باجا جس سے پوری قوم تنگ آچکی ہے چودہ اگست آتے ہی پوری قوم کو صرف ایک شور سنائی دیتا ہے وہ ہے پاں پاں ………….پاں پاں
بالکونی سے نیچے جھانکتے فرخ نے مایوسی سے کہا “کتنی بوریت ہورہی ہے، کچھ کرنے کو ہی نہیں. چودہ اگست بھی ختم ہوگئی”۔
“کتنا سکون ہوگیا نا چودہ اگست کے بعد، باجے کی پاں،،، پاں،،، سے جان چھوٹی،
توبہ سر درد ہوگیا تھا اس بھونپو سے،
دل تو چاہتا ہے باجا بجانے والے کا گلا دبا دوں،،،”
مریم نے امی جی کے سامنے چائے رکھتے ہوئے کہا، وہ کچھ دنوں کے لیے میکے آئی ہوئی تھی۔ پاس بیٹھے فرخ کو بھی تنگ کرنے کی سوجھی،
“اچھا باجی،، تو باجا خریدنے والوں کا کیا کریں گی؟”
“اللہ،،، باجا خریدنے والوں کی تو ٹانگیں توڑ دینی چاہئیں.”
مریم کے عزائم خطرناک تھے۔
“اور جو باجا بیچتے ہیں ان کو کس جرم کی سزا سنائیں گی آپ؟”
فرخ کی زبان پھسلتی جارہی تھی۔
“اممممم،،،، جو باجا بیچتے ہیں ان کے ہاتھ کاٹ دینے چاہئیں.
سمپل اور کیا”۔
اچھا تو پھر باجا،،،
فرخ کی بات ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی کہ مریم اس کی شرارت سمجھ کر خود ہی بول پڑی۔
“باجا بنانے والا کا مار مار کر بھرکس اور بینڈ باجا سب بجا دینا چاہیے.
نا رہے گا باجا، نا بجے گا باجا”۔
مریم نے حتمی فیصلہ صادر فرمایا۔
امی جو بغور مریم کی باتیں سن رہی تھیں کہنے لگیں۔
“اس ساری مار کٹائی سے اچھا نہیں کہ تم اپنے بچوں میں یہ احساس جگا دو کہ آزادی کا جشن منانا اصل مقصد ہے یا اس کی قدر کرنا،،
یہ جو نسل آج اتنی بگڑ کر سامنے آرہی ہے اس کی تربیت بگڑی ہے تبھی تو نتیجہ خراب نظر آرہا ہے۔”
“مگر امی میرے بچے تو ابھی بہت چھوٹے ہیں”۔
“چھوٹے ہیں اسی لیے تو کہہ رہی ہوں. کل لاڈ پیار میں فرمائشیں پوری کرتی رہنا پھر یہ بھی پاں پاں کرتے رہیں گے۔”
“کیا کروں امی، فہد بھی تو جو بچے کہتے ہیں وہ بات مان لیتے ہیں۔ میں نے اس دفعہ جھنڈیاں لگانے سے بھی سختی سے منع کردیا تھا بلاوجہ کا کچرا اور خرچہ”۔
مریم کی تلخی بہت زیادہ تھی۔
“یہ تو بہت غلط کیا مریم تم نے”۔
امی نے کہا.
“ہاں باجی یاد ہے، جب ایک مرتبہ ابو نے ہمیں جھنڈیاں سجانے سے منع کردیا تھا تو دادا جان نے خود ہمارے ساتھ مل کر جھنڈا لگایا تھا اور جھنڈیاں سجائی تھیں اور چودہ اگست گزرنے کے بعد ساری جھنڈیاں اتار لی تھیں تاکہ وہ زمین پر گر کر خراب نا ہوجائیں۔”
فرخ نے اسے یاد دلایا۔
“بالکل ! یہی بات میں تمہیں سمجھانا چاہ رہی ہوں مریم!
کہ اصل چیز ذہنوں میں شعور دلانا اور صحیح غلط کی تمیز پیدا کرنا ہے، غلطی کو سدھارنے کے لیے مزید غلطی کرنا کہاں کی عقلمندی ہے، باجے کا فیشن تو واقعی بہت خراب ہے، اذیت ناک اور تکلیف دہ مگر یہ سب کے سوچنے کی بات ہے نا! کہ باجے کو ختم کرنا چاہیے۔
ورنہ یہی طریقہ پنپنے لگ جائے گا.”
امی نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔
“جی،، آپ کی بات درست ہے امی!”
مریم کو بات سمجھ آرہی تھی۔
اچانک اندر سے رملہ نے آواز لگائی۔
“مریم باجی دانیال رو رہا ہے، اس کا باجا تو بند کروائیں”۔
“آرہی ہوں رملہ،،،، خبردار جو میرے بچے کو باجا کہا”۔
اور سب کے قہقہے بےساختہ گونجے تھے۔

