Site icon Writers Club Pakistan

وہ لڑکی لعل قلندر سی – طیبہ علی

وہ قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کی لاڈلی بیٹی تھی۔ اس نے 21 جون 1953 کو بھٹو کے گھر میں آنکھ کھولی۔ بھٹو کو اس سے بے پناہ محبت تھی وہ بھٹو کی آنکھ کا تارا تھی۔ وہ اپنے باپ کی طرح جری ، بہادر اور موقف پر ڈٹے رہنے والوں میں سے تھی۔ بھٹو پیار سے اسے پنکی کہا کرتے تھے۔ اس کی نیلگوں آنکھوں میں جھانکو تو تمہیں بہتا ہوا سمندر دکھائی دے گا ،وہ اپنی ذات میں ایک رہنما تھی۔ اس کی عقابی نگاہ جیسے ہر خطرے کو پہلے سے بھانپ لیتی تھی وہ ذہانت میں بھی اپنی مثال آپ تھی۔ بھٹو نے اس وجہ سے اس کو اکسفورڈ بھیج دیا تھا۔ اس کے سرخی مائل ہونٹ ہمیشہ مسکراتے ہوئے محسوس ہوئے اس کے ہاتھ مسلسل جبر کی چکی پیسنے کے باوجود بہت خوبصورت تھے۔ انگلیاں تو جیسے کسی نے تراش دی ہوں وہ عزم و ہمت کا پہاڑ تھی وہ روایتی عورت کی طرح صنف نازک نہیں بنی۔ بلکہ دنیا کو ثابت کر کے دکھایا کہ وہ ایک آہنی عورت ہے ۔فولاد جیسے ارادوں کی مالک وہ اپنی طالب علمی کے دور میں ہی آگے آنے والے چیلنجز کو سمجھ گئی تھی۔ وہ بھٹو کی صحیح معنوں میں جانشین ثابت ہوئی اس کا باپ پے در پے مشکلات کا شکار تھا ۔اس سے جیل میں ملنے جاتی تو دونوں باپ بیٹی جیسے ایک دوسرے کو ماضی اور مستقبل کا حال سنانے لگتے ۔ وہ باپ کے کچھ کہے بغیر سب کچھ سمجھ گئی کہ اسے اب کیا کردار نبھانا ہے؟ اس کے سنہری بالوں میں لہراتی بل کھاتی زلفیں۔ اس کو اور بھی حسین بنا دیتی خدا نے اس کو فطری حسن سے نوازا تھا اور بڑی فرصت سے تخلیق کیا تھا۔ اس بات کو تسلیم کرنے میں کوئی قباحت نہیں وہ اپنے فیصلے پر اٹل رہتی خدا نے ان صلاحیتوں کی بنیاد پر اسے مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم کے عہدے پر فائز کیا۔ وہ ایک نہیں دو بار ملک کی سربراہ بنی۔ اب اس کے کندھے پر اور بھی زیادہ ذمہ داریاں تھیں اس کے کندھے اور بھی بڑا بار اٹھائے ہوئے تھے اسے دھمکیاں بھی ملتی رہیں، وہ جمہوریت کے نام لیواؤں میں سے ایک تھی اور جمہوریت کا علمبردار تھی۔ جمہوریت کا نفاذ ہی اس کی زندگی کا مقصد تھا۔ یہ مقصد اس کو قبر کے اندر اتارنے کا موجب بنا اور وہ جمہوریت کی بقا کے لیے کھڑی رہی اس کے سیاسی جلسے، پریس کانفرنس، خطاب سب ایک ہی مقصد کا اعلان کرتے نظر آتے اس نے زندگی میں بے پناہ مصائب جھیلے۔ اس کے باپ کے بعد اس کے دو جوان بھائیوں کی موت، والدہ کی بیماری، اس کی ملک بدری، سب اسے نڈھال کیے دیتے لیکن وہ چٹان کی مانند ڈٹی رہی وہ چلتی تو یوں لگتا کہ آدھی دنیا تو یونہی فتح ہوگئ۔ اس کا اپنے موقف پر ڈٹے رہنے کا انداز اس کو اور بھی نمایاں کرتا وہ غریبوں کی ہاریوں کی خیرخواہ تھی ۔ اپنےمقامی دوروں پر وہ سندھ کے ان مزدوروں میں گھل مل جاتی ۔ان کی عورتوں کو گلے لگاتی بچوں کو پیار کرتی بالکل جیسے ان کی ماں ہو لوگوں سے ان کے مسائل معلوم کر تی۔ کوئی دیکھ کہ کہہ نہیں سکتا تھا کہ یہ غریب نواز اور رحمدل عورت ریاست کی سربراہ بھی ہے اور مغربی اداروں کی تعلیم یافتہ بھی۔ حکمراں طبقہ عموماً عوام سے دور ہی رہتا ہے۔ لیکن وہ اپنے باپ کی طرح عوامی شخصیت تھی۔ایک بار تو مقامی پھل فروش سے لین دین کرتی پائی گئی۔ اس کی پیشانی نہ جانے کتنے طوفانوں کی کہانی سناتی تھی۔
اس کا گلابی چہرہ ستواں کھڑا ناک، جھیل جیسی آنکھیں اور ان میں اترا سکوت اس کی عظمت کی داستان سناتے نظر آتے ۔ خوف اور نڈر اتنی کہ کراچی میں ایک بار قافلے پر حملہ کیا گیا جو واضح پیغام تھا کہ وہ ٹارگٹ پر ہے اس کے باوجود وہ زخمی اور شہید کارکنوں کے گھر گئی۔ عیادت کی، تعزیت کی، ان کے بچوں کے سروں پر دست شفقت رکھا۔ اس ساری صورتحال کے باوجود بھی اپنی حفاظت کے پیش نظر ملک سے واپس نہ گئی۔وہ دبئی میں اپنے تین بچے چھوڑ کر پاکستان آئی تھی صرف وہ مقصد پورا کرنے جس کا اس نے اپنے باپ کی وفات کے بعد بیڑا اٹھایا تھا ۔جس کا اس نے اپنے باپ سے اور لوگوں سے وعدہ کیا تھا وہ چاروں صوبوں کی زنجیر تھی۔ ساری ملک کی عوام اس کی عوام تھی ۔ وہ ریاست کی ماں تھی اور ماں جیسا درد رکھتی تھی دل میں ریاست کے لئے ۔ اسی لئے اپنے بچوں سے دوری بھی برداشت کی ۔ اولاد کو جس وقت اس کی موجودگی چاہیے تھی وہ اس وقت ملک کی خاطر اولاد کی قربانی دے کر واپس آئیں ۔ ا سے اچھی طرح معلوم تھا کہ وہ اب زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکے گی اسے یہ بھی معلوم تھا کہ اس کے قاتل کون ہوں گے وہ ان تمام حالات کے باوجود اپنی عوام میں نڈر اور بے خوف و خطر گھومتی رہی۔ 18 اکتوبر 2007 کو سات سال کی ملک بدری کے بعد کراچی ایئر پورٹ پر اتری تو کہنے لگی :
“آج میں بہت خوش ہوں میں واپس آئی ہوں اپنی مٹی کو سونگھا ہے۔ اس کی خوشبو بہت عرصے سے مس کر رہی تھی اپنی دھرتی پر پاؤں رکھے ہیں آج تو لگ رہا ہے کوئی جنتِ ارضی ہو میں واپس آئی ہوں۔ میں اللہ کی بہت شکر گزار ہوں”
اپنی شہادت سے چند دن پہلے اسلام آباد کے ایک مقامی ہوٹل میں ٹھہری ہوئی تھی وہیں پریس کانفرنس کے دوران صحافی نے سوال کیا : “سنا ہے آج کل آپ ٹارگٹ پر ہیں کیا آپ جانتی ہیں کہ وہ لوگ کون ہیں ؟ بی بی شہید نے بہت بہادری کے ساتھ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دیا :
“یہ میں بھی جانتی ہوں اور آپ بھی کہ وہ لوگ کون ہیں؟ اور ان کے مقاصد کیا ہیں؟ گویا بی بی اپنے دشمنوں سے واقف تھی۔ حق کی یہ آواز، جمہوریت کا یہ سلوگن اور چٹان جیسی عورت کو ظالموں نے دوبارہ حملے میں نشانہ بنایا اس بار وار خالی نہیں گیا۔ بی بی شہید راولپنڈی میں انتخابی جلسے سے خطاب کرکے واپس جا رہی تھی کہ اپنی گاڑی کے سن روف میں کھڑے ہو کر لوگوں کے نعروں کا جواب دیتے ہوئے، دو گولیاں نامعلوم سمت سے سر میں آکر لگیں اور بی بی نے جان جان آفرین کے سپرد کردی۔ وہ دبئی میں پریس کانفرنس کے دوران پاکستان واپس آتے ہوئے کہہ رہی تھی کہ۔ “ایک سچا مسلمان ایک عورت کو قتل نہیں کر سکتا ۔ کیونکہ مذہب اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا اور اس لیے میں بے خوف و خطر ہو کر واپس پاکستان جا رہی ہوں۔ میں جانتی ہوں وہاں میرے لوگ ہیں وہ مجھے قتل نہیں کریں گے”
بی بی کو اپنے لوگوں پر اتنا اعتماد تھا مگر مارنے والے قاتل بہت ہی بزدل تھے جنہوں نے عورت کو نشانہ بنایا ایک نہتی عورت کو خونم خون کردیا۔ حق کی آواز کو سلا دیا گیا وہ واقعی بے نظیر تھی۔ اس کا کوئی مقابلہ ،کوئ مثال نہیں ملے گی ۔ اس کے جانے سے جو خلا پیدا ہوا وہ کبھی بھی پر نہیں ہوا ۔ وہ جہد مسلسل کا عملی نمونہ اور زندہ مثال تھی وہ سارےاحساسات ،سارے جذبات رکھنے کے باوجود کامیاب عورت تھی اور جہد مسلسل کا عملی نمونہ زندہ مثال تھی ۔ اس نے کبھی زندگی میں جذبات کو خود پر حاوی نہیں ہونے دیا ۔ یہ عظیم عورت 27 دسمبر 2007 بروز جمعرات لیاقت باغ راولپنڈی میں شام 5:37 بجے اپنے رب سے ملاقات کو حاضر ہوئی ۔ یہ قتل گاہ ملک کے پہلے وزیر اعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کی بھی مقتل گاہ تھی۔ گویا دو جانبازوں کو ان کے سچ اور حق پر ہونے کی سزا ایک ہی جگہ دی گئی کیا عجب اتفاق ہے انسانوں کو ان کے حق پر ہونے کی سزا دینا ایک فرض بن گیا ہے !! وہ جمہوریت کی مضبوط آواز تھی اور یہ آواز اب کبھی بھی کوئی اس انداز اور اس طریقے سے نہیں لگا جیسے اس نے لگائی اس نے جمہوریت کا علم بلند کیا تو مرتے دم تک کھڑی رہی اس کے جانے سے ایک عہد ختم ہوا جو آج تک ختم ہے وہ لاکھوں کارکنان کو روتا دھوتا چھوڑ کر ، خاص طور پر سندھ کی دھرتی کے یاریوں کو، مزدوروں کو یتیم کر گئی۔ اس کے جانے سے سندھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ۔ کئ لوگوں کے بقول وہ اس دن داڑھی مار مار کر رو رہے تھے۔ وہ کسی کی ماں تھی، بہن تھی ، بیٹی تھی اس سے بہت خوبصورت رشتہ تھا آج وہ “دختر مشرق” لاڑکانہ کے نواح میں واقع گڑھی خدا بخش کی مٹی میں آرام کر رہی ۔ وہ سندھ کی بیٹی تھی سو اسی دھرتی میں اپنے باپ اور بھائیوں کے پہلو میں ہزاروں جیالوں کی آہوں سسکیوں میں سپرد خاک ہوئی ۔ اور اب ابدی نیند سو رہی ہے ۔اسے اپنے دخترمشرق ہونے پر بڑا ناز تھا۔ خدا اسے کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔ اس کی شہادت کے بعد اعلیٰ مقام پر مرتبے پر فائز کرے اس کی مغفرت فرمائے ۔ آمین یارب
وہ جس نے اپنے لہو سے کیا وطن گلزار
وہ بے نظیر ہی تھی بے نظیر کام کیا

[contact-form][contact-field label=”Name” type=”name” required=”true” /][contact-field label=”Email” type=”email” required=”true” /][contact-field label=”Website” type=”url” /][contact-field label=”Message” type=”textarea” /][/contact-form]
Exit mobile version