکھیں۔

