Site icon Writers Club Pakistan

میچورٹی کا عذاب (افسانہ)

تحریر: عروج احمد، لاہور
میں صبح سے چائے کا پانچواں کپ پی چکی تھی اور خود سے مسلسل لڑ رہی تھی۔ کچھ لوگوں کے لیے ان کی جوانی بہت برا دور لے کر آتی ہے اور میرے لیے میری سمجھداری برا وقت لے کر آئی تھی۔ جب سے عمر 35 کی ہوئی ہے میں دن رات پریشان اور الجھی رہنے لگی ہوں۔ ایسا کیوں ہے اس کا جواب کچھ مشکل ہے۔
ایک رات میرا اپنی دوست کے ساتھ کہیں جانے کا ارادہ تھا مگر اچانک وہ کہیں غائب ہو گئیں، مجھے اکیلے ہی جانا پڑا۔ تب مجھے تنہائی کا احساس ہوا۔ یہ احساس بڑھتے بڑھتے مجھے اس قدر متاثر کر رہا گیا کہ مجھے شدت سے لگا اس دنیا میں میری فکر کرنے والا کوئی نہیں ہے۔
یہ صرف ایک احساس نہیں بلکہ میری زندگی کا سب سے بڑا سچ بھی تھا۔ میں بہت سے رشتوں کے درمیان بہت تنہا زندگی گزار رہی تھی اور اپنی اس اداس زندگی کو خوشگوار بنانے کے لیے میں دوستوں کا سہارا لیتی تھی۔ اس حقیقت کو نظر انداز کیے ہوئے کہ اصل سہارا ہمسفر ہوتا ہے۔ میرا وجود اندر سے بہت بکھرا ہوا تھا مگر میں نے اپنے اداس چہرے پر ایک ہنستے مسکراتے چہرے کا خول چڑھا رکھا تھا۔ شوہر تھا یا سسرال، میکا تھا یا پھر دوست، سب میں ہمیشہ مسکراتی نظر آنے والی میں تھی۔ سب میں نمایاں اور سب سے الگ جسے زندگی کا کوئی غم تھا نہ کوئی فکر، ہر کوئی چاہتا کاش ایسی زندگی اسے بھی مل جائے۔
میں بچپن سے لڑکپن اور پھر جوانی کی جس دہلیز کو پار کر آئی تھی وہ سب میری ایک چیز میں پنہاں تھے اور وہ تھی میرے اندر میچورٹی کا پایا جانا۔ سب کو لگتا تھا میری میچورٹی خداداد صلاحیت ہے، جسے کبھی آنسو آتے ہیں نہ وہ بچوں کی طرح بی ہیو کرتی ہے۔ اس کا ہر قدم سمجھداری کا ہوتا ہے، ہر فیصلہ نپا تلا اور کہیں غلطی کی گنجائش نہیں ہوتی۔
میری بھولی بسری محبت تھی یا پھر میرے ان دیکھے بیوی والے چونچلے، سب ارمان میری میچورٹی کی نذر ہوگئے تھے۔ اب تو مجھے بس ہر حال میں مسکرانا تھا اور مسکراتے چلے جانا تھا۔ میں چاہ کر بھی اپنی میچورٹی کے عذاب سے باہر نہیں آسکتی تھی۔
بڑے سے کشادہ گھر میں خود کو ملکہ کی طرح محسوس کرنا اچھا احساس تو ہے مگر اس گھر کے دریچوں میں چھپی تنہائیوں کا خوف کسی کو نہیں معلوم ہوتا۔ میں انہیں خیالوں میں خود ہی خود سے محو گفتگو تھی کہ رانی کی آواز سنائی دی۔
”باجی آپ کو نادرا یاد کر رہی تھی۔“
میں نے رانی پر ایک نگاہ ڈالی اور خاموش رہی۔ رانی میرے جواب کا انتظار کیے بغیر دوسرے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔ وہ گھر کی نوکرانی تھی۔
نادرا رانی کے محلے میں ایک کم عمر بیوہ خاتون تھی۔ اس کےچھوٹے بچے تھے اور وہ اپنی بیمار ماں کے ساتھ رہتی تھی۔ کئی بار رانی نے اسے گھروں میں کام کے لیے کہا مگر اس نے صاف انکار کردیا، دوسری شادی کا مشورہ میں نے دیا تو اس پر بھی اس کا اعتراض تھا۔ اکثر اس کے بچے بھوکے سو جاتے تھے۔ رانی کے ہاتھوں میں اس کی کچھ مالی مدد کر دیا کرتی تھی۔ اس کا آج یاد کرنا بھی اسی مقصد کے لیے تھا۔
ایک دن میں نے رانی کے ذریعے اسے دوسری شادی کا پیغام بھیجا تو رانی نے اپنے کانوں کو ہاتھ لگا کر کہا۔
”باجی آپ نے کیسی معیوب بات کہہ دی۔۔ شادی ایک ہی کرنی چاہیے۔ ہمارے ہاں دوسری شادی کرنا معیوب سمجھا جاتا۔“
اس کے چہرے کے تاثرات ایسے تھے جیسے میں نے اسے گناہ کرنے کو کہہ ڈالا ہو۔ رانی سمیت اس کے محلے کی سب عورتوں کی ایسی ہی سوچ تھی۔
“باجی وہ کہتی ہے پہلا شوہر ہی سب کچھ ہوتا ہے۔۔ پھر میری بیٹیاں ہیں، دوسرا شوہر غلط نگاہ رکھے گا۔۔ زمانہ بہت خراب ہے۔۔۔ اور مجھے مزید بچے نہیں پیدا کرنے۔”
اس نے تمام بہانے سنا ڈالے تھے۔ میں پریشانی سے سر جھکا کر رہ گئی۔
مگر ہمارے نبیﷺ نے تو کہا کہ ایسی عورت سے شادی کرو جو زیادہ بچے کرے۔ پھر اسے اور بچے کرنے میں کیا اعتراض ہے؟“ مجھے تعجب ہوا کہ میں تو اپنے آپ کو ایک گناہگار عورت خیال کرتی ہوں مگر وہ خود کو ایک نیک عورت سمجھتی ہے جس کے لیے دوبارہ شادی کرنا بد فعل ہے مگر صدقے کے پیسوں سے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ بھرنا جائز ہے۔
وہ ان عورتوں میں سے تھیں جو پہلے شوہر کو خدا ہی مان لیتی ہیں مگر اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ دوسری شادی نہیں کی جاسکتی۔ شوہر تو تب تک ہے جب تک شادی چلے اب اگر وہ نہیں رہا تو دوسری شادی کرنے کا مقصد آسان زندگی گزارنے کے لیے راہ ہموار کرنا ہے اور اس کا شرعی حق بھی۔
میری بات سن کر رانی نے افسوس سے کہا ”باجی مرد اتنے اچھے نہیں ہوتے جیسے آپ سمجھ رہی ہیں۔۔ یہاں میرا پہلا شوہر میرا خرچہ نہیں اٹھا رہا تو اس کا دوسرا شوہر کیسے خرچہ اٹھائے گا؟“
یہ بات ٹھیک ہے کہ اگر ایک بار دل خراب ہوجائے تو دوسری بار بھروسہ کرنا مشکل ہوتا ہے مگر اسی کا نام زندگی ہے۔ گرنا، اٹھنا، اٹھ کر پھر سے چلنا۔
میں نے اسے سمجھایا ”ہمیں انسانوں سے نہیں اللہ سے امید رکھنی چاہیے۔ اچھا گمان اچھا وقت لاتا ہے۔“
مزید کچھ کہنا بے کار تھا کم از کم اس وقت تو مجھے جانا تھا۔ میں نے رانی کے ذمے کچھ کام لگائے اور پھر گھر سے نکل گئی۔
میں اپنی دوست کے ساتھ ایک چائے کیفے پر بیٹھی تھی، کچھ دیر گزری تھی کہ ایک لڑکا تابعداری سے سر جھکائے ہمارا آرڈر لینے چلا آیا۔ نیناں آرڈر دے چکی تو بے خیالی میں میری ویٹر پر نظر پڑی، اس کی بڑی سی داڑھی تھی اور اس نے سر پر اپنی ہڈ کی کیپ لے رکھی تھی جس کی وجہ سے اس کا چہرہ کچھ اندھیرے میں تھا۔ اب میں اس کی شکل دیکھ کر ٹھٹک گئی۔ میں نے گھبراتے ہوئے آرڈر دیا اور وہ تابعداری سے وہاں سے چلا گیا۔
شاید اس نے مجھے پہچانا نہیں تھا۔ پھر اس نے دور سے گزرتے ہوئے مجھے دیکھا اور مجھے ایسا لگا کہ وہ بھی مجھے پہچان چکا ہے۔ اب میں افسوس سے کبھی یہاں کبھی وہاں دیکھ رہی تھی۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔ مگر آج اسے دیکھ کر مجھے افسوس نہیں ہو رہا تھا۔ وہ جہاں تھا وہ وہیں ٹھیک لگ رہا تھا اور میں فخر سے سوچ رہی تھی کہ میرا فیصلہ صحیح ثابت ہوا۔ یہ وہی شخص تھا جس نے دس سال پہلے مجھ سے محبت کی تھی۔ پھر ہم دونوں ایک دوسرے کے لیے سنجیدہ ہو گئے۔ وہ اس وقت کھاتے پیتے گھرانے سے تھا پھر اس نے مجھے دھوکہ دیا اور وہ کہیں غائب ہو گیا۔
اس کے جانے کے بعد میں نے گھر والوں کے اصرار پر ان کی پسند کی شادی کر لی، میرا شوہر لاکھوں کما رہا تھا اور میں گھر بیٹھ کے لاکھوں اڑاتی تھی۔ خاندان میں سب سے رئیس ہونے کا شرف بھی مجھے حاصل تھا۔
آج اتنے سالوں بعد اس شخص کو ویٹر کے طور پر دیکھنا جس سے کبھی مجھے پہلی محبت ہوئی تھی، میرے لیے حیران کن تھا۔ نجانے وہ ان حالات تک کیسے پہنچا تھا۔
ایک لمحے کو میں نے دل میں اللہ کا شکر ادا کیا کہ میری اس سے شادی نہیں ہوئی ورنہ آج میں ایک ویٹر کی بیوی کی حیثیت سے زندگی گزار رہی ہوتی۔ میں نے اسے دوبارہ بلا کر وہاں کی سب سے مہنگی ڈشز آرڈر کیں اور کھانے کے دوران گاہے بہ گاہے اسے نخوت سے دیکھتی رہی۔ جان بوجھ کر میں نے مزید مہنگا کھانا آرڈر کیا اور وہاں کی سب سے مہنگی سویٹ ڈشز منگوائیں۔۔ بار بار میں نے اسی ویٹر کو بلایا اور اسے حقارت کا احساس دلا کر نخرے اٹھوائے۔
سامنے سے راعین آ رہا تھا۔ مجھے دیکھ کر دور سے ہی اس کی آنکھیں چمکنے لگی تھیں۔ اس کے ہاتھ میں لال پھولوں کا گلدستہ تھا اور شاید کوئی تحفہ بھی اس نے پیچھے چھپا رکھا تھا۔ میری میز کے قریب آتے ہی اس نے مجھے پھول پیش کیے جنھیں میں نے محبت سے بانہوں میں بھر لیا۔ پھر اس نے اپنے پیچھے سے دوسرا ہاتھ آگے کو کیا اور لال چمکدار ڈبہ میرے سامنے پیش کیا۔ میں نے اشتیاق سے اس ڈبے کو دیکھا تھا۔ بھلا میں اس سے کیسے تحفہ کی امید کر سکتی تھی۔ میرے واڈدوب میں ایک سے بڑھ کر ایک قیمتی لباس، جوتا اور جیولری موجود تھی اور سیف میں سونے اور چاندی کے قیمتی زیورات، جنھیں میں دیکھنا بھی پسند نہیں کرتی تھی تو ایک غریب عاشق سے مجھے کیا قیمتی تحفہ مل سکتا تھا۔
میں نے بظاہر محبت اور اشتیاق سے اس تحفے کو کھولنا شروع کر دیا مگر دل میں اس پر ہنس رہی تھی کہ غریب بندہ ایک رئیس محبوبہ کو کیا تحفہ دے سکتا ہے۔ ڈبہ کھلتے ہی میرے سامنے ایک مخمل کا ڈبہ تھا۔ میرے دل نے تیزی سے دھڑکنا شروع کر دیا۔ میں نے تعجب سے راعین کو دیکھا جو یک ٹک مجھے ہی گھور رہا تھا۔ میں نے جلدی سے اس ڈبے کو کھول ڈالا۔ میرے سامنے کھلے ڈبے میں سجی سونے کی نفیس چین میرے دل کی دھڑکن روکے ہوئے تھی۔ میں نے اسے محبت سے دیکھا تھا۔
” تم نے اس کے لیے اتنے ماہ اوور ٹائم کر کے خود کو کیوں تھکایا..؟ میں تو اس گلدستے پر بھی راضی تھی۔”
میں نے اسے ناراضگی سے آنکھیں دکھائی تھیں۔ وہ چھوٹی موٹی نوکری کے ساتھ اوور ٹائم کام کر کے اسے لینے کے قابل ہوا تھا۔ جبکہ میرے شوہر کی ایک ماہ کی تنخواہ سے میں ہر مہینے ایک بھاری سیٹ لے کر پہن سکتی تھی۔
میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ میں جانتی تھی یہ نازک سی چین، میری سیف کے لاکر میں پڑے تمام بھاری زیورات میں سب سے ہلکی مگر میرے لیے سب سے زیادہ اہمیت رکھتی تھی۔
راعین نے محبت سے دیوانوں کی طرح مسکرا دیا تھا۔
”کیا آپ کو لگا راعین کی محبت اتنی سستی ہے کہ وہ آپ کو چند گلابوں پہ ٹرخا دے گا۔۔ ٹھیک ہے، آپ کے شوہر کے برابر تحفے دینے کی حیثیت نہیں ہے، مگر اپنی ہمت کے مطابق تو ہم بھی آپ کو تحفہ دے سکتے ہیں۔”
میں نے سونے کی خوبصورت چین پر دھیرے سے انگلیاں سرکائی تھیں اور کچھ یاد آتے ہی وہ ڈبہ بند کر کے اپنے پرس میں سے ایک تحفہ نکال کر اس کی جانب بڑھایا تھا۔
وہ اب حیرانی سے اسے دیکھنے لگا تھا۔ میں نے اس کے ہاتھوں سمیت اس تحفے کو اس کی جانب دھکیلتے ہوئے تائید کی تھی۔
”اسے ابھی نہیں کھولنا۔۔ گھر جا کر کھولنا۔۔“
میں اسے شرمندہ ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی تھی۔ میرا تحفہ اس کے تحفے سے زیادہ قیمتی تھا۔
وہ بہت خوش تھا اور اس تحفے کو دل سے لگاتے ہوئے مان سے کہہ اٹھا تھا۔
”میں اس تحفے کو محبت سے پیک کرنے والے ہاتھوں کی محنت پر قربان جاؤں۔۔ میرا بس چلے تو اسے کبھی نہ کھولوں۔“
میں بے اختیار ہنسی تھی اور ہنستی چلی گئی تھی۔ میرے سنہرے چمکتے لباس کی طرح میری آنکھیں بھی چمکنے لگی تھیں اور ان میں نمی ابھر آئی تھی۔ اسی لمحے وہ خدمتگار وہاں سے گزرتے ہوئے مجھے اور راعین کو کڑھتے ہوئے دیکھتا رہا تھا۔
میں نے نیناں کو نظر انداز کر کے راعین کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر چوما تھا اور اسے اپنے گالوں سے لگا کر اس کی محبت کو محسوس کرتے ہوئے کچھ سوچنے لگی تھی۔ راعین محبت سے مجھے دیکھتا چلا گیا تھا۔
میرے دل میں سوال اٹھا نجانے سات سمندر پار بسنے والے شخص سے میں نے کیوں رشتہ بچا رکھا ہے۔ جس کے دل کا میرے دل سے کوئی واسطہ نہیں۔۔ اور جسے وہم ہے کہ عورتوں کے لیے پیسہ سب کچھ ہوتا ہے۔۔
پھر مجھے خیال آیا اس کا کوئی قصور نہیں مشینوں میں رہتے ہوئے انسان خود بھی مشین ہی بن جاتا ہے۔ کمی تو مجھ میں ہے میں اتنی میچور جو ہوں۔
چائے کے ساتھ ڈھیروں باتیں کرنے کے بعد ہم وہاں سے اپنے اپنے گھروں کو لوٹ آئے تھے۔ میں نے گھر آ کر اس سونے کی چین کو کئی طرح سے چھوا تھا اور اپنے ساتھ لگا کر خوشی محسوس کی تھی۔ یہ میرے لیے اس محبت کی طرح تھی جیسے ڈوبتے ہوئے کو آخری سہارا ملتا ہے۔
میں اپنے گھر کی واحد میچور عورت تھی جس نے اپنی زندگی کا ہر فیصلہ صرف عقل سے کیا تھا۔
میں نے پہلا رشتہ بھی بچا رکھا تھا۔۔ جو کہ میرے روشن مستقبل کی ضمانت تھی اور آخری محبت بھی نبھا رکھی تھی۔۔ جو میری دلی خوشیوں کی کفیل تھی۔۔
Exit mobile version