Site icon Writers Club Pakistan

بائیکاٹ – ام سلمان

رات کے دو بجے تھے اور نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ ذہن مستقل تانے بانوں میں الجھا ہوا تھا۔ سمجھ میں نہیں آرہا، کیا کروں؟ عرشیہ نے برابر میں سوئی ہوئی اُم ِکلثوم کا کندھا ہلایا، نیند نہیں آرہی آپی! کب سے کروٹیں بدل رہی ہوں۔ اٹھیں ناں پلیز…. میری بات سنیں آپی! عرشی! پلیز…. سو جاؤ، آدھی رات کو تنگ نہ کرو۔ کلثوم کروٹ لے کر پھر سوگئی۔آپی پلیز…. اٹھ جائیں، میرا دل گھبرا رہا ہے۔ عرشی روہانسی ہوکر بولی۔
کلثوم نے آنکھیں کھول کے چھوٹی بہن کی طرف دیکھا، دو موٹے موٹے آنسو آنکھوں سے لڑھک جانے کے لیے بے تاب نظر آرہے تھے۔ کیا بات ہے عرشی! میری گڑیا رانی کیا ہوا تمہیں؟ کیوں رو رہی ہو؟ کلثوم سے اس کے آنسو دیکھے نہ گئے۔ آپی! مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔ ذرا سی دیر آنکھ لگی تھی تو بہت ڈراؤنا خواب دیکھا۔ اب میں سونا نہیں چاہتی کہیں پھر وہ خواب نہ نظر آجائے۔ کلثوم نے اسے ساتھ لگا کر تسلی دی۔ فکر نہ کرو میری بہنا، میں ہوں ناں تمہارے ساتھ۔ کیا خواب دیکھا تھا مجھے بتاؤ؟ اور بے ساختہ عرشیہ کی سسکیاں بلند ہوگئیں۔
کیا بتاؤں آپی! وہ بہت برا خواب تھا، بہت ہی برا۔ ملعون یہودی گیرٹ نظر آیا مجھے، وہ بہت قہقہے لگا رہا تھا۔ کہہ رہا تھا تم لوگ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، تم مجھے روک نہیں سکتے۔ وہ میرا مذاق اُڑا رہا تھا آپی۔ میری طرف ہاتھ کے اشارے کرکے ہنس رہا تھا، وہ کہہ رہا تھا، ارے تم لوگ ہوکیا چیز؟ ہمارا کھاتے ہو اور ہم ہی پر غرّاتے ہو۔ ہاہاہاہا…. تمہیں تو ہم دیکھ لیں گے۔ وہ بہت بھیانک قہقہے لگا رہا تھا۔ میرا بس نہیں چل رہا تھا کہ میں اس کا خون کر دوں، اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دوں لیکن میں کچھ نہیں کر پائی اور وہ ملعون قہقہے لگاتا ہوا چلا گیا۔ عرشیہ سسکتے ہوئے بولی۔ آپی ہماری حکومت کچھ کرتی کیوں نہیں؟ ہالینڈ پر دباؤ کیوں نہیں ڈالتی؟ ہمارے حکم ران ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب کیوں نہیں دیتے آپی؟ ہم تو ایٹمی طاقت ہیں ناں…. پھر ہم کیوں ڈرتے ہیں، کچھ کرتے کیوں نہیں؟ عرشیہ نے ایک ساتھ کئی سوال کر ڈالے۔ کاش! کاش…. میں اپنی جان دے کے بھی ان مقابلوں کو رکوا سکتی۔ کاش! میں کچھ کرسکتی۔ عرشیہ گہرے دکھ کے ساتھ بولی۔
اُم کلثوم چپ چاپ اس کے سوگوار چہرے کو دیکھتی رہی پھر بولی، حکومت سے کیا امید رکھیں عرشی! اب کوئی نورالدین زنگی نظر نہیں آتا؟ یہاں سب کو اپنی پڑی ہے اور تمہیں پتا ہے، تمہیں یہ خواب کیوں نظر آیا؟ وہ ملعون یہودی کیوں تم پر ہنس رہا تھا؟ کیوں کہ اس گھر میں سب سے زیادہ یونی لیور کی پراڈکٹس تم ہی لے کر آتی ہو۔ ہر نئی چیز کا خمار چڑھتا ہے تمہیں۔ کنور کے سوپ، نوڈلز اور نہ جانے کون کون سے زبان کے چٹخارے ہیں،جن کے بغیر تمہارا گزارا نہیں۔ چائے لپٹن اور سپریم کی، دودھ ڈبوں کا اور وہ پوڈر والا دودھ، جسے تم خشک ہی پھانکتی رہتی ہو۔ ٹینگ، والز آئسکریم، کورنیٹو اور میگنم چاکلیٹ کھائے بغیر تمہارا دن نہیں گزرتا یہاں تک کہ تم تحفے میں بھی لوگوں کو یہی چیزیں دیتی ہو گویا، خود تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے۔ پھر بھی وہ ملعون یہودی اگر تم پر نہ ہنسے، تو کس پر ہنسے گا؟
عرشیہ کے دل پر بجلی سی گری۔ لیکن آپی! اتنے سارے لوگ تو بائیکاٹ کر رہے ہیں، اگر میں یہ چیزیں کھا بھی لیتی ہوں تو کیا فرق پڑتا ہے؟
فرق پڑتا ہے عرشی! فرق پڑتا ہے…. اُم کلثوم زور دے کر بولی۔ قطرہ قطرہ دریا بنتا ہے، اگر ہر بندہ تمہاری طرح سوچ کر بیٹھ جائے کہ ایک صرف میرے کھانے سے کیا فرق پڑے گا تو بتاؤ پھر یہ تحریک تو بالکل بے جان ہو کر رہ جائے گی۔ فرق تو تب ہی پڑے گا جب ہر بندہ اپنی جگہ مضبوطی دکھائے گا اور عزم واستقلال کا پیکر بنے گا۔ تم سمجھتی ہوکہ کیا صرف ناموسِِ رسالت ﷺ کی پوسٹ شئیر کرنے سے حق ادا ہو جائے گا؟ نہیں میری بہنا نہیں…. محبت قربانی مانگتی ہے۔ محبت کا پودا ایسے نہیں پنپتا، اسے سچے جذبوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کی جڑوں میں خواہشات کا بہتا لہو ڈالا جاتا ہے، یہ پودا خون ِجگر سے سینچا جاتا ہے تب کہیں جا کر تناور درخت بنتا ہے۔
میری بہن! محبت ہے تو کچھ کر کے دکھاؤ، کوئی عملی ثبوت دو، ورنہ آج تو صرف خواب دیکھا ہے ایسا نہ ہو کل قیامت کے دن یہ خواب حقیقت بن جائے۔ حُبِِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاطر اپنی خواہشات کو قربان کرنے والے نبی علیہ السّلام کی اقتدا میں ایک طرف کھڑے ہوں اور زبان کے چٹخارے لینے والے، شاید اس ملعون یہودی کے ساتھ دوسری طرف۔ فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے عرشی!
یہ بات سن کر عرشی کی روح تک کانپ گئی۔ ایسا تو نہ کہیں آپی! مجھے ڈر لگتا ہے ایسی باتوں سے۔ عرشیہ دل ہی دل میں قائل ہو رہی تھی مگر دوستوں کی کہی باتیں اب بھی سوال اٹھا رہی تھیں سو پوچھ بیٹھی۔ لیکن آپی! کچھ لوگ کہتے ہیں، بس ہم اپنی غلطیاں سدھار لیں۔ اسلام پہ عمل کریں، سنّت کے طریقوں پر چلیں، بس یہی ہماری ذمے داری ہے۔ عرشیہ نے سوالیہ نظروں سے بہن کی طرف دیکھا۔
یقینا یہ سب کچھ کرنا چاہیے اور لازمی کرنا چاہیے۔ اچھے اعمال کی برکات یقیناً باطل کا زور توڑ سکتی ہیں لیکن آج جو صورت حال ہے تو صرف اتنا کرلینا کافی نہیں ہے۔ میری بہن! جب کوئی موذی بیماری لگ جائے تو صرف دوادارو کرنا کافی نہیں ہوتا بلکہ پرہیز بھی کیا جاتا ہے۔ بہت سی پسندیدہ غذائیں چھوڑنی پڑتی ہیں جیسے شوگر کے مریض میٹھا چھوڑ دیتے ہیں بالکل اسی طرح ہمیں بھی دوا کے ساتھ ساتھ پرہیز بھی کرنا ہے۔ زبان کے ان تمام چٹخاروں سے مکمل پرہیز یعنی دوا کے طور پر دین اسلام اور سنّت نبوی پر عمل اور پرہیز کے طور پر کفار کی مصنوعات کا بائیکاٹ۔ تب کہیں جا کے ہم اپنے مقصد کو پہنچیں گے۔
دیکھو تو…. رات کے تین بج گئے اور پتا ہی نہیں چلا۔ اُم کلثوم نے گھڑی کی طرف دیکھا۔ میں تہجد کی تیاری کر لوں۔ یہ کہتے ہوئے وہ وہاں سے اٹھ گئی۔ دوا کے ساتھ ساتھ پرہیز اور پرہیز کے ساتھ اپنے مقصد میں کام یاب ہوجانے کی دعا بھی مانگنی تھی۔ ابھی تو بہت آنسو بہانے تھے۔ رب کریم کو وہ درد دکھانا تھا جو دل میں ٹیسیں بن بن کے ابھرتا ہے۔ اسی کریم ذات سے اپنے منصوبوں کی کام یابی کی دعا کرنی تھی۔ وہی تو ہے جو مضطرب دل کی فریاد سنتا ہے۔ رات کے پچھلے پہر اُم کلثوم اپنے رب کے سامنے ہاتھ پھیلائے سسک رہی تھی اور عرشیہ عزم کر چکی تھی۔ محبت کے لیے قربانی تو دینی پڑتی ہے۔ تو کیا میں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت میں اپنی یہ کھٹی میٹھی بے کار سی خواہشات قربان نہیں کرسکتی؟ کیوں نہیں، بالکل کر سکتی ہوں اور میں ایسا کروں گی، ان شاء اللہ۔ کسی کو فرق پڑے یا نہ پڑے، مجھے تو قیامت کے روز اپنے نبی ﷺکی معیت چاہیے۔
٭……٭……٭

Exit mobile version