Site icon Writers Club Pakistan

مقدس شہر کی الف لیلہ

تحریر: قراتہ العین چوہدری

بچپن میں ہم پورے کے پورے عرب کو بہت ہی مقدس جگہ تصور کیا کرتے تھے مقدس شہر، مقدس لوگ اتنے مقدس کہ بغداد کی الف لیلہ پڑھتے ہوئے بھی سوچا کرتے کہ ایک شہر تو اس دنیا میں ایسا بھی ہے جہاں گناہوں کو کوئی تصور ہی نہیں ہمہ وقت ہاتھ میں تسبیح پکڑے شیخ صاحب پھرا کرتے ہیں ۔
“جنتوں کا شہر” اسلام سے وابستگی ایک الگ چیز ہے مگر ان شعائر اسلامی سے وابستگی اور تقدس کا ایسا عجیب و غریب تصور ہمیں گھٹی میں پلا دیا گیا ہے کہ ہم نے قران کو بھی ” طاقوں میں سجایا جاتا ہوں، سینوں سے لگایا جاتا ہوں” کی ایک مثال بنا کر گھر کی سب سے اوپر کے طاق پر سجا کر رکھ دیا ہے۔
صد افسوس’ اگر کبھی اس قرآن کی زبان کو سمجھنے کی زحمت کر لی ہوتی تو آج اچھرہ بازار لاہور میں، خاتون کے کرتے کو لے کر جو عجیب و غریب واقعہ پیش آیا ہے اور جو جگ ہنسائی ایک دفعہ پھر ہمارا مقدر بنی ہے، شاید اس کی نوبت نہ آتی۔ تفصیل اس اجمال پر ملال کی کچھ یوں سامنے آئی کہ مذکورہ خاتون  نے اپنے تئیں عربی رسم الخط سے مزین ایک ٹرینڈی کرتا پہنا اور ایک ایسے بازار میں خریداری کے لیے آگئیں
مذکورہ کرتے پر عربی رسم الخط میں “خلو” اور “حلوہ” کے الفاظ درج تھے جس کا مطلب ہے “خوبصورت”

انجانے میں پہنے اس کرتے کی وجہ سے غلط فہمی پھیلی یا پھر جہالت کچھ لوگوں نے اسے آڑے ہاتھوں لینے کی کوشش کی۔ قبل اس کے کہ اس بھیانک جرم کی آڑ میں خاتون کو سری لنکن پردیسی کی طرح کوئلے کے ڈھیر میں بدل دیا جاتا، پولیس نے وہاں پہنچ کر خاتون کو بمشکل نکالا’ بعد ازاں خاتون نے عوام الناس سے اس امر کی معافی بھی طلب کی ہے۔

یوسفی صاحب سے ایک دفعہ کسی عرب نے کہا تھا کہ “مسلمان تو ہم بھی ہیں لیکن آپ لوگ تو کلمہ پڑھ کر باؤلے ہی ہو گئے ہیں”
اج اس بات کا مطلب اچھے سے سمجھ میں آرہا ہے۔ “تقدس” کا جو تالا ہمارے دماغوں پر لگ چکا ہے یہ علم کے کسی روزن کو ہم پر کھلنے ہی نہیں دیتا۔ آئے دن ہم اس کم علمی اور شدت پسندی کے باعث تمام اقوام عالم کے سامنے ہزیمت اٹھاتے ہیں، لیکن اپنی روش بدلنے کو تیار نہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ مذہب کے اوپر سے بے جا تقدس کا یہ چولا اتار کر اسے عمل میں لایا جائے تاکہ وہ دین جس نے 14سو سال پہلے آپ کو بہترین انسان کی یہ تعریف بتائی تھی کہ “جس کے ہاتھ اور زبان کے شر سے دوسرے محفوظ رہیں” اس پر عمل پیرا ہو سکیں۔ اور ہم بھی سر اٹھا کر کہہ سکیں کہ ہم صرف شدت پسند اور جاہل لوگوں کا ایک ہجوم نہیں ہیں درحقیقت ایک “قوم” ہیں وہ قوم جس کے مذہب میں جانور تک کو ایذاء دینے سے منع کیا گیا ہے۔ ہمسایوں تک کے حقوق بیان کیے گئے ہیں۔
المیہ یہ ہے کہ ایسے پرامن اور محبت کے دین کو اپنی ایسی احمقانہ شدت پسندی سے ہم ناقابل تلافی نقصان پہنچا رہے ہیں ۔

شہر گل کے خس وخاشاک سے خوف آتا ہے

جس کا وارث ہوں اسی خاک سے خوف آتاہے

رحمت سید لولاک پہ کامل ایماں!
امت سید لولاک سے خوف اتا ہے”

Exit mobile version