ازقلم: قرۃ العین چوہدری
” ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور گرتی ہوئی معاشی صورتحال نے ہر ایک کا جینا دو بھر کر رکھا ہے اشیائے ضرورت کی قیمتوں کے مسلسل اتار چڑھاؤ بلکہ صرف “چڑھاؤ” نے سفید پوش ہی نہیں بلکہ ہر طبقے کو متاثر کیا ہے۔
ایسے میں جو چیز مہنگائی سے بھی زیادہ تشویش ناک ہے وہ ہے لوگوں کا بدلتا ہوا رویہ ملک حالات حتی کہ زندگی تک سے بیزاری …
آپ کسی بھی محفل میں بیٹھ جائیں، “اس ملک میں کچھ نہیں رکھا،
“ملک کا بیڑا غرق ہو چکا
قسم کے جملے کثرت اور تواتر سے سننے کو ملیں گے۔ یہ صورتحال تشویش ناک ہے۔
ملکوں اور قوموں پر اچھے برے وقت اور حالات آتے رہتے ہیں لیکن کوئی قوم یوں ببانگ دہل اپنے ہی ملک کو برا بھلا نہیں کہتی ہوگی، جیسا رویہ ہم نے احتیار کر رکھا ہے۔
جگہیں بذات خود اچھی اور بری نہیں ہوتی ہیں ان پر بسنے والے افراد ان کے اچھے اور برے ہونے کے ضامن ہوتے ہیں ۔
چلیں ایک لمحے کو مان لیتے ہیں اس ملک نے اپ کو کچھ نہیں دیا۔ سوال یہ ہے کہ
“اپ نے اس ملک کو کیا دیا ہے”؟
ملک آسانی سے نہیں بنا کرتے اور آزادی صرف قربانی ہی نہیں مانگتی اس کے بعد بھی بہت کچھ مانگتی ہے تشکر اور احساس ذمہ داری۔
یہ وطن آپ کا ہے تو آپ کی ذمہ داری ہے اس کا امیج بہتر بنانا، اس کی تعمیر و ترقی کے لیے اپنے حصے کی شمع جلانا، یا کم کم از کم اس کے خلاف بولنے والوں کا منہ بند کروانا۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا تھا
” وطن سے محبت ایمان کی علامت ہے” اور آپ دنیا کے کسی بھی کونے میں جا بسیں مرتے دم تک “پاکستانی” ہی رہیں گے سو اپنی پہچان اپنے ایمان کی علامت کو اپنے ہاتھوں سے مدھم نہ کریں۔
اپنے حصے کی شمع تو جلاتے جائیں تاکہ آنے والے کل میں تاریخ ہمیں ناشکری اور بے ایمان قوم کے طور پر یاد نہ رکھے۔
اس ملک میں کیا رکھا ہے؟

