گلی میں شور تھا، بچے کھیل رہے تھے، پڑوس کے گھر سے ایک صاحب نے بچوں کو ڈانتے ہوئے خاموش رہنے کی تلقین کی۔ انکل! آج تو نہ ڈانٹیں، آج تو بچوں کا دن ہے، کھیلنے والے بچوں میں ایک بچے نے بڑی معصومیت سے کہا۔ مجھے حیرت کا جھٹکا لگا، ان کو بھی معلوم ہے کہ ان کا دن ہے۔ بچہ وضع قطع میں سلجھا ہوا لگ رہا تھا۔ میں نے اشارے سے بچے کو اپنے پاس بلایا اور پوچھا، آپ کو کیسے پتا۔ بچے نے جھٹ سے کہا، ٹی وی پر دیکھا۔
بچوں کے عالمی دن پر بچوں کو علم ہونا بھی نیک شگون ہے۔ ایسے میں بچوں کو یہ امید ہوتی ہے آج کا دن ان کا ہے اور اس دن کوئی ان سے کچھ بھی نہ کہے۔ وہ خوشی سے جو چاہئیں کریں، ممکنہ طور پر بہت سے علاقوں یا معاشروں میں بچوں کو مکمل آزادی نہیں ہوتی۔ یہ اچھی یا بری بات ہے اس سے قطع نظر مگر ایساہے۔ اب یہ آزادی ڈھونڈنے کے لیے وہ مختلف طریقے اپناتے ہیں، ان میں سے زیادہ تر طریقے غلط ہوتے ہیں جو آگے چل کر بچوں کی بنیادی تربیت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ اکثر اوقات بچے بہت ہی انوکھی ترکیبیں لگاتے ہیں جو ان کی تخلیقی صلاحیتیوں کا منہ بولتا ثبوت بھی ہوتی ہیں مگر وہ اپنی آزادی کو حاصل کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔
پہلی بات تو ہے کہ بچوں کو اپنے بڑوں کا کہا ماننا چاہیے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے جس کو درست سمجھ رہے ہوتے ہیں وہ نہیں جانتے ہوتے کہ وہ کام یا وہ چیز ان کے لیے مناسب نہیں ہے۔ جبھی ان کے بڑے ان کو منع کر رہے ہوتے ہیں۔ جیسے ہمارا چھوٹو اکثر گھر سے باہر نکل جاتا ہے، اب وہ سمجھتا ہے کہ اسے منع کرنا اس کی آزادی پر قدغن ہے مگر ہم جانتے ہیں کہ باہر کا ماحول خطرناک ہے، اس کو کوئی اٹھا کر لے جاسکتا ہے، یا پھر کوئی نقصان پہنچا دے گا۔ بعض اوقات کھانے کی کچھ چیزیں جو غیر معیاری ہوتی ہیں۔ ان سے منع کرنے پر بچے کو لگتا ہے کہ وہ اس کے کھانے پینے پر پابندی لگا دی گئی مگر وہ نہیں جانتا کہ اس کے کھانے سے اس کی طبیعت خراب ہوجائے گی اور پھر وہ نہ اسکول جاسکے گا اور نہ کھیلنے الٹا کمزور ہوجائے گا۔
جہاں تک یہ بات ہے کہ والدین یا بڑوں کی جانب سے خواہ مخواہ کی پابندیاں لگائی جائیں یہ بات قطعی طور پر درست نہیں ہے۔ بچے ہمارے آنگن کا پھول ہوتے ہیں اگر وہ کھلیں گے نہیں تو نہ آنگن خوبصورت لگے گا اور نہ ہی اس میں مہک آئے گا۔ اس طرح ان کی چہکار سے زندگی کا پتا ملتا ہے۔ اس چہکار پر پابندی لگا دی جائے گی تو وہ گھر یا وہ محلہ کسی قبرستان کی ماند لگنے لگے گا۔ بڑے ہونے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ بچوں سے شفقت کا رویہ بھول کر سختی ہی اپنائیں بلکہ ایک بہتر اور اچھا انسان وہ ہوتا ہے جس کی بات اس کے ماتحت یعنی بچے اس سے ڈر کر نہیں بلکہ اس کی رضا مندی کے لیے مانیں۔
بچوں پر تشدد کا رواج بھی عام ہوتا جارہا ہے۔ گزشتہ روز ہمارے سامنے والے گھر سے ایک بچے کی چیخنے کی آواز سنائی دی۔ کسی نے جا کر نہیں پوچھا کہ کیا ہورہا ہے۔ میں نے جاکر دروازہ کھٹکھٹایا تو ایک صاحب ہاتھ میں بیلٹ پکڑے پیسنے میں شرابور غصے میں ہانپتے کاپنتے باہر آئے۔ بڑی سختی سے مجھ سے آنے کی وجہ پوچھی، جب میں نے بچے کو پیٹنے پر منع کیا تو وہ بپھر گئے اور مجھے بھی سخت بر بھلا کہنے لگے۔ خیر میں نے پھر بھی اسے منع کیا اور بعد ازاں پولیس میں رپورٹ کرنے کی دھمکی دی تو ہی وہ جاکر کہیں ٹھنڈے ہوئے۔
اس واقعے پر مجھے دو باتیں سمجھ آئیں، ایک تو یہ ہے کہ بچوں پر تشدد کیا رویہ بڑھ رہا ہے مگر اس سے زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ کوئی ان کو منع نہیں کررہا۔ سب کا کہنا تھا کہ اس کا بچہ ہے وہ چاہیے اسے مارے پیٹے ہم کیوں منع کریں۔ یہ بات کسی بھی بے حس معاشرے کی نمائندگی کرتی ہے۔ بچے سب کے سانجھے ہوتے ہیں۔ ان کی خوشی اور غمی میں سب شامل ہیں۔ بچوں کو مار پیٹ سے سمجھانے سے بہتر ہے آپ ان کو پیار سے محبت سے سمجھائیں۔ نہ سمجھیں تو ان کو نفسیاتی طور اچھے اور برے کی تمیز سے روشناس کرائیں۔ وہ معصوم ہیں ان کو فورا سمجھ آجائے گا۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے والدین کے باغی بن جاتے ہیں۔ یعنی بچوں کو ہمیشہ یہ لگتا ہے کہ ان کے والدین یا گھر کا کوئی ایک فرد جو ان سے بڑا ہے وہ اس کا مخالف ہے۔ یہ بات کئی بار کچھ رویوں کی سختی کی وجہ سے آتی ہے۔ اپنے گھر کا ماحول آپ کو خود کو دیکھنا ہے۔ بچوں کو بھی یہ بات سمجھنی چاہیے کہ کہیں وہ غلط تو نہیں سوچ رہے۔ ممکن ہے جس کو وہ اپنے مخالف سمجھ رہے ہوں وہ ان کی کسی ایک غلطی کی وجہ سے ہو اور باقی کی اچھائیوں کو وہ نظر انداز کررہا ہو۔
بچو! یہ دن آپ کا اپنا ہے اس میں باتیں تو بہت ہیں آپ کو بتانے والی اور آپ کے حق میں کہنے والی مگر بس اتنا یاد رکھیے کہ گھر میں آپ کی بہت اہمیت ہے۔ آپ کے اپنے آپ کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں اس محبت اور شفقت کا ناجائزہ فائدہ مت اٹھائیں۔ ان کی بات کو مانیں، اچھے اور برے کی تمیز کریں اور ایک خاص بات جو آپ کو بتانی تھی وہ آج کے دن کے لیے بہت خاص ہے اس بات کو ہمیشہ یاد رکھنا ہے۔
بچوں کا دن صرف آپ کا ہی نہیں بلکہ ان بچوں کا بھی ہے جو بہت غریب ہیں، جن کے پاس نہ پیسے ہیں اور نہ گھر، وہ کہیں جھونپڑیوں میں رہتے ہیں یا پھر وہ کچے مکانوں میں گزر بسر کررہے ہیں تو آپ نے ان کا بھی خیال رکھنا ہے۔ ایک دن کے لیے نہیں بلکہ ان کا ہمیشہ خیال رکھنا ہے۔ آپ کی کلاس میں اگر کوئی ایسا بچہ ہے جو غریب ہے اس کو اپنے لنچ میں شامل کرلیا کریں، گلی محلے میں کوئی غریب بچہ رہتا ہے تو اپنے کھلونے ان سے شیئر کرلیا کریں۔ یہ سب کرنے سے اللہ آپ سے بہت خوش ہوگا اور آپ کو وہ سب کئی گنا بڑھا کر دے گا جو آپ دوسروں کے لیے وقف کریں گے۔
بچوں کے دن کے حوالے سے ایک سمجھداری والی بات بتاتا چلوں، آج کل بہت سارے بچے اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ نہ اسکول جاپاتے ہیں اور نہ ہی وہ زندگی کی معیارات کو حاصل کرپاتے ہیں، تو حکومت وقت اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور اداروں کو اس پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ بچوں کے ساتھ ہونے والے غیر معمولی واقعات بھی بڑھ رہے ہیں ان پر بھی توجہ کرنے ضرورت ہی نہیں عملی اقدامات کی بھی ضرورت ہے۔ جس کے لیے گزشتہ کئی برسوں سے صرف باتیں ہی سننے کو ملی ہیں مگر کچھ ہوا نہیں ہے جس کی وجہ سے اب یہ حالات مزید کشیدہ ہوچکے ہیں۔
بچوں کے حقوق کے لیے بچوں کو بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔ آپ بھی اپنے حق کی خاطر آواز اٹھائیں اور اپنے والدین کو اس پر مجبور کریں کہ وہ اپنے محکمے یا ادارے کے سربراہ ہونے کے ناطے اس پر عملی اقدامات کے لیے آواز اٹھائے۔ یوں آپ کے اس عمل سے کسی غریب، مظلوم یا مجبور بچے کو اس کے حق کے ملنے میں مدد ملے گی اور آپ کو ڈھیر سارا ثواب ملے گا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
نوٹ: رائٹرز کلب اور اس کی پالیسی کا اس تحریر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ writerscpk@gmail.com پر ای میل کردیجیے۔

