Site icon Writers Club Pakistan

وہ جو ایک لڑکی تھی

تحریر: ساجدہ حسین
خوشیوں کے وہ سارے لمحے پلک جھپکتے جھپ سے کسی چور دروازے سے اس کی زندگی سے نکل گئے
اور وہ ہکا بکا حراساں سی ان چھپ سے نکلتے ہوئے خوبصورت لمحوں کو دیکھتی رہ گئی۔وہ لڑکی جو 25 سال اپنے ماں باپ کے گھر خوشیوں کے ہنڈولوں میں جھولتی رہی دن رات جس کے اپنے تھے سنہری دوپہریں،سرمئی شامیں ،اور جھومتی راتیں، بہن بھائی،دوست احباب،پھول اور رنگ کتنی حسین گزری تھی اس کی زندگی۔وہ اورخوشیاں وہ لمحے سب کے سب وہ اپنے بابل کے آنگیانے میں چھوڑ آئی اور ایک نئی دہلیز پہ کھڑی ایک نئے پل کا سواگت کرنے۔

مگر ہر لڑکی کی زندگی کے وہ لمحے ایک جھٹکے سے گزر جاتے ہیں اور وہ ایک نئی تمنا کے سنگ چپ چاپ پی کے نگر اترتی ہے-تو نئے لوگ نئے چہرے مختلف مزاج کچھ اچھے، کچھ برے، نئی سیاستیں، نئی جہتیں، لیے اس کا استقبال کرتے ہیں۔اور وہ وہ بکھلائی ، بکھلائی بقیہ ساری زندگی ان کے نام سونپنے کے لیے تیار ہو جاتی ہے۔یہ اس کے ارمانوں، اس کی خواہشوں، اور خوشیوں، کی پہلی موت ہوتی ہے۔ اب صرف اور صرف انہی لوگوں کی سنگت میں رہنا ہوگا۔نہ چاہتے ہوئے وہ کچھ کرنا ہوگا جو یہ لوگ چاہیں گے پھر وہ ہر پہلو پہ بیٹھ کر سوچتی، یہ میری زندگی کا دوسرا حصہ شروع ہونے والا ہے۔

مجھے کیسے چلنا ہے، کیا کرنا ہے، پرانی زندگی کو تو ایک ہوا کا جھونکا تھا جو لے اڑا سب کچھ۔دوسری نئی زندگی کے آغاز میں چند بہت معمولی شاید کبھی یاد بھی نہ ہو خوشی کے وہ لمحے تھے، جو گزر گئے جیسے کانٹوں بھرے گلاب۔نئے لوگوں کے موڈ مزاج دیکھ کر اپنی خوشیوں کو دبانا ،ہر لمحے قربانی دینا ،کبھی میاں کی خاطر، کبھی اولاد کی خاطر، تو کیا یہ قربانیاں صرف لڑکی کی قسمت میں ہی لکھی ہیں؟ وہ جھنجلائی۔اولاد ہو گئی تو پاؤں کی بیڑی بن گئی وہ چاہتے ہوئے بھی کچھ نہ کر سکی ۔ وہ شخص جو بہار بن کر اس کی زندگی میں آیا تھا شاید اس کا چہرہ بدل گیا تھا اور وہ کسی نامعلوم وجہ کی بنا پر اس سے بہت دور چلی گئی مگر اولاد جو اس کے پاؤں کی بیڑی تھی۔

وہ تا حیات بھرے گلے کے ساتھ اس شخص اور ان بیڑیوں کے ساتھ گزارنے کا عہد کر لیتی ہے۔ماں باپ نصیحت کرتے ! اپنے گھر اور اولاد کو دیکھو ،مگر وہ اپنی ذاتی خواہشات کا گلا دباتے دباتے تھک سی گئی تھی۔وہ لڑکی اپنے اندر ہی کہیں گم ہو گئی تھی کوئی راہ نہیں-کوئی سہارا نہیں-کوئی مثبت پہلو نظر نہیں آتا وہ کیا کرے؟ آنسو قطرہ قطرہ لہو بن کر دل کے نہال خانوں میں گرتے رہے اور وہ اپنے اپ سے لڑتے لڑتے تھک سی جاتی ہے،مگر یہ لڑائی بھی تو اسے خود ہی لڑنا تھی کیونکہ وہ ایک لمحے کا کیا ہوا فیصلہ اس کی جان کا وبال بن گیا____کاش وہ کسی کی بات مان لیتی اس لیے کہ جو فیصلے ہم اپنی نا تجربہ کاری کے باعث کرتے ہیں وہ عموما غلط ہو کر ہم کو ہم ہی سے چھین لیتے ہیں۔اپنی ساری خوشیاں تیاگ کر اپنے شوہر کو اپنانے کا فیصلہ اس کا خود اپنا تھا۔
“خود کردہ راہ علاج نست”

وہ خود ہی دل میں سوچتی اب وہ تمام خوشیاں اس سے کہیں بہت دور نکل گئی تھیں۔ زندگی سے سمجھوتہ کرنا ہر لڑکی کا انجام کچھ اسی طرح سے ہوتا ہے۔ یہ معاشرے کی ہر زود رنج لڑکی کی کہانی ہے اس لیے کہ لڑکیاں بہت نازک احساسات کی مالک ہوتی ہیں۔ انہیں تو ساری عمر دینا ہی ہوتا ہے بنسبت لینے کی شاید کسی نے سچ کہا ہے کہ زندگی پھولوں کی سیج نہیں ہوا کر تی اسے ہنس کر گزار دو یا رو کر گزر ہی جاتی ہے مگر گزرے رویوں کے نشان اپنے پیچھے چھوڑ جاتی ہے۔ اسی لیے یہاں ہر ایک کو اپنے اپنے دکھوں کی صلیب خود ہی اٹھانا پڑتی ہے۔

Exit mobile version