رائٹر: نوید احمد جتوئی
ارسطو کا قول ہے کہ” انسان ایک معاشرتی حیوان ہے ” یہ بات تب تک ٹھیک تصور کی جائے گی جب تک انسان اپناذہنی توازن کھو نہ دے انسان کا ذہنی توازن معاشرے سے الگ رہنا یہ پھر میل جول کم کرنا سے بھی بگڑتا ہے اور اس کو عام الفاظ میں ہم نفسیاتی مریض یا پھر ذہنی پاگل جسے سائکو کہا جا تا ہے بولتے ہیں یہ ذہنی بگاڑ ان دو صورتوں بڑی تعداد میں نظر آتی ہے ایک جب انسان کسی اعلیٰ عہدے پر فائز ہو تب یہ نفسیاتی کھیل شروع ہوتا ہے جس سے انسان اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کرنے کی بھر پور کوشش کرتا ہے یہ شخص اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ حاصل کرنے کیلئے لوگوں ڈرانا دھمکانا معمول بن جاتا ہے ،اب وہ ایک نارمل انسان نہیں بلکہ نفسیاتی مریض بن چکا ہو تا ہے ،عہدہ چاہئے گورنمنٹ ملازم کا ہو یا پھر پرئیویٹ سیکٹر کا اس سے انسان اپنے ارد گرد کے دوسرے لوگوں کو کیڑے مکوڑے سمجھنے لگتا ہے اور اپنے آپ کو ایک اعلیٰ درجہ دیتا ہے تو اس کا تہذیب و تمدن اور ادب و آداب سے کوئی واسطہ نہیں رہتا اب اس کو مرد و عورت سے بات کرنے کا سلیقہ نہیں رہتا کیوں کہ وہ ذہنی غلام بن چکا ہو تا ہے اس شخص سے فضول بحث کرنے کی بجائے کنارہ کشی اختیار کرنا بہتر ہوتا ہے ۔
اس قول کے دوسرے پہلو کو دیکھا جائے تو ہمیں یہ لگے گا کہ ایک انسان واقعی میں بہت کچھ کر گزرنے کی طاقت رکھتا ہے انسان نے سائنسی علوم کو پڑھ کر جدید ترین ٹیکنا لوجی بنائی جس سے انسانی معاشرے نے بہت ترقی حاصل کی ہے چاند پر قدم رکھنا ایک خواب تھا لیکن سائنس کی بدولت حقیقت میں بدل گیا حالات حاضر میں انسان نے اپنے کئی روپ دھار رکھے ہیں ہر کسی کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اچھا کر کے معاشرے میں مقام پیدا کرے بہت خوشی کی بات ہے اور اس سے معاشرے میں سدھار پیدا ہوگا ،اسی خواہش کو دل میں لے کر انسان علم کی طرف مرکوز ہوتا نظر آتا ہے ۔
حدیث نبوی ؐہے کہ “علم حاصل کرو چاہیے تمہیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑ جائے” علم حاصل کرنے کا مقصد ہر انسا نی تربیت ہے اگر انسانی نشو نما ،رہن سہن، بول چال کو پر کھنا ہے تو اس کے اخلاق دیکھو آپ کو معلوم ہو جائے گا انسان کے روپ میں انسان ہے یا کوئی بدنماجانور ، تربیت ہمیشہ بچپن سے ہوتی ہے لیکن جوانی کے شباب عالم میں مست انسان کی تربیت کا اندازہ اس کے رہن سہن ، بول چال سے نہیں بلکہ اس کی زبان سے نکلےالفاظ سے لگایا جاتا ہے انسانی زبان تربیت کے ساتھ اس کی ذہنی غلامی یا اعلیٰ حسن پر کھنے میں مدد دیتی ہے۔
تو جناب اب چلتے ہیں لاہور کی جانب جہاں مشتاق احمد یوسفی صاحب انسانی تربیت کے حوالے سے ایک سبق لکھتے ہیں انہوں نے یونیورسٹی کے طالب علموں پر موجود چار گروپس کے بارے میں بتاتے ہیں جس میں پہلا گروپ جمالی قسم کا ہوتا ہے ،دوسرا گروپ خیالی،تیسرا کمالی جبکہ چوتھا گروپ تربیت یافتہ طالب علموں کا ہے ،آج ہم صرف خیالی گروپ کی بات کریں گےجس کا تربیت سے دور دور تک کو ئی واسطہ نہیں بظاہر طالب علم لیکن ہر وقت عجیب و غریب خیالوں میں گم رہتے ہیں اور اپنے آپ کو دوسروں پر فوقیت رکھتے ہیں وہ اس بدنما خیال میں گم رہتے ہیں کہ وہ ہر کام میں ماہر ہیں ،لیکن غرض اس بات کی ہے کہ اگر آپ تربیت گاہ میں رہتے ہوئے تربیت حاصل نہ کر سکے تو اس میں قصور آپ کے استاتذہ اور دنیا کا نہیں بلکہ آپکی ذہنی غلامی کا جس میں آپ بری طرح جکڑےجاچکے ہیں۔
تو خیالی گروپ سے ایک بڑی مثال جناب شیخ چلی صاحب ہیں جو صرف خواب دیکھا کرتے تھے جس کی کوئی تعبیر نہیں تھی ان کے خواب میں اور ان طلبہ کے خواب میں ایک فرق لازمی ہے کہ جناب چلی ان پڑھ تھے اور امیر ہونے کے خواب دیکھا کرتےتھے لیکن ان طلبہ میں کچھ نوکری پیشہ افراد ہیں اور ان کا خواب اپنے عہدے کا بھرم و رعب جمانا ہے ،ان کی ہروقت کی لڑائی اور بد اخلاقی زبان استعمال پر باقی تمام طلبہ ہمیشہ پریشان رہتے ہیں ان کو اس بات کا زرہ برابر بھی خیال نہیں ہوتا کہ ان کے اس رویہ سے باقی لوگ کتنا پریشان ہوتے ہیں وہ یہ سمجھتے ہیں ہم نوکری والے افراد ہیں جیسا چاہیں گے ویسا ہو گا مگر بد قسمتی سے یہ خواب خواب ہی ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں تربیت یافتہ طلبہ کا گروپ اپنے اخلاق کو مد نظر رکھتے ہوئے زیادہ تر خاموشی اختیار کرتے اور ان کو برداشت کرتے لیکن جب ان کی بدسلوکی حد سے تجاوز کرجاتی ہے تو پھر خاموشی توڑ کر لڑائی جھگڑا کرنے پر مجبور ہو جاتے پھر وہ یہ سوچتے ہوئے کنارہ کشی اختیار کرتے تھے کہ یہاں ان سے کیا لڑنا ان کا ادب سے واسطہ ہی نہیں ہے ان کی تو مثال اس بپھرے کتے کی مانند ہے جو راستے میں آتے جاتے ہر انسان کو کاٹتا رہتا ہے ۔
رانزویا برٹ جو تاریخی فلاسفرہے اس نے کیا خوب لکھا اگر منزل و مقصود تک پہنچنا ہے تو بہت ہی کتھن اور دشوار راستوں سے جانا پڑے گا اس راستے میں آپ کو ہزاروں کتے ملیں گیں لیکن آپ ان کو ٹکڑے ڈال کر نکل جانا نہیں تو ان کے چنگل میں پھنس کر راستہ بھٹک جاؤ گے۔
نوکری ایک ذہنی غلامی ہے اور اگر سرکاری نوکری ہے توبھیا پھر ذہنی غلامی میں جکڑا ہوا انسان ہے جو صرف خیالات ہی دیکھ سکتا ہے خواب دیکھیں اس پر پابندی نہیں ہے ، سرکاری نوکری میں بیٹھا شخص اس حد تک ذہنی غلام بن جاتا ہے کہ اس کو باقی تمام انسان اپنے تابع نظر آتے ہیں جبکہ حقیقت کچھ اور ہے وہ یہ سمجھتا ہے عوام اس کے غلام ہیں حالانکہ وہ خود ایک غلام ہو تا ہےوہ عوام کو آنکھیں دکھا رہا ہوتا ہے جن کے ٹکڑوں پر وہ خود پل رہا ہوتا ہے ،خیالی پلاؤ اس کے ذہن بیٹھ جاتا ہے اور اس کی نہ تو کوئی مثال ہے اور نہ ہی علاج اس لیے ان سے فضول بحث کرنے کی بجائے اپنا کام کرو اور چلتے بنو۔
اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ان نوکری پیشہ افراد سے الجھنے کی بجائے اپنا قیمتی وقت ضائع ن کریں اپنے مقصد پر توجہ مرکوز رکھیں ان کی ذہنی غلامی سے دور رہیں تا کہ آپ اپنی زندگی سکون سے گزاریں آپ ان کے فضول جٹجہ سے بچ کر اپنا قیمتی وقت ضائع نا کریں ،پاکستان زندہ آباد ۔آمین!
نوٹ : قارئین سے گزارش ہے کہ مکھنے والے کی حوصلہ افزائی لازمی کیا کہ میں اور غلطیاں نکالی اصلاح کیا کریں تاکہ مزید اچھا لکھ سکےشکریہ!
ذہنی غلامی میں جکڑا انسان

