تحریر: ثروت اقبال، کراچی
کتابیں انسان کی بے غرض ساتھی ہیں جو نہ صرف اس کے ذہن کی تسکین کا سامان فراہم کرتی ہیں بلکہ اس کے دل کی گہرائیوں میں ایک نیا آہنگ پیدا کرتی ہیں۔ کتابوں کی حقیقت محض لفظوں تک محدود نہیں، بلکہ وہ ایک ایسی داخلی کیفیت کی ترجمانی کرتی ہیں جو بیرونی دنیا سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور پراسرار ہے۔ جب انسان کتابوں سے عشق کرتا ہے تو وہ دراصل اپنے آپ کو مکمل طور پر بے نقاب کرتا ہے کیونکہ کتابوں میں چھپے ہوئے خیالات اور فلسفے انسان کی اندرونی دنیا کے سچے عکاس ہوتے ہیں۔ جیسے عظیم یونانی فلسفی افلاطون نے کہا تھا۔
“علم کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ آپ نے جتنا سیکھا ہے، اتنا ہی آپ کو اپنی لاعلمی کا احساس ہوتا ہے۔”
کتابیں محض کسی ذہنی مشغلے کا نام نہیں رہیں، بلکہ یہ ایک روحانی سفر بن چکی ہیں۔ جب کتابیں اوڑھنا بچھونا بن جاتی ہیں تو یہ کسی وجود میں گہری جڑوں کی مانند ہوتی ہیں جہاں ہر صفحہ مزید سوالات کی جانب مائل کرتا ہے۔
فرنچ فلسفی رنیے دیکارٹ نے کہا تھا!
“میں سوچتا ہوں۔ اس لیے میں ہوں۔”
کتابوں کے صفحات میں خود کو کھو دینا دراصل ایک خود شناسی کا سفر ہے۔ جب کتابیں انسان کی زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں، تو وہ اپنی ذات کی ساری پرتوں کو دوبارہ بنانے کے عمل سے گزر رہا ہوتا ہے۔
کتابوں کی خوشبو میں ایک عجب نوع کی الجھن اور سکون کا امتزاج ہوتا ہے۔ یہ خوشبو ایک ایسا دروازہ کھولتی ہے، جو ماضی، حال اور مستقبل کے خیالات کو اپنے اندر سمو لیتا ہے۔
جب انسان کتابوں کو محسوس کرتا ہے، تو وہ دراصل اپنے اندر کی وہ جگہ ڈھونڈتا ہے جہاں الفاظ صرف الفاظ نہیں رہتے بلکہ وہ ایک گہرے راز کی مانند سامنے آتے ہیں۔
برطانیہ کا فلسفی جو کہ ایک وکیل بھی تھا۔ فرانسس بیکن نے کہا !
“کتابیں وہ خاموش اساتذہ ہیں جو کبھی بھی آپ سے بیزار نہیں ہوتے۔”
کتابوں کی خوشبو ایک سرگوشی کی طرح ہوتی ہے جو ذہن میں سوالات اور جوابات کی بوچھاڑ شروع کر دیتی ہے اور اسی میں انسان کا ذہن اپنی حقیقت کو دریافت کرتاہے۔
ابن قیم الجوزیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔
“جو شخص کتابوں سے محبت کرتا ہے، وہ اپنی زندگی میں کبھی مایوس نہیں ہوتا۔ کیونکہ کتابیں ہمیشہ اس کے لیے نئی راہیں کھولتی ہیں۔”
کتابوں سے محبت کرنے والے افراد ایک ایسے حقیقت پسند کی طرح ہوتے ہیں جو مادی دنیا کی تمام رنگینیوں سے مایوس ہو کر اندر کی سچائیوں کا پیچھا کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ الفاظ صرف اظہار نہیں ہوتے بلکہ یہ حقیقتوں کا حصہ ہوتے ہیں ہے۔
ابو حامد غزالی کہتے ہیں۔
“کتابیں انسان کی بہترین دوست ہیں، جو ہمیشہ آپ کی رہنمائی کرتی ہیں۔”
کتابیں جب ذہن میں براجمان ہو جاتی ہیں تو انسان اپنے ماضی کے زخموں سے آشنا ہوتا ہے اور مستقبل کے خوف کو جھٹلانے کے لئے تیار ہوتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ زندگی کی ہر حقیقت کے پیچھے ایک گہرا راز ہے، اور کتابیں اس راز کی طرف ایک رہنمائی کا کام دیتی ہیں۔
کتابوں کی زبان میں وہ خاموشی چھپی ہوتی ہے جو دنیا کی تمام آوازوں سے زیادہ اثر پذیر ہوتی ہے۔ وہ زبان جو صرف لفظوں تک محدود نہیں ہوتی بلکہ انسان کے اندر کے گہرے سکوت کی نمائندگی کرتی ہے۔ جب انسان کتابوں کے صفحات کو پڑھتا ہے تو وہ دراصل اپنے دل کی اس خاموشی میں غرق ہوتا ہے جسے بیرونی دنیا کبھی نہیں سمجھ سکتی۔
امریکی شاعر اور فلسفی رالف والڈو ایمرسن کہتا ہے
“کتابیں دل کی آوازیں سننے کا طریقہ ہیں۔”
یہ ایک ایسا راز ہوتا ہے جس کا علم صرف وہی حاصل کر سکتا ہے جو کتابوں کے ساتھ سچائیوں کی تلاش میں نکلتا ہے۔
کتابوں سے عشق کرنے والا انسان اپنے اندر کی تمام متضاد حقیقتوں کو پہچان لیتا ہے۔
سوئس فلسفی
کارل جنگ نے کہا !
“ہمارے اندر وہ تمام چیزیں موجود ہیں جو ہم دنیا میں دیکھتے ہیں اور جب ہم خود کو جانتے ہیں تو ہم دنیا کو سمجھنے لگتے ہیں۔”
اور کتابیں اسے دکھاتی ہیں کہ وہ فرد ہونے کے باوجود کائنات کی حقیقت کا حصہ ہے۔
کتابوں سے عشق کرنا دراصل ایک جرأت مندانہ قدم ہے جس میں انسان اپنے اندر کی پراسرار حقیقتوں کو دریافت کرتا ہے۔ یہ عشق صرف صفحات تک محدود نہیں رہتا بلکہ وہ ایک مسلسل سفر بن جاتا ہے جس میں ہر نیا لفظ، ہر نیا جملہ انسان کو اپنے اندر کی خالی جگہوں کو بھرنے کی دعوت دیتا ہے۔
کتابیں وہ پل ہیں جو مادی اور روحانی دنیا کے درمیان ایک رشتہ قائم کرتی ہیں اور جو انہیں اپنے اندر محسوس کرتا ہے وہ زندگی کی حقیقتوں کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ کتابوں کے ساتھ رشتہ دراصل انسان کی اپنی حقیقت کے ساتھ جڑنے کا ایک ذریعہ بن جاتا ہے اور یہ
یہاں بات ڈیجیٹل کتابوں کی یا ای بک کی نہیں۔۔۔۔۔ کتابوں کی ہو رہی ہے۔
کتابیں صرف مواد یا معلومات کا مجموعہ نہیں ہوتیں، بلکہ ان کی پیشکش بھی بہت اہم ہوتی ہے۔ جلد کی ڈیزائننگ، کاغذ کا معیار، طباعت کا انداز اور کتاب کا مجموعی فن پارہ بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ خاص طور پر آرٹ کی کتابیں اور فوٹوگرافی کی کتابیں جمالیات کو اجاگر کرتی ہیں۔ ان کتابوں کا جمالیاتی پہلو انہیں صرف ایک معلوماتی وسیلے سے بڑھا کر ایک فن پارے میں تبدیل کر دیتا ہے۔
آنکھیں کتاب میں گم ہیں
کبھی گم ہے کتاب آنکھوں میں (علوی)
کاغذ پر مشتمل کتابوں کا ہاتھوں میں لینے کا جو حسی تجربہ ہوتا ہے وہ ڈیجیٹل کتابوں میں نہیں پایا جاتا۔ کتاب کا صفحہ پلٹنا، اس کی خوشبو، اور اس کا وزن، پڑھنے والوں کے لیے ایک منفرد تجربہ فراہم کرتے ہیں۔ یہ وہ جذباتی تعلق ہے جو زیادہ تر لوگ ڈیجیٹل میڈیا سے محسوس نہیں کرتے۔ کتابوں کا جسمانی وجود ایک خاص نوعیت کا تعلق قائم کرتا ہے جو انسانوں کی ذہنی اور جذباتی دنیا کو متاثر کرتا ہے۔
کہتے ہیں،
“یہ کتابوں سے عشق کی آخری صدی ہے”
بہت دکھی کر دینے والی بات لگتی ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ کتابوں کی شکل بھی بدل رہی ہے، اور ڈیجیٹل کتابوں کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ تاہم، کاغذ کی کتابوں کی اپنا ایک خاص جاذبیت ہے جو پڑھنے والے کو ایک منفرد تجربہ دیتی ہے۔ کتابوں کی خوشبو، صفحات کو پلٹنے کا عمل، اور جسمانی موجودگی ایک الگ دنیا کا احساس دیتے ہیں۔
اگرچہ ڈیجیٹل کتابیں اپنے فوائد رکھتی ہیں جیسے کہ زیادہ مواد کا ذخیرہ اور سہولت، پھر بھی کاغذ کی کتابوں کی جگہ ہمیشہ خاص رہے گی۔ یہ ایک ذاتی تجربہ ہے جو کچھ لوگوں کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ کہنا بھی ممکن ہے کہ دونوں شکلیں کاغذی اور ڈیجیٹل اپنے اپنے طریقے سے کتابوں کے اثرات کو بڑھاتی ہیں۔
یہ سوچ کہ کاغذ کی کتابیں ختم ہو جائیں گی، دل میں ایک خلا پیدا کرتی ہے۔ وہ کاغذ کے صفحات جو ہمیں زندگی کے مختلف رنگوں سے روشناس کراتے ہیں، جن میں الفاظ کے ذریعے انسانیت کی تاریخ اور جدو جہد کی کہانیاں چھپی ہوئی ہیں، وہ کس طرح ایک دن محض ڈیجیٹل کوڈز میں بدل جائیں گے۔
کتابیں صرف معلومات کا ذخیرہ نہیں ہوتیں، بلکہ یہ ایک ایسی ساتھی ہوتی ہیں جو ہماری محنت، جدت اور ذہنی سکون کا حصہ بن جاتی ہیں۔ جب ہم ایک کتاب کو ہاتھ میں پکڑ کر اس کے صفحات کو پلٹتے ہیں، تو ہم اس کی زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ہر کتاب کے ساتھ ایک کہانی ہوتی ہے، اور جب ہم اسے ختم کرتے ہیں تو گویا ہم نے ایک دور کا اختتام کیا ہوتا ہے۔
یہ حقیقت کہ آنے والی نسلیں شاید یہ تجربہ نہ کر پائیں ایک درد بھری بات ہے۔ کاغذ کی کتابوں کا جو جذبہ جو سکون، جو تعلق ہے۔ کتابوں کے صفحات کی سرسراہٹ، ان کی خوشبو اور ان میں ڈوب کر پڑھنے کا جو مزہ ہوتا ہے وہ شاید ڈیجیٹل دنیا میں کبھی نہ آ سکے۔ پھر بھی شاید انسان کو اس تبدیلی کا حصہ بننا ہی ہے مگر دل کی گہرائی میں کاغذ کی کتابوں کا وہ پیار ہمیشہ زندہ رہے گا، کیونکہ کتابوں کا تعلق صرف کاغذ سے نہیں۔۔۔ بلکہ دلوں سے ہے۔

