تحریر: طیبہ سلیم
مما! آج ہمارے اسکول میں نائٹ پارٹی ہے… میں دیر سے گھر آؤں گا.. شایان تمہارے اسکول میں بہت پارٹیاں ہونے لگی ہیں.. ابھی دو مہینے پہلے ہی ایک پارٹی تھی.. بیگم سلطان نے اپنے لاڈلے بیٹے کو منع کرنے کی کوشش کی.. مما آپ بھی تو آئے دن پارٹیز میں جاتی ہے.. میں نے آپ کو منع کیا !
شایان نے دوبدو جواب دیا. بیگم سلطان کے پاس کوئی جواب نہ تھا .. کیونکہ انہوں نے خود اپنے بچوں کو بےجا ازادی دے رکھی تھی.. اپنی ہائی سوسائٹی کے اسکولز میں داخل کروانے کی وجہ سے آئے دن کوئی نہ کوئی ایونٹ ہوتا رہتا تھا جس میں نمودو نمائش کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا تھا..
سلطان اور ناہید بیگم متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے ان کا ایک معمولی کارخانے نے اتنی ترقی کی کہ وہ مل کے مالک بن گئے ..
جب دولت آتی ہے تو رہن سہن بھی تبدیل ہو گیا۔ بچوں کو ڈیفنس کے مہنگے ترین سکول میں داخل کرا دیا تھا.. دو بیٹے شایان، زیان اور ایک یٹی رافعہ ہی ان کی کل کائنات تھیں. بیگم سلطان نے بھی اپنی مصروفیات کا دائرہ کار تبدیل کر لیا تھا. اب وہ این جی اوز کی ایک فعال کارکن تھی بچوں اور گھر ملازموں کے حوالے کر کے آئے دن بیرون ملک تقاریب میں مصروف رہتی تھی ..کیا رافعہ جائے گی ! نہیں رافعہ نے منع کر دیا ہے اس کی کل سے طبیعت خراب ہے.. شایان نے جواب دیا.. اچھا کیا ہوا.. اسے . بیگم سلطان گبھرا گئی اور رافعہ کے کمرے کی طرف چل پڑی۔
دیکھو! میں پہلے بھی تمھیں کافی رقم دے چکی ہو .. اب مزید نہیں دے سکتی .. اتنی رقم میں کیسے مانگو ..بیگم سلطان کے کانوں میں رافعہ کے الفاظ پڑ رہے تھے..اور انہیں محسوس ہوا کہ وہ اپنی بیٹی سے بہت دور جا چکی ہے کہ وہ تنہا کس سے لڑ رہی ہے ..اپنی بیٹی کی یہ حالت دیکھ کر انہیں اپنی لاپروائی پر غصہ آیا..کچھ سوچتے ہوۓ وہ آگے بڑھی …رافعہ بیٹی! کیسی طبیعت ہے..رافیہ بیگم سلطانہ کو دیکھ کر فورا فون بند کرتی ہے..
جی مما ! میں ٹھیک ہو! آپ میرے کمرے میں کیسے آگئی مجھے بلا لیتی …رافعہ نے اپنی حالت چھپاتے ہوئے کہا! نہیں .. مجھے بہت پہلے آجانا چاہیے تھا .. غلطی ہو گئی مجھ سے … کیا ہوا مما .. ایسی باتیں کیون کر رہی ہے! رافعہ میں نے سب سن لیا ہے .. تم مجھے بتاؤ میں تمھاری مدد کروں گی ..
مما! وہ میرا کلاس فیلو فرحان ہے .. اس نے پارٹی کے دوران میری تصاویر اور ویڈیوز بنا لی اور مجھے پتا ہی نہیں چلا .. اب مجھے وہ بلیک میل کر رہا ہے .. میں دو تین دفعہ کافی رقم دے چکی ہو .اب وہ دوبارہ مطالبہ کر رہا ہے .. تم مجھے اس کا نمبر دو .. میں کچھ کرتی ہو .. تم پریشان مت ہو .. اسکے نمبر کو اب بلاک کر دو .. جلد ہی تمھیں گرلز اسکول میں ایڈمیشن کرواتی ہو ..تھینکس مما !لیکن بیٹی آئندہ ایسی غلطی نہیں ہونی چاہیے !
جی مما ! اب محتاط رہوں گی !
تمھارا برخودار! کہاں ہے کچھ خبر ہے! ناشتے کی ٹیبل پر سلطان صاحب نے ناہید بیگم سے پوچھ ڈالا .. وہ کہہ رہا تھا اسکول میں نائٹ پارٹی ہے دیر ہو جائے گی! ابھی تک اس کی پارٹی چل رہی ہے.. مجھے خود اسکولز کی نائٹ پارٹیز پسند نہیں ہے! یہ صرف وقت کا ضیاع ہے.. میں اسے اس اسکول سے نکلوا رہی ہو ..یہ غیر اسلامی تہوار مناتے ہیں.. یہ ہیلووین ! منا رہے اتنا خوفناک میک اپ کر کے گیا ہے! ناہید نے کہا.. ہاں تمہیں یہ شوق تھا!ہائی سوسائٹی کے اسکولز میں ایڈمیشن کروانے کا ! سلطان صاحب نے طنزیہ لہجے سے کہا! تمھین پتا ہے صبح پانچ بجے میرے پاس پولیس اسٹیشن سے فون آیا کہ آپ کا بیٹا جیل میں ہے ! اس کو 12 بجے تک آکے لے جائین ..بچہ سمجھ کر چھوڑ رہے ہین ان کو قابو کریں . آپ کی سوسائٹی میں عزت ہے اس لیے چھوڑ رہے ہیں . نشے کی حالت میں تیز میوزک میں ناچتے ہوئے پائے گئے ہیں .. یہ کون سی تعلیم ہے جو رات کو سکھائی جا رہی تھی سلطان صاحب نے غصے سے کہا !
میرا تو سوچ سوچ کر دماغ ماؤف ہو رہا ہے کہ اگر ان کی نشے کی حالت ویڈیو وائرل ہو جاتی تو میں کس کس کو جواب دیتا پھرتا..
سلطان صاحب !اپ کو دنیا کی شرمندگی خیال ہے..
سوچیں اللہ کو کیا منہ دکھائیں گے.. ہم اتنے لا پروا ہوگئے بچوں کےمعاملے میں.. اب بھی وقت ہے! دوبارہ سے اپنے اصل کی طرف لوٹ چلتے ہیں .. ناہید نے سلطان صاحب کو دلاسہ دیتے ہوئے امید کی نئی جوت جلا دی تھی..
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے اپ ہی خود کشی کرے گی
جو شاخ نازک پہ اشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا

