Site icon Writers Club Pakistan

خوبصورتی کے بدنما کاروبار

ازقلم: نادیہ خان، پتوکی

لاہور ہائیکورٹ نے ایک بیوٹی پارلر کو 50 ہزار ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا، وجہ یہ بنی کہ سیلون کی مالکن نے میک اپ کی طے شدہ رقم 75 ہزار سے زائد کا تقاضا کیا اور اضافی ادا نہ کرنے پر دلہن کا میک اپ ادھورا چھوڑ کر اسے پارلر سے نکال دیا۔ اس تذلیل پر دلہن کے گھر والوں نے عدلیہ کا دروازہ کھٹکھٹایا اور ہرجانہ طلب کیا۔۔

لیکن تصور سے باہر ہیں جو طے تھے وہ 75 ہزار روپے کی خطیر رقم تھی۔ یعنی صرف میک اپ کے اتنے پیسے اور پھر اوپر سے بھی طلب کیے جارہے تھے۔
میں حیران تھی کلاہور ہائیکورٹ نے ایک بیوٹی پارلر کو 50 ہزار ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا، وجہ یہ بنی کہ سیلون کی مالکن نے میک اپ کی طے شدہ رقم 75 ہزار سے زائد کا تقاضا کیا اور اضافی ادا نہ کرنے پر دلہن کا میک اپ ادھورا چھوڑ کر اسے پارلر سے نکال دیا۔ اس تذلیل پر دلہن کے گھر والوں نے عدلیہ کا دروازہ کھٹکھٹایا اور ہرجانہ طلب کیا۔۔

لیکن تصور سے باہر ہیں جو طے تھے وہ 75 ہزار روپے کی خطیر رقم تھی۔ یعنی صرف میک اپ کے اتنے پیسے اور پھر اوپر سے بھی طلب کیے جارہے تھے۔

موجود حالات کو مدنظر رکھیں تو تقریبا تقریات کی تیاری کے لیے خواتین بیوٹی سیلون کا انتخاب کرتی ہیں۔ آپ اندازہ لگائیں کہ جو پروڈکٹس میک اپ میں استعمال ہوتی ہیں ان کی لاگت کتنی ہوگی۔۔۔! ایک لپ اسٹک مہینوں چلتی ہے، ایسے ہی دیگر چیزیں ہیں۔

اب اگر بیوٹی سیلون پر ایک دلہن کے میک اپ کا ریٹ پوچھا جائے تو وہ 20 ہزار سے ایک لاکھ تک ہے۔ بڑے برانڈز کے سیلون پر تو پہلے سے بکنگ کروانی پڑتی ہے جبکہ ریٹ بھی کافی ہائی ہوتے ہیں۔

لاہور میں میری ایک دوست کی شادی پہ 2 دن کی تقریبات کے لیے میک اپ کے کل اخراجات 65 ہزار تھے۔

ایک بیوٹیشن سے میں نے پوچھا کہ منافع کی شرح کیا ہے؟ جواب آیا کہ تقریباً ایک لاکھ کا کاسمیٹکس خریدتے ہیں اور 30 سے 35 دلہنیں تیار ہوجاتی ہیں۔ فی دلہن 25 ہزار بھی لیں تو 8 لاکھ بنتے ہیں۔ اس میں پارٹی میک اپ، ہیر کلرز اور فیشلز شامل نہیں بلکہ صرف برائیڈل میک اپ سے ہی سات لاکھ کا منافع ہوجاتا ہے۔

اب یہ ایک مکمل مافیا بن چکا ہے جس نے کئی برسوں سے مکمل کنٹرول سنبھالا ہوا ہے۔ کہیں کسی نے آواز اٹھائی تو اس کو دبانے کا بھی ان کے پاس فن موجود ہے۔

مان لیں پارلر سے دلہن کا تیار ہونا رواج، مجبوری یا فیشن بن چکا ہے لیکن چہرے پہ ایک ہزار کے میک اپ کے عوض اتنی بھاری رقم وصول کرنا یقینا ناانصافی ہے۔ لیکن یہ دھندہ اس وقت چلے گا جب تک ان کے پاس لوگ آتے رہیں گے۔

زیادہ تر پارلر تو ریگولیٹ بھی نہیں اور نہ ٹیکس دیتے ہیں پھر بھی وہ ڈنکے کی چوٹ پر لوٹ رہے ہیں۔ ان میں کام کرنے والی مجبور لڑکیاں جو دن میں 15 ہزار کے تین تین فیشلز کرتی ہیں ان کو ماہانہ 10 ہزار تنخواہ بھی نہیں دی جاتی۔ ہم غریب سبزی والے سے تو تکرار کرکے پیسے کم کروا لیتے ہیں لیکن پارلر جتنا زیادہ ریٹ بتائے گا اسے معیاری اور حق بجانب سمجھتے ہیں۔

50 ہزار کے میک اپ کی تب تو سمجھ آتی ہے جب ہر دلہن کے لیے میک اپ اور تیار کرنے کے ,, اوزار ،، نئے استعمال کیے جائیں مگر یہاں تو ایک ہی فوم کا پف 15 ,20 چہروں پہ رگڑا جاتا ہے، ایک برش سے میک اپ لگایا جاتا ، ایک ہی کاجل اور مسکارا استعمال ہوتا۔۔۔ کچھ بھی ڈسپوز آف نہیں ہوتا۔ پتا نہیں سکن الرجی اور سکن انفکیشن کس کس کو ہوتا ہوگا۔

خوبصورتی کے اس کاروبار کا بدصورت چہرہ پتا نہیں معاشرے کو کب نظر آئے، نہ ہم آواز اٹھاتے ہیں نہ بائیکاٹ کرتے ہیں۔۔۔ اور ہم بھی ایسے بے حس ہیں کہ سبزی فروش سے ٹینڈوں کے بھائو پہ گھنٹہ بحث کریں گے اور پیسے کم کروائیں گے مگر 2 ہزار کی لاگت کا میک اپ 60 ہزار میں کروانے کو تیار نہیں، ساری گنگا الٹی بہتی ہے۔

Exit mobile version