Site icon Writers Club Pakistan

شعلہ سا جل بجھا ہوں ہوائیں مجھے نہ دو

شعلہ سا جل بجھا ہوں ہوائیں مجھے نہ دو

میں کب کا جا چکا ہوں صدائیں مجھے نہ دو

جو زہر پی چکا ہوں تمہی نے مجھے دیا

اب تم تو زندگی کی دعائیں مجھے نہ دو

یہ بھی بڑا کرم ہے سلامت ہے جسم ابھی

اے خسروان شہر، قبائیں مجھے نہ دو

ایسا نہ ہو کبھی کہ پلٹ کر نہ آ سکوں

ہر بار دور جا کے صدائیں مجھے نہ دو

کب مجھ کو اعتراف محبت نہ تھا فراز

کب میں نے یہ کہا تھا سزائیں مجھے نہ دو

Exit mobile version