اب چاند نکل چکا ہے
ستاروں کے جھرمٹ میں
ہزاروں کے جھرمٹ میں
اب چاند نکل چکا ہے
اداسیوں اور سناٹے کو ختم کرتا ہوا
اور اندھیرے کو دُور کرتا ہوا
پانی پہ اپنی روشنی کے عکس بناتا ہوا
خوب صورتی کے جلوے دکھاتا ہوا
اب چاند نکل چکا ہے
ویرانیوں اور پریشانیوں میں الجھے ہوئے
مسافروں کی راہ روشن کرتا ہوا
ہر بھٹکے ہوئے کو رستہ دکھاتا ہوا
اب چاند نکل چکا ہے
اب چاند نکل چکا ہے
٭……٭……٭
چاند

