Site icon Writers Club Pakistan

رکھ کر نبیؐ کو سامنے، آرائشِ کردار کر

ابولہب آئے روز پیارے نبیؐ کے دروازے پر کوڑا کرکٹ اور غلاظت پھینک کر جاتا۔ اس کی بیوی ام جمیل آپؐ کے راستے پر کانٹے بچھا دیتی۔ نمازِ حالت میں آپؐ پر جانور کی اوجھڑی ڈال دی جاتی اور آپ شرافت و صبر کا دامن تھامے محض اتنا کہتے کہ :
” آلِ مطلب! پڑوسی کے ساتھ کیسا سلوک ہے یہ؟“
لوگ آپؐ پر پھبتیاں کستے۔
” کیوں محمدؐ! آسمان سے آج کچھ نہیں آیا؟“
پھر دلخراش باتیں تھیں۔
” سنو! ہم تمہیں دولت ، عزت ، شہرت سب کچھ دینے کے لیے تیار ہیں۔ دولت کی تمنا ہو تو بتاو ، ہم تمہارے قدموں پر ڈھیر کردیں گے۔ شہرت کی تمنا ہو تو تمہیں اپنا سردار بنالیں گے۔ اور اگر کہیں دماغی مرض ہے تو اچھے سے اچھا علاج کروائیں گے۔“
بخدا اگر عقل و نیت پر ایسا زبردست حملہ ہماری ذات پر کیا جائے تو ہم تلملا اٹھیں۔ حسبِ طاقت لوگوں کا دماغ ٹھیک کردیں۔ لیکن یہ ظرف بھی میرے نبیؐ میں تھا کہ وہ صبر کا مظاہرہ کرتے۔
اس پر بھی لوگوں کا دل نہ بھرتا تو منصوبے بناتے۔ کوئی کہتا :
” محمدؐ کے ہاتھ پاوں میں زنجیریں ڈال دو، پھر کسی مکان میں بند کردو۔“
” اسے دور دراز علاقے میں چھوڑ آو۔“
آخر میں ابو جہل نے محمدؐ کے قتل کی تجویز پیش کی۔ جس کا ذکر قرآن مجید میں اللہ تعالی نے سورة انفال میں کیا۔
ترجمہ : ” اور وہ وقت یاد کرو جب کافر تمہارے بارے میں چالیں چل رہے تھے کہ تمہیں قتل کردیں یا تمہیں جلا وطن کردیں۔ وہ اپنی چالیں چل رہے تھے۔ اور اللہ اپنی چال چل رہا تھا۔ اور اللہ سب سے عمدہ چال چلنے والا ہے۔“

خدا کا نور خندہ زن تھا باطل کی لیاقت پر

اور اللہ انہی لوگوں کا ساتھ دیتا ہے جو نبیؐ کی سیرت کو اپناتے ہوئے اللہ رب العزت پر بھروسہ کرتے ہیں۔

بقول محترم محمد عنایت اللہ سبحانی کے کہ:
”سلام ہو اس ذات پر جس کے ذریعے میری زندگی کو روشنی ملی۔ جس کی زندگی کو پڑھ کر فکر و نظر کو گہرائی ملی، خیالات کو بلندی ملی۔ جذبات کو ستھرائی اور پاکیزگی ملی۔ فضائل اخلاق اور حسن اعمال کا کامل ترین اسوہ ملا۔ عزم و حوصلہ اور صبر و استقلال کا بلند ترین نمونہ ملا۔ سیادت و قیادت اور پیشوائی و فرماں روائی کی کامیاب ترین مثال ملی۔ اور عبدیت و بندگی کی حسین ترین تصویر ملی۔ سلام ہو اس پر جس کا اتباع میری زندگی کا سرمایہ اور جس کی شفاعت میری آخرت کا سہارا ہے۔“
کیونکہ ایک جانب جہاں آپؐ نے ملنے والی بےانتہا تکلیفوں پر صبر کیا تو دوسری جانب آپ کی ذات صرف مسلمانوں کے لیے ہی نہیں بلکہ غیر مسلموں کے لیے بھی ایک نمونہ ہے۔ دشمنانِ اسلام بھی اس بات سے خوفزدہ رہتے تھے کہ:
” محمدؐ اپنی میٹھی باتوں ، سلیقے سے کی گئی گفتگو اور اخلاق و کردار سے لوگوں کا دل موہ لیتے ہیں۔“
نبی مہرباں صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مضبوط فرمان بھی تھا جو رہتی دنیا تک کے مسلمانوں کے لیے حدیث بن گیا۔ کہ:
”(کامل) مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان کو تکلیف نہ پہنچے۔“ (بخاری،ج1،ص15،حدیث:10)

سخن کے نور سے کردار کے اجالے سے
یہ کائنات بنی ہے تیرے حوالے سے!

Exit mobile version