جلال آباد اور مزار شریف کو فتح کرنے کے بعدطالبان کابل کے مضافات میں داخل ہوگئے صدارتی محل میں اقتدار کی منتقلی اور عبوری حکومت کے قیام پر مذاکرات جاری ہیں جس میں اشرف غنی حکومت چھوڑنے کو تیار ہوگئے ہیں۔ترجمان طالبان نے دارالحکومت میں پُرامن طریقے سے داخل ہونے اور عام معافی کا اعلان کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان نے دونوں صوبوں کے محکمہ انٹیلیجنس، گورنر کا دفتر، پولیس ہیڈکوارٹر اور مقامی جیل پر قبضہ کرلیاہے،طالبان کابل کے جنوب میں 200 کلومیٹر کے فاصلے پر پہنچ چکے ہیں۔
افغان طالبان نے 70 فیصد افغانستان پر کنٹرول حاصل کرلیا، طالبان نے اب تک افغانستان کے 34 میں سے 20 صوبائی دارالحکومتوں پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔
جن صوبوں پر طالبان نے قبضہ کیا ہے ان میں نمروز، جوزجان، سریل، تخار، قندوز، سمنگان، فراہ، بغلان، بدخشاں، غزنی، ہرات، بادغیس، قندھار، ہلمند، غور، اروزگان، زاہل، لوگر، پکتیکا اور کنڑ شامل ہیں۔
دوسری جانب پینٹا گون کے ترجمان جان کربی کا کہنا تھا کہ اتوار تک 3ہزار سے زائد فوج پہنچ جائے گی، کینیڈاور دیگرملکوں کی بھی فوجیں اپنے شہریوں کو بچانے کے لیے افغانستان میں اتریں گی۔
واضح رہے کہ افغان صدر اشرف غنی نے افغانستان کی موجودہ صورتحال کے پیش نظرعالمی برادری سے تعاون کی اپیل کی ہے۔

