کہتے ہیں سفر کامیابی کا ذریعہ ہوتا ہے اگر سفر میں دشواری ہیں پریشانی آجائے تو یہ سفر مصیبت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ نیل آرمسٹرانگ نے جب چاند گاڑی کے ذریعے چاند پر قدم رکھا تو کسی بھی عینی شاہد نے نہیں دیکھا اور وہ تاریخ کا حصہ بن گیا ہوگا۔ روشنیوں کا شہر آپ نے سنا ہو گا، خوشبو کا شہر آپ نے سنا ہوگا شہر بھی دیکھا ہوگا لیکن کبوتروں کا شہر نہیں دیکھا مجھے ایک مرتبہ کبوتروں کے شہر جانے کا اتفاق ہوا۔
ایک مشہور اور معروف چوک پر اترنے کے بعد میں اپنی منزل مقصود پر پہنچنے کے لئے ایک چاند گاڑی پر بیٹھ گیا جاپان کے شہر ہیروشیما ناگا ساکی پر جب امریکہ نے ایٹم بم گرایا تو ہر طرف تباہی پھیل گئی اس تباہی اور بربادی کے بعد صرف ایک چیز صرف ایک چاند گاڑی بچی، جس کو کلی نقصان پہنچنے کے بجائے جزوی نقصان پہنچا، شومیے قسمت کے یہ وہی چاند گاڑی تھی جو ہیروشیما کے حملے کے بعد بچ گئی تھی۔
چاند گاڑی کا کوچوان مجھے ایسے پکڑ کر لے گیا جیسے قیدیوں کو جیل سے پولیس والے عدالت میں پیشی پر لے جاتے ہیں میرے چاند گاڑی پر بیٹھنے کے بعد اچانک کھڑاک کی آواز آئی، اس خطرناک آواز نے دل و دماغ کی کوچیں ہلا کر رکھ دی تھیں، سر چکرا گیا، دل کی دھڑکن تیز ہوگئی آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا گیا۔ خود کو تسلی دی، دل ہی دل میں خود کو سمجھایا کہ ”ڈرو مت ڈر کے آگے جیت ہے۔۔۔۔۔۔ اگرچے میری باقی کی بات سامنے لگے ڈیو کے بورڈ نے پوری کردی تھی ”ڈیو نہ کیا تو کیا جیا” میں نے ساتھ والی سواری سے زور دار دھماکے کی وجہ پوچھی تو مجھے بھائی نے بتایا کہ چاند گاڑی اسٹارٹ ہوگئی ہے۔
چاند گاڑی منزل کی طرف رواں دواں تھی میرے سامنے مختلف محکموں مختلف کمپنیوں کے سائن بورڈ آویزاں تھے ایک سائن بورڈ جو محکمہ مخولیات کا سائن بورڈ تھا جس کے اوپر تحریر آویزاں تھی کہ کبوتروں کو پکڑنے والے کو پولیس کے حوالے کر دیا جائے گا جب میں نے آنکھیں میچ کر دوبارہ دیکھا تو وہ محکمہ ماحولیات کا تھا۔ جس کے نیچے ایک پولیس والا بیٹھا قیلولہ فرما رہا تھا، پُل کے نیچے جگہ جگہ پر کبوتروں نے اپنے گھونصلے بنائے ہوئے تھے اور غول کے غول پڑھ رہے تھے چاند گاڑی اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھی میرے ساتھ آگے 3 خواتین اور ارطغرل غازی کی طرح مسلح ہوکر بیٹھی تھیں جنہوں نے ڈھال کے طور پر اپنے سامنے ایک ایک بچہ کھڑا کیا ہوا تھا جو ان کو ہر قسم کے خطرات سے محفوظ کیے ہوئے تھا۔
چاند گاڑی میں 1990ء کی دہائی کا میوزک چل رہا تھا جو میوزک سنائی تو درکنار محسوس بھی نہیں ہو رہا تھا جس کی وجہ سے چاند کا پائلٹ جب نیچے اترا تو اس کا انداز ایسا تھا جیسے وہ خطروں کا کھلاڑی کے ٹو اور ماؤنٹ ایوریسٹ کا پہنا لگتا ہوں وضع قطع سے یوں معلوم ہوتا تھا کہ مولا جٹ فلم کا ہیرو ہوں جو ابھی ابھی شوٹنگ کر کے آیا ہوں اور اپنا بیس سال سے فرض منصبی خوش اسلوبی سے ادا کر رہا ہے میری منزل آگئی تھی اب میری قوت جواب دے چکی تھی، ایک اور زور دار دھماکہ ہوا اور چاند گاڑی رک گئی۔
میں نیچے اترا تو میرے کپڑوں پر جگہ جگہ تیل اور گریس کے داغ اور دھبے لگے ہوئے تھے اول تو مجھے غصہ آیا لیکن پھر میرے دل میں خیال آیا کہ داغ تو اچھے ہوتے ہیں۔۔۔

