Site icon Writers Club Pakistan

آسیب زدہ (خوفناک کہانی)

چاند کی نیلگوں روشنی میں ناہموار رستے پر قدم رکھتے کئی زخم اور ٹھوکریں پیروں پر ثبت ہوتی رہیں پر دماغ میں سر اٹھاتے اندیشوں کے طوفان نے اسے جیسے بے حس سا کردیا تھا۔ایک درد و چاہ بھری آس لگائے وہ گھنٹے بھر سے چل رہا تھا۔ چھ سال قید کے بامشقت ایام نے اسے جسمانی اور روحانی طور مضبوط کیا تھا لیکن اس دورانیہ کے چند ماہ اس نے اپنے خیر خواہوں خصوصاً بیوی سے دل کھول کر نفرت کی تھی۔
“آگئی ہو میری سزا کا تماشا دیکھنے؟”۔جیل کی پہلی ملاقات میں اس کی تلخی اور جھنجلاہٹ عروج پر تھی۔
“خطوات الشیاطین کی منازل ایسی ہی بے نشان ہوتی ہیں ولید”۔ ماہین کے ذہن میں پچھلے کئی سالوں کی کہی باتیں ابھرنے لگی تھیں لیکن ان کو دھرانا خلاف حکمت تھا سو آنکھوں میں آئی نمی کو روکتے وہ سوتے ہوئے عمر ولید کو کندھے سے لگائے اس کی جانب دیکھے گئی۔کوئی بات کہنے کا موقع بھی کب تھا ابھی تو ولید کے حواس بکھرے ہوئے تھے۔
“دفع ہوجاؤ یہاں سے! اور آئندہ زحمت مت کرنا”۔
ولید نے غصے کی شدت سے چلا کر کہا تو وہ سہم کر فوراً پلٹ گئی تھی۔دل برداشتہ سے ابا وہاں اکیلے کھڑے رہ گئے تھے۔
“مجھ سے کہیں بڑے مگرمچھ ابھی تک دندنا رہے ہیں۔ انہیں کوئی کیوں نہیں پکڑتا؟”۔وہ اپنا سر سلاخوں پر مارتے ہوئے چلا رہا تھا۔
“سات سال کم ہوتے ہیں؟؟۔۔۔ بتائیے ابا؟” اب وہ زمین پر سر پکڑے بیٹھا تھا۔”آپ تو کچھ کر بھی نہیں سکتے میرے لئے۔۔۔”
وہ مایوس تھا اور حسن صدیقی خاموش۔ وہ واقعتاً کچھ بھی نہیں کر سکتے تھے سوائے دعا کے۔ دیانت دارانہ طرز پر سادہ زندگی گزارنے والے فرد کے متعلقین بھی انہی جیسے ہوتے ہیں۔ رشتے داروں کے سامنے تو وہ اپنی رفیقہ حیات کے جان لیوا سرطان کے علاج کے لئے بھی نہ گڑگڑائے تھے۔
“تم حوصلہ رکھو۔۔۔ میں کچھ کرتا ہوں”۔فی الحال یہ کہنا ہی غنیمت تھا۔
بعد کی ملاقاتوں میں ابا ہر دفعہ ماہین کے ہاتھوں کے بنے مختلف پکوان اور اس کی اشیائے ضرورت لاتے رہے پر کبھی انہوں نے اپنا ہاتھ ایک در کے سوا کہیں نہ پھیلایا۔وہ دل میں شرمندہ تھا سو ابا کے خلاف مزاج امر کا تقاضا نہ کرسکا۔البتہ پچھتاوا اور عزم اس کی شخصیت میں سرایت کرتے گئے۔وہ زندان کے صف آخر کے قیدیوں کے ساتھ تھا جو جیل کی زبان میں “بے ضرر” کہے جاتے تھے اور ان کو صحت و دیگر ضروریات پوری کرنے کی سہولت میسر تھی۔
ماہین کرامت کے ساتھ ولید صدیقی نے نکاح میں الفت کے ساتھ حلال روزی تک محدود ہونے کی قسم بھی اٹھائی تھی پر ناقص نظام زندگی نے پاک و شفاف روزی کے راستے ناممکن حد تک قابل تسخیر بنا رکھے تھے البتہ تمام تر غلط ذرائع آمدنی کے کشادہ راستے ہر موڑ پر بازو وا کئے کھڑے تھے۔جب منزل تک جانے کے لئے ہموار سڑک موجود ہو تو کوئی کیوں سنگ و خشت بھرے راستے کا انتخاب کرے؟ یہ کام تو وہی کرسکتا ہے جو “عہد الست” کا پابند ہو۔اس عہد کا حلف تو سب ہی اٹھا آئے ہیں پر نبھانے کے لئے جو ان تھک محنت درکار ہوتی ہے اس کا حوصلہ ہر ایک میں نہیں ہوتا، جو کر گزرتا ہے وہی سکندر ٹھہرتا ہے۔
“شفاف عمل شفاف دل کا آئینہ ہوتا ہے ولید!” ماہین اسے کہتی۔
“میں کسی کا نقصان نہیں کرتا ۔۔۔ بلکہ میری وجہ سے لوگ فیض پاتے ہیں”۔وہ مسکراتے ہوئے دلائل دیتا۔
“پیسے کو گردش میں رہنا چاہئے اور لوگوں کو آپ کے قدموں تلے!”۔
وہ بے نیازی سے کہتا تو ماہین کرامت کلس کر رہ جاتی۔آئے دن قیمتی تحائف یا فورِن ٹرپ پلانس ہاتھ پر رکھے جاتے تو انکار کرنا کفران نعمت لگتا۔ اس کی گزشتہ زندگی بہرحال پرتعیش تو نہ تھی۔پھر خاندان کے دولت زدہ پجاریوں کو زیر کرنا ان چیزوں کے بغیر کہاں ممکن تھا؟ سو دل میں ان عوامل کی ناپسندیدگی باوجود سب جاری تھا۔
“میں نے یہاں تک پہنچنے کے لئے کم محنت نہیں کی! اب میں اس پوزیشن میں ہوں کہ یہ سب میرے بغیر ہل نہیں سکتے!” وہ اپنے نامور رشتہ داروں کی طرف اشارہ کرتے کہتا۔
“فریب خیالات کی مانند نسلوں میں سرایت کرتا ہے، چاہے بال برابر ہو یا کواڑ برابر! اور میں عمر ولید کو آگ پر جھکا ہوا بھی نہیں دیکھ سکتی۔۔۔”۔
ماہین کا مضبوط لہجہ ولید صدیقی کے دماغ میں ارتعاش پیدا کرتا لیکن بہت سی وجوہات اسے مطمئن رکھتیں۔
“یہاں کوئی کسی پر جال نہیں پھینک سکتا سب ایک دوسرے سے بندھے ہیں! اور مجھ پر ایک نہیں کئی دست شفقت ہیں”۔مردانہ وجاہت سے مزین شاندار سراپا ہنستا تو کئی حقائق کو نظر انداز کردیتا۔
رئیل اسٹیٹ کے آکٹوپس جیسے ہاتھ ہر جگہ پھیلے تھے۔پر قضا تو بن بلائے ہی نازل ہوتی ہے سو رہائشی علاقے میں ایک معمولی سی فیکٹری کی منظوری دینے پر لی گئی رشوت نے اس کا رخ موڑ دیا۔ گویا شر میں سے خیر برآمد ہوئی۔ اس وقت انجام سے سوائے تقدیر بنانے والے کے کون واقف تھا؟۔تمام دست شفقت زیر زمین گم ہوگئے تھے اور اسے سات سال قید کی سزا ہوگئی۔جواس کے اچھے اطوار بناء پر چار سال پر محیط ہوئی اور اب وہ آذاد تھا۔
عمر کی پیدائش سے بہت پہلے ماہین نے اس کے ساتھ ایک بلاسود کاروبار شروع کیا تھا وجہ صرف اپنی نسل کو پاک رزق کے حصول کا پابند کرنا تھا، اس نے بہرحال اس کے ساتھ پورا تعاون کیا تھا۔جب مقصد واضع ہو اور ایمان بالغیب کی شمع ساتھ ہو تو راستے خود بخود کھلتے ہیں۔
جیل کی مدت میں اپنے آلودہ ماضی کے پچھتاوں سے کئی بار ڈسنے کے بعد اب وہ زندگی کے حقیقی رنگ دیکھنے کے قابل ہوچکا تھا۔سزا دشوار ہوتی ہے اور تزکیہ پائیدار۔
”نیک عورت اور روشن نسل! میرا جگر گوشہ پانچ سال تین ماہ کا ہوگا، گھر بھر میں بھاگتا پھرتا ہوگا”۔مسکراتے ہوئے خود کلامی کرتے عمر ولید اور ماہین کرامت کے تصور نے اس کے تنے اعصاب کو ایک حد تک پرسکون کیا تھا۔
“اجتماعی غلطیاں بانجھ نہیں ہوتیں ولید!” کہیں سے ماہین کرامت کا جملہ ذہن میں گونجا تو وہ قریب بنی سنگی بنچ پر ڈھہ گیا۔ آنکھوں سے گرم لہو مانند اشک بہے تو پورا وجود ہی رب کے حضور معافی کا طلبگار بن گیا۔
“ یا رب! ۔۔۔ میری اولاد کو میرے عمر ولید کو ایمان والی روشن زندگی عطا کردے۔۔۔ مجھے آزمائش میں نہ ڈالنا یاربی۔۔۔ مجھے اور میرے والدین کو بخش دے ان کی نسل سے نیک لوگ اٹھائیے یا رب ذولجلال”۔
رات گہرائی میں بھیگتی گئی اور وہ کتنی دیر یونہی گڑگڑاتا رہا۔ فجر کی اذان تک وہ اپنے علاقے کی مسجد میں پہنچ چکا تھا۔ اس کی منزل سامنے تھی، خوشی تھی، سامان تسکین تھا۔ گہرے کتھئی رنگ کے دروازے کی گھنٹی پر ولید صدیقی نے ہاتھ رکھا تو دل بے چین سا تھا۔
“ولید!۔۔۔”۔ ماہین حیرت اور خوشی سے چیخ اٹھی۔
“ بابا! ۔۔۔بابا! ”۔ وہ تیزی سے اندر دوڑ گئی، ولید اندر آیا۔ گھر کا اندرون بہت خوشحال نہیں تھا۔ کمرے میں کپکپاتا وجود حسن صدیقی سے لپٹ کر سسکنے لگا۔ ماہین عمر ولید کو گود میں تھامے آگے بڑھی۔ چاروں نفوس ایک دوسرے کے گلے لگے تھے۔ ولید نے عمر کو گود میں لے کر خوب پیار کیا اور زمین پر کھڑا کیا پر ماہین نے فوراً ہی چکوں والی کرسی گھسیٹ کر اسے بٹھا دیا۔
“اس پر کیوں بٹھا رہی ہو؟” اس نے متحیر لہجے میں پوچھا۔زخمی نگاہوں سے اسے دیکھتے ماہین نے سرگوشی کی۔
“یہ چل نہیں سکتا ولید! ۔۔۔۔سال بھر پہلے تیز بخار نے اس کی ٹانگوں کی طاقت چھین لی تھی”۔
وہ ہلکی آواز میں اسے تفصیل بتارہی تھی اور اس کے ذہن میں کہیں پڑھا ہوا جملہ گونج رہا تھا “بعض گناہ آسیب مانند ہوتے ہیں، ان سے نجات کے لئے محبوب شے کا سودا کرنا ہوتا ہے”۔

Exit mobile version