Site icon Writers Club Pakistan

فلسطین، سلطنتِ عثمانیہ کا حصہ

تحریر: فاطمہ خان، تراپ اٹک

فلسطین ملک شام کے جنوب مغربی علاقے کو کہتے ہیں۔ فلسطین پہلی جنگ عظیم تک سلطنتِ عثمانیہ کا حصہ تھا۔ پہلی جنگِ عظیم کے بعد یہ ایک الگ مسلمان ملک کے طور پر قائم ہوا۔ فلسطین کا مسٸلہ سیاسی اور تاریخی ہونے کے ساتھ مذہبی ہے۔ فلسطین چونکہ انبیا ٕ کی سر زمین ہے۔ حضرت موسی علیہ سلام بنی اسرائیل کے ساتھ جس جگہ آباد ہوئے، وہ فلسطین ہی ہے۔حضرت داود علیہ سلام اور حضرت سلیمان نے اپنے زمانے میں جس ہیکل کی تعمیر کی وہ بھی فلسطین میں ہے جس کو بعد میں ٹائیٹس رومی نے مسمار کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ عیساٸیوں کا ماننا ہے کہ حضرت عیسی علیہ سلام کی پیدائشں کی جگہ بھی یروشلم (فلسطین) ہے۔ حضرت عمر بن خطاب نے اپنے زمانے میں وہ پہاڑ جس پہ رسول اکرم ﷺ براق پہ سوار ہوئے وہاں مسجد اقصی تعمیر کروائی۔ تو یہ یہود، عیسائی اور مسلمان تین مذاہب کے پیروکاروں کا مقدس ملک قرار پایا۔
یہودی برطانیہ کی مدد سے فلسطین میں پہلے آباد ہوئے اور پھر 1948 میں قبضہ کر کے الگ ملک کا درجہ پالیا۔ یہودی عرصہ دراز سے اس کوشش میں تھے مگر آخری سلطان سلطان عبدالحمید کی دوراندیشی نے ہمیشہ یہودیوں کو ناکوں چنے چبوائے۔ 1948 میں فلسطین جن کا اپنا ملک تھا انہیں مغربی کنارے اور غزہ تک محدود کردیا گیا۔ یہ سلسسلہ یہاں بھی ختم نہیں ہوا۔ 1967 میں مزید مسلمان علاقے اسرائیل میں شامل کردیے گٸے جہاں سے حالات مزید سنگین ہوگئے۔ اسرائیل مسلمانوں کے قبلہ اول (مسجد اقصی) کو مسمار کر کے ہیکلِ سلیمانی تعمیر کرنا چاہتے ہیں یہود یہ کام 1948 میں عرب ممالک سے جنگ کے بعد جب اسراٸیل نے تمام عرب ممالک کو شکست دی ،کرنا چاہتا تھا۔اسی طرح 1967 کی جنگ میں بھی حیران کن فتح اسرائیل کی ہوئی۔ قرآن پاک میں جیسا اللہ نے فرمایا یہود آج بھی ویسے ہی ہیں جبکہ اہل ایمان آج بدل چکے ہیں۔ وہ ایک جسدِ واحد ہوکر بھی اس درد کی چبھن کو محسوس تو کررہے ہیں مگر اظہار کرنے سے گھبراتے ہیں۔ کیونکہ یہ مسٸلہ صرف اسرائیل اور فلسطین کا نہیں بلکہ دو بڑی طاقتوں کا ہے۔ امتِ مسلمہ اور کفار ایک بار پھر سے آمنے سامنے ہیں۔ یہود کی پشت پناہی ہمیشہ سے عیسائی ممالک نے کی ہے۔کیونکہ وہ بھی یروشلم کے لیے مسلمان قوم کی حاکمیت کا تصور نہیں کرسکتے۔
امتِ مسلمہ جاگیے کہ یہ وہی فلسطین ہے جہاں معراج کی شب رسول اکرمﷺ سمیت 1 لاکھ 24 انبیائے کرام نے بیک وقت اللہ تبارک تعالی کے حضور سجدہ کیا۔ یہ وہی فلسطین ہے، جہاں آج ایک یہودی ریاست نے ظلم وبربریت کا بازار گرم کررکھا ہے۔ فلسطین مسلم امہ کے لیے شہ رگ ہے کہ جہاں سے اہل ایمان کو ہمیشہ تقویت ملی ہے آج وہ شہ رگ لہو لہان ہے۔ اور ایک بار پھر سے ہمارا امتحان ہے۔
؎آگ ہے، اولادِ ابراہیم ہے، نمرود ہے
کیا کسی کو پھر کسی کا امتحان مقصود ہے؟
7اکتوبر جب حماس (جنگجو گروپ) نے اسرائیل پر فضائی حملہ کیا اور اسرائیل کے شہریوں کو مغوی بنا لیا۔ حماس کے اس حملے کے نتیجے میں اسراٸیل فلسطین کشیدگی نے شدت اختیار کی۔ جنگ بندی کی سبھی کوششیں ناکام ہورہی ہیں کیونکہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ ”جنگ بندی کا مطلب کا ہے کہ اسراٸیل حماس کے سامنے ہتھیار ڈال دے، اور ایسا ممکن نہیں، یہ جنگ کا وقت ہے، یہ جنگ ہمارے مشترکہ مستقبل کے لیے ہے“۔
اربابِ اختیار ہوش کے ناخن لیجیے، اس جنگ کا مطلب ہے تباہی، کیونکہ یہ جنگ دو ملکوں کی نہیں بلکہ یہ جنگ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے والی ہے۔ اسراٸیل کے مطابق اس میں ایران کا ہاتھ ہے جبکہ ایران اگر فلسطین کا اتحادی ہے تو یقیناً اسراٸیل کے اتحادی بھی منظرِ عام پہ آنے والے ہیں۔ امن کے دعویدارو! اٹھو کہ امن کا سورج غروب ہونے کو ہے۔ یہ وقت لوٹ کہ نہیں آٸے گا۔ اے وقت کے منصفو! دیکھو کہ اسرائیل میں شہید ہونے والے مسلمانوں کی تعداد 8400 ہوچکی ہے، جس کا 40% ننھے معصوم بچے ہیں جبکہ 23000 مسلمان زخمی ہیں۔ اگر اب بھی سامراجی طاقتیں عمل میں نہ آٸیں تو جلد یا بادیر دنیا تباہی کے دہانے پر ہوگی اور وہ کفِ افسوس ملتے رہ جائیں گے۔
؎میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
کہ تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے
25 دنوں سے اسرائیل کی فلسطین پہ بمباری جاری ہے۔ گزشتہ شب غزہ کے زمینی اور فضاٸی سبھی راستے بند کردئیے گٸے۔ مسلم ممالک کی امداد فلسطینیوں تک پہنچنے سے روک دی گٸی۔ وہ دلخراش منظر کہ دیکھا نہ جائے اور لکھنے پہ بات آئے تو ہاتھ کپکپا جائیں، آنسو حلق میں منجمند ہو جائیں، وہ کرب کا منظر کہ وہ معصوم بچے! آہ! وہ معصوم بچے جنہیں ابھی چلنا سیکھنا ہے، الہی اس منظر پہ آسمان بھی اشک بار تھا اور دنیا نے دیکھا کہ شیر خوار اپنے والدین کی میت کی شناخت کے لیے لاٸے گٸے۔
پھر سے ایک بار میدانِ کربل سج گیا ہے۔ پھر سے اک بار دنیا اسلام کو آزمانے نکلی ہے مگر بھول بیٹھی ہے کہ ہم آلِ ابراہیم ہیں، ہمیں آگ میں جھونکا گیا تو ہم نے اس آگ کو گلزار کیا، ہم آل محمد ہیں کہ سنگسار کرو گے تو تب بھی مسکرا دیں گے۔ ہم تو فلسطینی ہیں، مر کر بھی یاد رہیں گے، ہر شے نیست ونابود کر دو مگر سن لو کفرکا انجام ہمارے سینوں میں بسا قرآن ہے۔ اپنے گھروں کے ملبے پہ ہمارے بچوں نے قرآن پڑھا۔ ہم ہمت نہیں ہارے، ہم اس کے بعد بھی مسکرا دیں گے، ہمارے لہو سے جو پھول کھلیں گے ان سے دینِ محمدی کی مہک آئے گی۔
اے وقت کے بادشاہو! آہ کہ امت مسلمہ سراپا احتجاج ہے۔ ہم پر امن احتجاج سے مسئلے کا حل چاہتے ہیں۔ 57 مسلم رہاستیں پر امن رہ کر حل چاہتی ہیں اور اقوامِ متحدہ اور دیگر طاقتوں سےفلسطین میں جنگ بندی کی پر زور اپیل کررہی ہیں۔

Exit mobile version