شبانہ رشید، راولپنڈی
اپنی سوچ کو بڑا کیجیے روز کچھ اچھا سوچیے اچھا کیجیے لوگ اپ کے بارے میں کیا سوچتے ہیں اور کیا بولتے ہیں یہ اپ کا مسئلہ نہیں اصل مسئلہ یہ ہے کہ اپ کیا کر رہے ہیں اور کیا سوچ رہے ہیں اگر اپ کی سوچ اچھی اور مثبت ہے اپنی طرف سے ممکنہ حد تک کار خیر کر رہے ہیں تو پھر جانے دیجیے وہ لوگ جو کچھ نہیں کرتے ہیں وہ باتیں بناتے ہیں اپ کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں اپ پر اوازیں کستے ہیں۔ اپ کو برا بھلا کہتے ہیں ایسے لوگوں کی پرواہ نہ کیجیے ایسے لوگوں کو اپنی طاقت بنائے ان کی منفی باتیں سن کر مسکرائیں درگزر کریں اور اگے بڑھ جائیں۔
وہ اپنی منفی باتوں کے لیے خود حساب دیتے پھریں گے یاد رکھیے اگر لوگوں کو اس بات کا یقین ہو جائے کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں جو کچھ کہہ رہے ہیں اس کا حساب لیا جائے گا ۔تو ان کی عقل ٹھکانے ا جائیں اچھا ہے تو اس کا بدلہ ملے گا بلکہ کہیں گناہ زیادہ بدلہ دیا جائے گا تو پھر اچھا کرنے والے اور اچھا سوچنے والے کبھی گھاٹے کا سودا نہیں کرتے حضرت علی کا قول ہے ایک انسان کو سب سے زیادہ اجر اس کی سوچ( نیت )پر ملتا ہے. بہت حاصل زندگی مقولہ ہے جسے شیر خدا نے بیان کیا کوئی شک نہیں اس کائنات بنانے والے نے اتنا بڑا نظام بنایا اور پھر ہر چیز کو ہمارے تابع کر دیا کائنات کی ہر چیز انسان کی خدمت میں مصروف ہے درخت اپنا پھل نہیں کھاتے گائے بھینس اپنا دودھ نہیں پیتیں۔ سورج٫ چاند٫ ستارے ٫سیارے٫ زمین اسمان٫ چرند پرند٫ کیڑے مکوڑے” پھل” پھول “پتے” دریا٫ پہاڑ٫ سمندر کائنات کی ہر چیز دوسروں کے لیے کام کر رہی ہے ایک ادمی ہی ایسی مخلوق ہے جو صرف اپنے فائدے ضرور توں اور خواہشات کا پجاری ہے جب وہ اس راز کو پہچان لیتا ہے کہ یہ میری منزل نہیں میری منزل تو اس رب کی پہچان ہے اس رب سے محبت ہے اس کا حکم مان لینے میں ہے پھر وہ دنیا کی باتیں ضرور تیں، خواہشات ،اسے پریشان نہیں کرتیں۔
وہ اپنے رب تک پہنچنے کی جدوجہد میں لگ جاتا ہے اور اس راستے میں انے والی تمام رکاوٹیں مصائب پریشانیاں اسے کچھ بھی محسوس نہیں ہوتا ۔اس عاشق کی طرح جو محبوب کی طلب میں اپنے پاؤں زخمی کر لیتا ہے کبھی اپنے اپ کو تھل کے بیلنے میں رول دیتا ہے اور کبھی صحرا کی خاک چھاننے لگتا ہے۔مگر محبوب کا قرب،اسے پا لینے کا احساس اتنا دل فریب ہوتا ہے کہ تکلیفوں کا احساس باقی نہیں رہتا مگر اس رب کے قرب کو تو مزہ ہی جدا ہے ذرا ایک مرتبہ سزا کے مسافر بن کر تو دیکھیں اسی کے لیے دوستی کریں اسی کے لیے دشمنی پھر وہ دیکھیں کیسے اپ کے لیے اپنے دروازے وا کرتا ہے اور دنیا ہی میں اپ کو ایسی ایسی چیزوں کی سیر کروائے گا کہ دنیا بھی آپ کو جنت کا گھر لگنے لگے گا۔

