اس کی انگلیوں میں جادو تھا وہ دونوں ہاتھوں سے پینٹنگ بنا لیتا تھا۔میری دوستی اس کے ساتھ جھیل سیف الملوک پر ہوئی تھی یہ ادھر ایک پینسل اور کاغذ لیے بیٹھا تھا اور جھیل کی تصویریں بنا رہا تھا۔ اس کی تصویر میں عجیب بات یہ تھی کہ اتنے پر رونق جگہ پر اتنے رش کے درمیان اس کی تصویر میں خاموشی تھی۔جھیل تو تھی مگر انسان نہیں تھے اور پوری تصویر میں ایک ہی شخص تھا اور تنہا۔میں اس کے قریب چلا گیا جب میں نے اس کی تصویر میں دیکھا تو میں نے وہی سوال کیا”تم نے تصویر صحیح نہیں بنائی”۔اس نے میری طرف خاموش نگاہوں سے پوچھا “کیسے”۔
“جھیل ہے، پہاڑ ہے تم نے ہر چیز کو بخوبی بنایا ہے مگر دیکھو یہاں کتنا رش ہے، کتنی گھما گھمی ہے۔ سب اکٹھے اپنے خاندان دوست احباب کے ساتھ آئیں ہیں، تم دیکھو کوئی یہاں اکیلا نظر آ رہا ہے۔اور تم نے تصویر میں ایک اکیلے شخص کو دکھایا ہے جو کہ میرے نزدیک غلط ہے تمہیں اس تصویر میں تنہائی نہیں خوشی دکھانی چاہیے،محبت نظر آئے مگر دیکھو تم نے اس خوبصورت جگہ کو کتنا بھیانک دکھایا ہے دیکھ کر ہی وھشت ہو رہی ہے اس تصویر کو دیکھ کر کون اس جگہ پر آنا چاہے گا” مجھے احساس ہوا کہ میں کچھ زیادہ بول گیا ہوں اور اس کی تصویر کو برا بھلا کہ دیا جو کہ مجھے نہیں کرنا چاہئے تھا۔ وہ مسکرایا اور کہنے لگا”کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ سب اکٹھے اور ان سب کا آپس میں محبت کا رشتہ ہے، کیا آپ سچ میں اکیلے نہیں ہیں”اس نے جب میری آنکھوں میں دیکھا تو میں گھبرا گیا اس کا سوال اتنا مشکل نہیں تھا اگر وہ میری آنکھوں میں نا دیکھتا اس کی آنکھوں میں صدیوں کا غم چھپا ہوا تھا۔میں وہاں سے چلا آیا۔
کئی دن میں اس کی آنکھوں کے سحر میں گم رہا اس کا سوال میرے ذہن میں سرائیت کر چکا تھا۔میں خود سے بار بار پوچھتا کیا میں سچ میں اکیلا نہیں ہوں۔میں اکیلا کیسے ہو سکتا ہوں میرا خاندان ہے دوست ہے سب مجھ سے پیار کرتے ہیں۔وہ پاگل تھا شائد وہ خود کو ساری دنیا سمجھتا تھا۔میں خود کو تسلی دیتا۔تسلی کچھ دن کی مہمان ثابت ہوتی اور وہ آںکھیں میرے سامنے آ جاتی اور وہ سوال پھر مجھ سے جواب مانگتا۔ مجھے اب اس مصور کی تلاش تھی میں اس سے دوبارہ ملنا چاہتا تھا۔ ایک دن ٹی وی پر اس کا چہرہ اسی تصویر کے ساتھ سامنے آیا اور وہ اس تصویر کے حالات کو تفصیل سے بیان کر رہا تھا ٹی وی پر اس کا نام”مصور انضر حیات” کے نام سے آ رہا تھا۔وہ تصویر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ رہا تھا۔
“ہم اس خوبصورت،انسانوں سے بھری دنیا میں اکیلے ہیں اور اکیلے ہی رہ جائیں گے کیونکہ ہم دوسروں کی نظروں سے زندگی گزارتے ہیں اور دوسرے کی زندگی کو ہی بہتر سمجھتے ہیں آج کے دور میں آپ تب تک کسی کے ساتھ ہیں جب تک آپ کے پاس اس کے ساتھ رہنے کا مطلب ہے جب آپ کا مطلب ختم آپ بھول جاتے ہیں کہ کبھی وہ آپ کے سفر میں ہم سفر رہ چکا تھا” اس نے انگلی تصویر پر رکھی اور مجھے ایسا لگا کسی نے مجھے اندر سے ہلا دیا ہے۔تصویر میں جو جھیل تھی اس میں وہ سب تھے جو اس وقت جھیل میں گھومنے آئے ہوئے تھے مگر ان کو دیکھنے کے لئے تصویر مں بنی جھیل کو غور سے دیکھنا ضروری تھا۔ وہ اپنی بات جاری رکھے ہوئے تھا۔
” جیسے کے آپ دیکھ سکتے ہیں جھیل کے اندر کتنی رونق ہے اور یہ سب ہمارے لئے حقیقت ہونے کے باوجود ہمارے لئے خواب ہے”اس نے کہتے ہوئے تصویر کو الٹا کر دیا اور یہ ایک تصویر کا نیا رخ تھا۔”اب آپ دیکھ سکتے ہیں جھیل کے اندر جو اتنا رش لگا ہوا ان سب کے لئے یہ لڑکا جو تنہائی میں بیٹھا ہے اس پر سب ہنس رہے ہیں” مصور کی بات پر مجھے یاد آیا کہ اس کو تصویر بناتے وقت میری نظر ادھر جھیل نہیں پڑی تھی اور میرا دھیان زیادہ اسی لڑکے کی طرف تھا۔
” مگر لڑکا ان کی ہنسی سے بے خبر ہے وہ کچھ اور چاہتا ہے وہ اس مجمع کا حصہ بننا چاہتا ہے مگر وہ یہ نہیں جانتا کہ وہ ان میں سے ہی ایک ہے اور جو یہ ساری تنہائی اس کے گرد لپٹی ہوئی ہے وہ اس کی سوچ کا نتیجہ ہے” وہ کہتا ہوا خاموش ہو گیا اور ہوسٹ جو ابھی تک اس مصور کو میری طرح ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی تھی اس نے ہوش میں آتے ہی شو کے سیگمنٹ کا اختتام کر دیا۔
اس دن کے بعد میں اس کے ہر لیکچر اور ہر نئی تصویر کو اپنے موبائل میں رکھتا تھا۔وہ جتنا خوبصورت مصور تھا اتنا خوبصورت بولتا بھی تھا۔وہ میری زندگی میں میرا محسن ثابت ہوا اس کا ماننا تھا تم جو بھی ہو ایک خیال ہو۔تم جیسے بھی ہو اسی خیال کا نتیجہ ہو۔پہلے میں اس کی محفلوں میں اس کو سننے والوں میں تھا پھر میں اس کے قریب شاگردوں میں شامل ہوگیا۔وہ مجھے اپنے قریب رکھتا تھا کیونکہ میرے پاس بہت سارے سوال تھے اور اس کے پاس میرے سارے سوالوں کے جواب۔اس کی تصویریں مجھے مشکل میں ڈال دیتی تھی اس کی تصویروں کو سمجھنے کے لئے اس کے ساتھ گفتگو ضروری ہوتی تھی۔
میں نے ایک دن اسی تصویر پر پوچھا کہ ”مجھے اس دن جھیل کے اندر کے لوگ نظر کیوں نہیں آئے“ وہ جواب دیتے وقت سنجیدہ ہو جایا کرتا تھا پتہ نہیں کیوں وہ کہنے لگا کیونکہ تمہارا فوکس،انسان کا ذہن جو سوچتا ہے اس کو وہی نظر آتا ہے تم اس وقت یہ سوچے سمجھے بغیر کہ تصویر بنانے والا کیا سوچ رہا ہے تم نے اپنی رائے قائم کر لی تھی۔میں اس تصویر کا خالق تھا مجھے یہ تخلیق عطا کی گئی تھی۔مجھے اس کو بناتے وقت سوچنا نہیں پڑا بس بنا ڈالی دیکھنے والوں نے اپنی رائے قائم کی کسی کو ہنسنے والے نظر آئے کیوںکہ وہ ہنسنے والوں میں شمار تھے کچھ کو جیسے تم کو وہ تنہا شخص پسند آیا کیونکہ تم شائد تنہائی میں تھے۔ہر شخص اس دنیا کو ویسے ہی دیکھ رہا ہوتا ہے جیسا وہ خود کو سمجھ رہا ہوتا ہے ورنہ بنانے والے نے تو دنیا ہر طرح سے مکمل بنائی ہے،اس کی تخلیق کو سمجھنے کے لئے شائد ہزار زندگیاں بھی کم ہے اس لئے تو رب نے قرآن میں فرمایا ہے”تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاو¿ گے”انسان کو سب حاصل ہے مگر اس کا فوکس لاحاصل پر ہے تو میرے محترم تم کیا میں بھی اپنے فوکس تک محدود ہوں”۔
اس کی باتوں نے مجھے بدل کر رکھ دیا تھا۔میں پہلے جیسا ہی نہیں رہا تھا اب مصور انصر میرے لئے صرف انصر بن گیا تھا اور میں اس کو اب آپ نہیں تو کہ کر پکارتا تھا مگر اس کے جواب میرے لئے اتنے ہی معزز ہوتے جتنے پہلے تھے دوستی کا اعزاز بھی اس نے ہی مجھے دیا تھا۔میں اس کی تصویروں کے درمیان کافی وقت گزارا کرتا تھا اور کبھی اس کی تصویروں پر سوال تو کبھی خاموشی سے اس کو مصوری کرتا دیکھتا۔کچھ شکلوں کو سمجھنے کے لئے انصر سے بار بار پوچھنا پڑتا اور جب اس کا جواب ملتا تو دل کرتا اس کے ہاتھ چوم لوں کیا تصویر کی تشریح کرتا تھا۔میں اس کے کمرے کی کھڑکی کے قریب بیٹھا تھا اور باہر سے آتی ہوئی ٹھنڈی ہوا مجھے لطف دے رہی تھی۔میں نے انصر سے سوال کیا”آرٹسٹ کون ہوتا ہے”۔ اس کے ہاتھوں نے پینٹنگ کرنا روک دی کھڑکی کے قریب آ کر کھڑا ہو گیا۔ہوا سے اس کے بال ا±ڑنا شروع ہو گئے اور باہر سے آتی روشنی میں اس کی آنکھیں چمک رہی تھی۔
وہ لمبی سانس لے کر کہنے لگا”تم نے تو مجھ سے پوری تعریف مانگ لی ہے میرے نزدیک آرٹسٹ ایک ایسا شخص ہے جو دنیا کو وہ دیکھاتا ہے جو وہ سیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتی،آرٹسٹ بنتا نہیں ہے یہ بنا ہوتاہے،آرٹسٹ پابندیوں سے لپٹا ہوا شخص ہے اس کی طرف غم آئے تو یہ صفحے پر اتار دیتا وہ اس کے غم سے پیدا ہوئی تخلیق ہوتی ہے مگر دنیا کے لئے تفریح،وہ اپنے آنسو صاف کرنے والے رومال کو دیوار پر مل دے تو دیوار ساری دنیا کو حقیقت بتانا شروع کر دیتی ہے،وہ دنیا کی خوبصورتی کا وکیل ہے انسانوں کی چھپی ہوئی صورتوں کو بے نقاب کرنے کا ٹھیکیدار،آرٹسٹ کی تخلیق ہی اس کی پہچان ہوتی ہے،وہ کسی پتھر سے محبت کر لے تو پتھر بولنا شروع کر دیتا اور ساری دنیا کو محبت کے گیت سنانے لگ جاتا ہے،اس کی طرف درد آ جائے تو وہ اس کو اپنے اندر جذب کر لیتا اور جب وہ باہر نکلتا ہے تو کسی تخلیق کی شکل میں نکلتا ہے پھر وہ درد صرف اس کا نہیں رہتا وہ سب کا درد بن جاتا ہے۔
اس کی آنکھوں سے دیکھو تو دنیا تمہیں کئی شکلوں میں نظر آئے گی،وہ تمہیں یہ سب سمجھانے کے لئے مختلف حربے اپناتا ہے جو سمجھتے ہیں وہ اس کے کارواں کا حصہ بن جاتے ہیں،اس کو سمندر کو کوزے میں بند کرنے کا فن آتا ہے وہ دو جملوں میں ساری کہانی کہ ڈالتا ہے جس پر دنیا واہ واہ کرتی ہے،وہ تمہیں دنیا کو اس رنگ سے دکھانے کی کوشش کرتا ہے جو تم ساری زندگی بھی نہیں دیکھ سکتے وہ بدصورتی میں چھپی خوبصورتی اور خوبصورتی میں چھپی بد صورتی دکھاتا ہے تاکہ تم سمجھ سکو دھوکہ کیا ہے”وہ کہتا ہوا خاموش ہوگیا اور میری طرف دیکھنے لگا جب بھی وہ کبھی ایسی باتیں کیا کرتا تو اس کی آنکھوں میں عجیب سی سختی ہوتی تھی شائد اس کے اندر پھٹنے کو آ تا تھا اور میں اکثر اس کی آنکھوں کو دیکھ کر گھبرا جاتا تھا۔اس بات کو کئی دن گز گئے وہ تیزی سے کاغذ کو رنگوں سے بھر رہا تھا”کبھی ایسا ہوا ہے تمہارا اس کام سے دل اکتا جائے اور تم اس کام کو چھوڑ دو”۔
وہ برش کو کاغذ پر پھیری جا رہا تھا اور اپنے کام میں مگن تھا اس کے بال بھی کافی سفید ہو گے تھے،ساتھ میں کہنے لگا”ہاں بالکل کبھی اکتا بھی جاتا ہوں مگر پھر بھی ساتھ ہی منظر ، شکلیں،درد میرے سامنے لائن میں کھڑے ہو جاتے ہیں اور چیخ چیخ کر کہتے ہیں مجھے بناو، مجھے اپنے ہاتھوں سے صفحے پر اتارو ہم دنیا کو کچھ بتانا چاہتے ہیں اور پھر مجھے وہ گھسیٹ کر اس کمرے میں لے آتے ہیں اور ان کو میں باری باری بناتا ہوں” باتیں سچ میں کمال تھیں اور میں اس کے ساتھ کتنے عرصے سے تھا۔اس کو سوال کرنے کی عادت نہیں تھی اور شائد اس نے اس وقت سے پہلے میرے سے سوال نہیں کیا تھا۔ایک دن برش سائیڈ پر رکھ کر پہلی دفعہ اس نے پوچھا۔
“تم اتنے سالوں سے میرے ساتھ ہو تم میرے پاس کرنے کیا آتے ہو میرے پاس ہے ہی کیا ان تصویروں کے علاوہ”میں اس کے سوال پر پریشان ہو گیا کتنا عرصہ بیت گیا تھا۔ وہ مجھے شیشے کے سامنے لے گیا اس کے بال بھی سفید ہو چکے تھے اور میرے بھی مجھے تو اس کی دوستی میں یاد بھی نہیں رہا تھا کہ ہم بوڑھے ہو چکے ہیں۔مگر اس کے سوال کا جواب دینا بھی چاہتا تھا کیونکہ اس نے میرے ہر سوال کا جواب دیا تھا۔میں نے کہا۔
“انصر تم سے ملنے سے پہلے مجھے لگتا تھا کہ میں ایک خوبصورت زندگی گزار رہا ہوں اور میرے پاس سب کچھ ہے گر تمہارے ساتھ پہلی ملاقات پر تم نے مجھے کہا تھا کہ کیا میں سچ میں اکیلا نہیں ہوں اور میں اس کو غلط سمجھا مگر بعد میں وقت گزرنے کے ساتھ مجھے اندازہ ہوا میں سچ میں اکیلا تھا اور یہ دنیا مطلب پرست تھی اور میں نے سمجھ لیا تمہارے پاس کافی علم ہے۔میں ڈر گیا ہوا تھا اور تم سے زندہ رہنا سیکھنا چاہتا تھا تمہارے پاس جواب ہوتے ہیں تمہیں اوپر والا لفظوں سے نوازتا ہے۔میں تم سے فارمولے سیکھ کر عملی زندگی میں لاگو کرتا تھا میں ہر مسئلے کو تمہارے پاس بیان کرتا اور میں حیران تھا انصر تمہیں ہر بات کا کیسے پتہ چلتا تھا اور آج تک جاننے کی کوشش کر رہا ہوں مگر راز کا تو پتہ نہیں تمہیں استاد مان کر میری زندگی آسان ہو گئی”بات کرتے کرتے میری آنکھوں میں آنسو آگئے مگر وہ مسکرا رہا تھا اور بہت خوبصورت مسکراتا تھا۔
میں جب بھی کسی شکل کو صفحے پر اتارتا ہوں تو آنکھیں انصر کی ہی بناتا ہوں کیونکہ میری ہر تصویر کی کامیابی اس کی آنکھوں سے ہی ہے میں نے جتنا اس کو مصوری کرتا دیکھا تھا شائد اتنا بنا نا سکوں کیونکہ میں بوڑھا ہو چکا ہوں۔انصر جاتے جاتے کہ رہا تھا”میں بہت کچھ بنانا چاہتا ہوں مگر وقت ختم ہوتا جا رہا ہے میرے جانے کے بعد اس کمرے کا خیال رکھنا کیونکہ اس کمرے میں بہت کچھ ہے اس کمرے میں روز نئی شکلیں نئی تصویریں آتی ہیں اور ہاتھ تلاش کرتی ہیں اگر وہ سب ناراض ہو گئی تو۔۔۔؟ میں نے ان کی بہت قدر کی ہے دیکھو تم بھی ان کی قدر کرنا تمہارے ہاتھوں انصر زندہ رہے گا” اور اس دن اس نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں رکھتے ہوئے کہا تھا وہ میرے ہاتھوں میں دم توڑ گیا تھا۔

