ھجری اپنے اختتام کو پہنچا۔نیا ھجری سال ١٤٤٣ کی شروعات ہے۔وقت مٹھی میں بند ریت کی مانند ہم سے پھسلتا جا رہا ہے اور ہم ہیں کہ خواب غفلت سے جاگتے ہی نہیں۔حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
” یومِ قیامت انسان بارگاہ الہٰی سے ہٹ نہ سکے گا جب تک وہ پانچ سوالوں کا جواب نہ دے لے۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ انسان تونے اپنی زندگی کے قیمتی لمحات دنیا میں کس طرح بسر کیے۔“
زندگی بلاشبہ اللہ رب العزت کی عطا کردہ بہت بڑی نعمت ہے اور بیش بہا عطیہ ہے لیکن زندگی گذارنے کا سلیقہ عطا ہو جانا اس سے بھی بڑی نعمت ہے۔ زندگی گذارنا الگ بات اور اس کو اللہ اور اسکے رسول ﷺ کی بتاٸ ہوٸ تعلیمات کے مطابق گذارنا ایک الگ بات ہے۔ لیکن آج ہم اپنے آپ سے سوال کریں کہ
کیا ہم اس نعمت کو صحیح طور پر استعمال کر رہے ہیں؟ کیا ہماری زندگی گذارنے کا مقصد اللہ اور اس کے رسول کی خوشنودی حاصل کرنا ہے؟یا ہم بس ان سب کے بغیر اس طرح سے جیۓ جا رہے ہیں جیسے کوٸ مسافر اجنبی راستوں پر بھٹکتا پھر رہا ہو اور اسے منزل کی خبر ہی نہ ہو۔
ابھی وقت ہے اعمال نامے لکھے جا رہے ہیں۔توبہ کادروازہ کھلا ہے۔سانسیں چل رہی ہیں۔ابھی دیر نہیں ہوٸ ابھی رب کو منا لیجیۓ۔خواب غفلت سے جاگ جایۓ۔ کتنے لوگ جو کل ھمارے درمیان تھے آج ہم میں نہیں۔کل ہم بھی قصہ پارینہ بن جاٸیں گے۔یہ ہماری عارضی پناہ گاہ ہے۔ہماری منزل ،ہمارا وطن ہمارا داٸمی ٹھکانہ جنت ہے جہاں سے ہمارے ماں اور باپ ، بابا آدم علیہ اسلام اور اماں حوا علیہ اسلام کو شیطان ملعون نے نکلوایا تھا۔موت کوایک مومن اپنی زندگی کے کسی بھی لمحے میں نہیں بھولتا یاد رکھۓہر دن، ہر آن، ہر لمحہ موت ھماری رفیق ہے۔یہ کوچ سفر ہم میں سے ہر ایک نے باندھنا ہے اور موت تو دراصل مومن کے لۓ اللہ رب العزت کے قرب کو حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔
آٸیے آج اپنے رب کے ساتھ کٸے گۓ
” الست بربکم “ کے اس عہد کو یاد کریں جب ہم نے کہا تھا بلٰی۔اس کی تجدید کریں۔اور یہ ادراک کہ الوہیّت و ربوبیّت میں خُدا کا کوئی ہمسر نہیں۔ وُہ واحد ہے، احد، اور اس خُدائے واحد کے پیغمبر ہیں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم۔جن کے بتاۓ ہوۓ راستے پر چلنے کے سوا نجات ممکن نہیں۔ہدایت کا منبع قرآن ہے۔جس سے افسوس ہم رہنماٸ لینے کو تیار ہی نہیں۔جو ھدی اللناس ہے۔یاد رکھیۓ یہ کہ جنت دوزخ برحق ہیں، قبر میں منکر نکیر کا سامنا بھی ہونا ہے اور سچ ہے سُوال جواب بھی ہوں گے۔ کوئی شک نہیں قیامت آئے گی اور روزِ حساب الٰہی عدالت لگے گی اور یہ بھی سچ ہے کہ اُس روز خُدا کے حُکم سے صُور پھُونکا جائے گا اور تمام مُردے صحیح سالم زندہ ہو جائیں گے، جو قبروں میں سو رہے ہیں اُٹھ کھڑے ہوں گے۔بلاشبہ، کبھی ختم نہ ہونے والی، لافانی حیات کے لیے حساب کتاب کے دِن آۓگا اور ہر انسان اپنے اپنے اعمال کے مُطابِق جزا یا سزا پائے گا۔
جو زندگی اب تک خواب غفلت میں گذر گٸ وہ گذر گٸ۔اب اللہ کی طرف رجوع کریں۔ توبہ اور استغفار کا جو صابن اللہ نے عطا فرمایا ہے اس سے پاک صاف ہو کر نۓ ھجری سال ١٤٤٣ کا استقبال کریں۔اللہ سے ہدایت مانگیں۔یاد رہے ہر چیز اللہ بن مانگے دیتا ہے لیکن ہدایت فقط طلب کرنے سے ہی ملتی ہے۔
اللہ سے دعا ہے اللہ ہم سب کو نور ہدایت سے سرفراز کر دے۔اللہ کریم اس سال کو اسلامی دنیا اور تمام مسلمانوں کے لیے مبارک کرے، اللہ تعالی عالم اسلام پر اپنا فضل و کرم فرمائے اور اسلام کو اقوام عالم پر غالب کر دے۔اللہ پاک جہاں مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہے ان کو کفار کے ظلم سے نجات دے دے۔بالخصوص اہل کشمیر اور اہل فلسطین پر اپنا خصوصی کرم فرماٸیں۔اللہ غیب سے ان کی مدد کے لیے انتظام فرماٸیں۔اللہ مسلمانوں کو متحد کر دیں وہن کی بیماری کو مسلم امہ سے دور کر دیں۔
اللہ پاک کرونا کی بیماری سے تمام اقوام عالم کو نجات دے دے۔اللہ پاک ہماری خطاٶں کو درگذر کر دیں اور ہمیں نیک اعمال کی توفیق عطا فرماٸیں۔
اللہ پاک نئے سال کو تمام اہل اسلام اور بالخصوص پاکستان کے عزت و وقار اور مثبت تبدیلی کا سال بنائے۔ اور یہ نیا سال سب کے لیے بہت ساری خوشیاں لےکر آئے۔۔۔آمین
نئے ہجری سال کا آغاز

