Site icon Writers Club Pakistan

دھندلی رات کے سائے

تحریر: سائرہ نعیم، کراچی
ساری زندگی شاہانہ بلکہ مالکانہ استحقاق سے گزار کر اماں جان نے دنیا چھوڑنے سے قبل ایسا عارضہ پالا جس کا کوئی علاج نہ تھا۔ کبھی ان کو اپنے کپڑے گیلے محسوس ہوتے کبھی پاؤں اور کبھی لگتا جیسے حلق سے آواز نہیں نکل رہی۔
“کس قدر پانی ہے فرش پر کیسے کوئی چل سکتا ہے؟”۔اکثر اماں چھڑی تھامے کمرے کی دہلیز پر کھڑی گھر والوں کو ڈانٹ رہی ہوتیں۔
“اماں فرش تو سوکھا پڑا ہے”۔گھر والے حیران ہوتے، “تم لوگ ہمیں دیوانہ سمجھتے ہو! ہر بات کی نفی کرتے ہو”۔ اماں باقاعدہ ناراض ہوجاتیں۔جب تواتر سے یہ واقعات ہونے لگے تو گھر والوں نے نفی کرنا چھوڑ کر ان کی تائید شروع کردی۔ ان کے سامنے سوکھے فرش کو صاف کیا جاتا، ان کے کپڑے بلاوجہ ہی بدلا دیئے جاتے، کڑوے آلو کی بھجیا گھر والے میز پر نہیں کھاتے تھے۔رفتہ رفتہ اماں جان کو کئی واہمات لپٹتے گئے اور وہ بستر سے جا لگیں۔
چاروں بیٹیوں اور اکلوتے بیٹے کے باہم مشورے سے کسی جاننے والے کے توسط سے ایک اڈھیڑ عمر مریض سنبھالنے والی خاتون “فریفتہ” جو خود کو نرس کہتی تھیں، سازو سامان کے ساتھ اماں جان کی خدمت کرنے آموجود ہوئیں ۔
“ہائے اماں آپ تو اپنی جوانی میں بہت حسین ہونگی !”۔ فریفتہ نے پہلی ملاقات میں ہی اپنی طبقاتی عادت کی جھلک دکھائی۔
“شادی شدہ ہو؟” اماں جان نے سوال کیا۔
“کہہ سکتے ہیں” وہ افسردہ ہوئی۔
”چھ سال تک بچے نہیں ہوئے نا تو شوہر نے دوسری شادی کرلی”۔
وہ نظریں جھکا کر بولی، لہجے میں اداسی غالب تھی۔
“پھر میں نے بھی اس کو چھوڑ دیا، اپنا کماتی کھاتی ہوں جان چھوٹی مرد کی محتاجی سے”۔
لبوں پر مسکراہٹ بکھیر کر تیکھی نگاہیں اماں جان کی جانب کرکے ان کی ہمدردیاں سمیٹ لیں۔
“چلو خیرہے،اس کو اپنا گھر ہی سمجھو!”۔
اماں جان اپنائیت سے بولیں اور اپنے گھر والوں کا تعارف کروانے لگیں۔فریفتہ کو جائے امان مل گئی اور اماں جان کی دوسراہٹ کا سامان ہوگیا، بیٹیاں بھی اپنے گھروں میں مطمئن ہو گئیں۔
فریفتہ صاحبہ صبح اٹھ کر منہ ہاتھ دھو کر میک اپ کرکے اماں جان کو تیار کرکے ناشتہ کرواتی پھر خود ناشتے کے بعد فون لے کر بیٹھ جاتی دو تین گھنٹے بعد گھر والوں کے بار ہا ٹوکنے پر اماں جان کے کچھ امور نمٹا کر کبھی ڈرامے کبھی پرانے نغمے لگا کر آنکھیں موندے نجانے کہاں پہنچی ہوتی کہ اماں کے پکارنے پر بھی کان پہ جوں نہ رینگتی۔ گھر والوں کو یہ طور پسند نہ تھے لیکن اماں جان کو اب ایک مستقل ساتھ کی ضرورت تھی جو اولاد دینے سے قاصر تھی سو فریفتہ کو برداشت کرنا لازمی ٹھہرا۔
کچھ مہینے آرام میسر ہوا کہ ایک اتوار کی صبح اماں جان کو امورِ روزمرہ سے فارغ کرکے خود ناشتہ کیا پھر اپنے فون پر غزل لگا کر صوفے پر نیم دراز ہوگئی کہ اماں کی منجھلی غیر شادی شدہ بیٹی نے اسے کہا کہ “باجی آپ کمرے میں جاکر لیٹ جائیں یہاں لاونج میں بھائی میچ دیکھیں گے”۔
“ارے تو دیکھ لیں میں نے کب منع کیا ہے؟” فریفتہ کی ادائے بے نیازی اگلے کو چڑانے کے لئے کافی تھی۔
“فریفتہ باجی آپ بےشک اماں جان کے کمرے میں لیٹ جائیں پر یہاں سے ہٹ جائیں”۔
بشریٰ نے سنجیدگی سے کہا تو فریفتہ “اچھا بھئی!” کہہ کر بیزاری سے اٹھ گئی۔
شام کو فریفتہ نے کچن میں آکر باورچن سے پوچھا “تم نے میرا سامان کیوں کھولا تھا؟”۔ باورچن پریشان ہوگئی “بھلا مجھے کیا پڑی ہے آپ کے سامان میں ہاتھ لگانے کی؟”۔
“ارے بشریٰ، بھابھی، بھائی! ارے کوئی ہے۔۔۔ گھر میں ڈاکا پڑگیا۔۔۔کسی کو خبر ہی نہ ہوئی ۔۔۔” فریفتہ ایک مخصوص لے میں زور زور سے چلانے لگی۔ گھر والے دوڑے آئے۔ “کیا ہوا؟ “ قسم کے کئی سوال ہر زبان پر تھے۔
“ہائے کیا بتاؤں! میں ابھی کمرے میں گئی تو پوری اٹیچی کھلی پڑی تھی اور میرا پرس غائب تھا”۔ وہ زور زور سے رونے لگی۔بشریٰ اور بھابھی نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا اور اماں کے کمرے جانب چل دیں جہاں بھائی جان اماں کے ہاتھ تھامے انہیں دلاسہ دیتے نظر آئے۔
فریفتہ اب لاؤنج میں کھڑی واویلا کررہی تھی۔سب ہی نے مہذب انداز میں سمجھانا چاہا پر وہ خاموش ہونا بھول گئی تھی۔اب وہ کھلے بندوں پولیس کی دھمکی دے رہی تھی ساتھ یہ بھی کہ گھر والے باورچن کے ساتھ ہیں۔ ادھر اماں جان کا گھبراہٹ سے حال برا تھا۔وہ چلاتی ہوئی گھر کے بیرونی دروازے جانب بڑھنے لگی تو بھابھی نے اس سے پہلے پہنچ کراس کو مقفل کردیا۔فریفتہ نے بھابھی کے بازو پر ایسا زور ڈالا کہ ان کی چیخ نکل گئی۔بشریٰ نے پیچھے سے آکر بڑی سی چادر فریفتہ پر ڈالی کہ وہ کچھ لمحے کے لئے حرکت نہ کرسکے۔ اس سب میں اس کا گمشدہ بٹوہ لاونج کے صوفے کے نیچے سے برآمد بھی ہوگیا۔
آخرکار پولیس وین آئی اور فریفتہ کو ہمراہ لئے روانہ ہوئی۔اللہ کی توفیق سے بشریٰ اور بھابھی کی حاضر دماغی نے بروقت پولیس اسٹیشن کال کرکے گھر والوں کو ایک بڑی مصیبت سے بچا لیا۔

Exit mobile version