”پھر خدا نے میرے دل میں اس کی محبت ڈالی ہی کیوں؟“ وہ تڑپ کے یوں بولی کہ میرے قدم بے اختیار رک گئے۔ حنا کو بلال دے دیں، آقا ﷺ پلیز بلا لیں۔ آقا ﷺ میرا نام آجائے۔ آقا ﷺ میں آپ کے روضے پر، آپ کے آگے گڑگڑا کر آپ سے بلال کو مانگنا چاہتی ہوں۔ پلیز آقا ﷺ! آپ تو خدا کے محبوب ہیں، آپ سب منوا لیتے ہیں، مجھے بلال دے دیں۔
وہ لائبریری کے چھوٹے سے پریئر روم میں تنہا بیٹھی زور زور سے ہل ہل کر دعا مانگ رہی تھی، جب میں آہستہ سے اندر داخل ہوئی۔ میرے کان کھڑے ہوگئے اور میں سراپا سماعت بن گئی۔ وہ میری آمد سے قطعی لاعلم ہلتی اور دعا مانگتی رہی۔ جب چند لڑکیاں شور مچاتی اندر آئیں اور انہوں نے اسے اپنی آواز مدہم کرنے پر مجبور کردیا۔ اس نے آنسوؤں سے تر چہرے پر ہاتھ پھیرا، ٹشو سے ہاتھ اور چہرہ صاف کیا، کاجل درست کیا۔ وہ اٹھ کر شیشے میں اپنا معائنہ کر رہی تھی جب میں نے اسے جا لیا۔
السّلام علیکم! میری آواز ہوا میں تحلیل ہوکر رہ گئی۔ ایکسکیوز می! میں پھر بولی تو اب کی بار وہ متوجہ ہوئی، جی!؟
”السّلام علیکم!“ میں نے خوش دلی سے اس کی جانب ہاتھ بڑھایا۔ جواباً وہ مجھے تعجب سے دیکھنے لگی اور اپنا آدھا ہاتھ تھمانے پر اکتفا کیا۔
”آپ کا نام! کس ڈیپارٹمنٹ سے ہیں آپ؟“ میں نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پوچھا۔
”آئی ایم حنا، فرام آئی بی آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ“۔ وہ اپنے بالوں کو ایک ادا سے جھٹکتے ہوئے بولی۔ ظاہر ہے، میں سراپا حجاب تھی اور وہ سراپا ماڈرنزم کا شاہ کار۔ تو بالخصوص جتلانا اس کا بنتا تھا۔
”حنا! میں آپ کی دعا سن رہی تھی ابھی، دل دہل گیا“۔ میری بات پر اس نے ابرو سکیڑے، تعجب کا اظہار کیا، پھر آہ بھرکر بولی، ”میری کہانی ایسی ہی ہے یار! سب کے دل یوں ہی کانپتے ہیں“۔
اچھا! میں نے بھی جی بھرکر اظہار تعجب کیا۔ ”بس یار! آپ خدا سے میرے لیے دعا مانگنا، خدا مجھے بلال دے دے۔ وہ اب نماز کے لیے لیا جانے والا دوپٹہ گلے میں لپیٹے، بلندوبالا جوڑا بنانے میں مصروف تھی۔
”حنا! میں ان شاء اللہ آپ کے لیے ضرور دعا کروں گی لیکن کیا آپ تھوڑی دیر میرے ساتھ بیٹھ سکتی ہیں؟ صرف تھوڑی سی دیر کے لیے؟؟“
”ضرور!“ اس نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے ہامی بھرلی اور وہیں بیٹھ گئی پھر کچھ توقف کے بعد ہولے سے مسکرا کر بولی، ”آپ کو یہی کہنا ہوگا کہ مجھے بلال سے دوستی نہیں کرنی چاہیے؟“
”نہیں تو! یہ تو نہیں کہنا“۔ میں بھی جواباً مسکرائی ”بلکہ اگر وہ تمہارے حق میں بہتر ہے تو اللہ تمہیں حلال صورت میں ضرور دے“۔
”آمین!“ اس کے دل سے آواز آئی۔ ”حنا! آپ کا حج یا عمرے کا پلان ہے؟“
”نہیں ایسا کوئی پلان تو نہیں ہے، میری فرینڈ جا رہی ہے، بس میرا بھی دل کیا کہ آقا ﷺ مجھے بھی بلا لیں۔ سنا ہے وہاں جا کر آقا ﷺ سے کچھ بھی مانگو، وہ دعا رد نہیں کرتے“۔
ایک دفعہ پھر میرا دل زور سے کانپا۔ میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے اور میری سمجھ میں نہیں آیا کہ بات کہاں سے شروع کروں؟ پھر مجھے یاد آیا، بلاشبہ میری بات سے زیادہ پُراثر اللہ اور رسول ﷺ کی بات ہے، وہیں سے آغاز کرتی ہوں۔ ”حنا! نبی اکرم ﷺ نے بتایا تھا کہ دعا ہی عبادت ہوتی ہے۔ (ترمذی، صحیح) اور اللہ نے قرآن میں واضح طور پر کہا ہے، تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ (بنی اسرائیل) حنا! اگر اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کی جائے تو پتا ہے وہ کیا ہوتا ہے؟ وہ شرک ہے شرک۔ تو حنا! ہم کیوں یہ شرک کرتے ہیں؟ جو سمجھانے آئے تھے کہ شرک نہ کرنا، انہیں کی ذات کی آڑ لے کر ہم عظیم رب کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں“۔ وہ خاموشی سے مجھے تکتی رہی۔ ”اللہ نے پہلے ہی دن ہمیں یہ کہنا سکھایا تھا حنا! ’ہم صرف اور صرف آپ ہی سے مانگتے ہیں اور صرف آپ ہی سے مدد چاہتے ہیں“۔ تو پھر ہم کسی اور سے مدد کیوں چاہتے ہیں، ہم کسی اور سے کیوں مانگتے ہیں؟ ’آقا ﷺ مجھے یہ دیں۔‘ کی صدائیں کیوں لگاتے ہیں؟ آقا ﷺ مجھے مدینے بلا لیں۔ یہ آقا ﷺ سے کیوں، اللہ سے کیوں نہیں مانگتے؟“ میں بول رہی تھی کہ وہ شور مچاتی لڑکیاں ایک بار پھر اندر آگئیں۔ میری بات پر ان میں سے ایک نے پیچھے دیکھا، چونکی اور بولی، ”آقا ﷺ تو وہ ہیں جن سے کسی نے بھی مانگا تو انہوں نے اسے ’لا‘ (نہیں) نہیں کہا۔ آقا ﷺ سے جس نے بھی مانگا آقا ﷺ نے اسے دیا“۔ وہ سفید لباس میں ملبوس تھی۔
”آپ کا نام؟“
”سنبل“۔
”ٹھیک ہے سنبل! تو گویا ہمیں آقا ﷺسے مانگنا چاہیے؟ آقا ﷺ کے مالک سے نہیں؟“
”ایک ہی بات ہے، جس سے بھی مانگو“۔
”گویا تمہارا مطلب ہے کہ خدا اور مصطفی ﷺ ایک ہی ہیں۔ ان سے مانگنا بھی ایک ہی بات ہے؟“ میں اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھ رہی تھی۔
”او مائی گاڈ! بلاشبہ دونوں ایک نہیں ہیں لیکن میرا ایمان ہے کہ آقا ﷺ رب کے محبوب ہیں۔ آقا ﷺ سے کچھ بھی مانگو، آقا ﷺ کسی کو ’نہ‘ نہیں کہتے“۔ اس نے کہا۔
”تو کیا آقا ﷺ کا رب ’نہ‘ کہہ دیتا ہے؟“ میں لرز کر بولی تھی۔ وہ یک دم خاموش ہوگئی۔
”اگر وہ ’نہ‘ نہیں کہتا تو پھر اسی سے مانگنا چاہیے کیوں کہ وہ آقا ﷺ کا بھی مالک ہے۔ سب سے بڑا ہے اور اگر وہ ’نہ‘ کہہ دیتا ہے مگر ان کا محبوب نہیں کہتا تو پھر۔۔“۔ میں نے دانستہ جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔ وہ ہکابکا رہ گئی۔ پھر بولی، ”کیا مطلب ہے کہ وہ ’لا‘ نہیں کہتے تھے؟ یہی ناں کہ ان ﷺ سے بھی مانگو اور خدا سے بھی مانگو۔ کوئی بھی ’لا‘ نہیں کہتا۔ ہم گناہ گار ہیں، خدا سے پہلے اس کے محبوب ﷺ کے در پر جاتے ہیں“۔
”نہیں۔ نبی کریم ﷺ کے ’لا‘ نہ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر نبی ﷺ کے پاس کوئی بھی اپنی ضرورت لے کر آتا تھا کہ مجھے فلاں چیز دے دیں۔ کھانا، مال وغیرہ، تو آپ ﷺ نے اسے ’لا‘ نہیں کہا۔ آپ ﷺ نے ہمیشہ دوسروں کی بات سنی۔ کسی نے بھوک کی شکایت کی، آپ ﷺ کے پاس کھانا نہ تھا، آپ ﷺ نے منادی کروائی، کون ہے جو اسے کھانا کھلائے۔ پھر ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے مہمان نوازی کی۔ یاد ہے ناں! یہ سب کیا ہے؟ یہی کہ اللہ کے رسول ﷺ انسانی بساط کے مطابق جتنا کر سکتے تھے، کیا کرتے تھے۔ یہ مطلب ہے اس بات کا کہ وہ ’لا‘ نہیں کہتے تھے اور وہ واقعہ بھی تم دونوں کو یاد ہوگا، جب رسول اللہ ﷺ غزوہئ تبوک کے لیے نکل رہے تھے، کچھ صحابہ رونے لگے۔ ان کے پاس سواریاں نہ تھیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ کے لیے نکل سکتے، وہ رسول اللہ ﷺکے پاس سواریاں لینے آئے۔ آپ ﷺ نے کیا فرمایا تھا؟ ”میں اپنے پاس کوئی سواری نہیں پاتا جس پہ تمہیں سوار کرسکوں“۔ (سورۃ التوبہ۹۲) نبی ﷺ کہہ رہے تھے، میرے پاس سواری نہیں ہے، تمہیں نہیں دے سکتا۔ کیوں….؟ کیوں کہ اللہ کے رسول ﷺ مخلوق تھے، اللہ خالق ہے۔ ”اللہ ہی آسمان و زمین کے خزانوں کا مالک ہے“۔ (سورۃ المنافقون) کیا اللہ نے کبھی کسی کو کہا کہ میرے پاس خزانے کم ہوگئے ہیں، تمہیں دینے کے لیے میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ میں اب تمہیں کچھ نہیں دے سکتا۔ سنبل، حنا! رسول ﷺ اس لیے نہیں آئے کہ انہیں نعوذباللہ خدا بنا کر ان سے مانگا جائے، وہ اس لیے آئے کہ ان کی اطاعت وفرماں برداری کر کے رب کو راضی کیا جائے“۔ میں سانس لینے کو رکی۔
”مجھے کچھ نہیں پتا یار! بس یہ معلوم ہے کہ آقا ﷺ سب کچھ دے سکتے ہیں“۔ سنبل ٹیک چھوڑ کر بیٹھ گئی تھی۔ ”آپ کھانے کی بات کرتی ہیں، وہ کھانا ہی نہیں حافظہ بھی دیتے ہیں، جو بھی مانگو وہ دیتے ہیں۔ یاد ہے، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حافظہ مانگا، کیا آپ ﷺ نے انہیں حافظہ نہیں عطا کیا؟ ایسا عطا کیا کہ پھر وہ کبھی کچھ بھولے ہی نہیں“۔ گروپ کی لڑکیوں کی آنکھوں میں پہلی بار چمک ابھری تھی۔
”سنبل! ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حافظہ مانگا نہیں تھا بلکہ انہوں نے شکایت کی تھی کہ میرا حافظہ اچھا نہیں، میں کیا کروں؟ اور اللہ کے رسول ﷺ کا معجزہ تھا لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آپ ﷺ سے مانگنا جائز ہے اور وہ سب کچھ دے سکتے ہیں بلکہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ انبیاء علیھم السّلام سے معجزے صادر ہوتے ہیں۔ کیا عیسیٰ علیہ السّلام کے معجزات نہیں تھے؟ وہ تو اللہ کے حکم سے مُردوں کو زندہ کرتے تھے، بیماروں کو شفایاب کرتے تھے۔ یہ ان کے معجزات تھے اور اس لیے تھے کہ لوگ یقین کر لیں کہ پیغمبر برحق ہیں اور ان کی اطاعت فرض ہے۔ اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ آج اگر ہم گناہ گار ہیں تو بیمار ہونے پر اللہ کو چھوڑ کر، عیسیٰ علیہ السّلام سے شفاء مانگنا شروع کردیں“۔
میری توقع کے برعکس سنبل خاموش ہوچکی تھی۔ ”کوئی ایسا نکتہ ہوتا ہے، جو انسان کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ ویسے سنبل! سوچنے کی بات ہے ناں، کیا اللہ کو نہیں معلوم کہ اس کے بندے گناہ گار ہیں؟ وہ کہہ دیتا، اے گناہ گار بندو! مجھ سے نہیں، میرے محبوب سے مانگنا، تب میں تمہاری مراد پوری کروں گا۔ مگر سنبل پیاری! حنا عزیزی!“ میں نے حنا کی جانب دیکھا، اس کی آنکھوں میں نمی در آئی تھی۔ ”اللہ نے ہم سے کہیں بھی ایسا نہیں کہا۔ اس نے ہمیں ان باتوں سے دُور رکھا۔ یہ کہا، مانگو مجھ سے، میں دوں گا۔ صرف، صرف اور صرف اللہ سے مانگنا سکھلایا۔ صرف اپنے در پہ جھکنا سکھایا۔ سنبل! حنا! میں سوچتی ہوں کہ اگر رب فقط نیکوکاروں کا ہے تو گناہ گاروں کا رب کون ہوگا؟ وہ تو کہتا ہے، ”اے میرے وہ بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوجانا، اللہ سب کے گناہ معاف کردے گا“۔ (الزمر)
پرئیر روم میں مکمل خاموشی چھا چکی تھی۔ گھڑی کی ٹک ٹک کانوں میں بجنے لگی تھی۔ سنبل چھت کو گھور رہی تھی۔ حنا سر جھکائے بیٹھی تھی اور میں دل ہی دل میں کہہ رہی تھی، اللہ! مجھے اور میرے ذریعے لوگوں کو ہدایت دے۔
”لیکن وسیلہ تو بنا سکتے ہیں ناں اور ہم وسیلہ ہی بناتے ہیں۔ ہم اصل میں ان سے نہیں مانگتے۔ ایک ایس ایچ او کے پاس پہنچے کے لیے بھی ہمیں وسیلوں کی ضرورت ہوتی ہے نا یار!“ ساتھ بیٹھی ایک لڑکی نے پہلی بار زبان کھولی۔ وہ ایک باریک سی آواز والی پتلی سی لڑکی تھی۔ دیگر لڑکیاں بھی اس کی تائید کرنے لگیں۔
”ایس ایچ او ہم سے دور ہوتا ہے، اس لیے اس تک پہنچنے کے لیے اس کے کسی پیارے، قریبی عزیز یا دوست کا سہارا لیتے ہیں لیکن جو خود کہتا ہو، بڑے پیار سے، بڑی اپنائیت سے کہ ’میں تمہاری شہ رگ سے بھی قریب ہوں۔‘ اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟ وہ دور ہے ہی نہیں۔ وہ قریب ہے، رگِ جان سے زیادہ قریب ہے اور قریب تک پہنچنے کے لیے تو کسی چیز کی ضرورت نہیں ہوتی کیوں کہ قریب، دُور نہیں ہوتا۔ قریب ہمیں خود بڑے پیار سے سن رہا ہوتا ہے، ہماری لاج رکھتا ہے، مان رکھتا ہے“۔
پتلی سی لڑکی نے میری بات پر اثباتاً سر ہلایا۔ چند ثانیوں کے لیے پھر خاموشی چھا گئی۔
”بس یار! یہ آخری سوال ہے“۔ سنبل اپنے ناخنوں سے نیل پالش کھرچ رہی تھی۔ ”اگر سہاروں کی ضرورت نہیں تو روز ِقیامت لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس کیوں جائیں گے؟ وہ قریب رب سے خود کیوں نہیں مانگ لیں گے؟“
”سنبل! دنیا اور آخرت کے اصول مختلف ہیں۔ دنیا میں رب کے بندوں کے لیے یہ قانون ہے کہ وہ قریب ہے، سنے گا، دعائیں قبول کرے گا۔ توبہ بھی قبول کرے گا۔ آخرت میں جہنمی، جتنا مرضی دعا مانگیں، قبول نہ ہوں گی۔ توبہ کرلیں، رائیگاں جائے گی۔ ہے ناں ایسا؟“ وہ سرہلانے لگی۔ ”اور آخرت میں لوگ، اللہ کے پیارے پیغمبر ﷺ سے دعا کا مطالبہ کریں گے اور وہ دعا کریں گے۔ دعا کی یہ سفارش، آج بھی جائز ہے۔ کسی بھی زندہ (دنیا میں موجود) بزرگ سے دعا کروا لیں، بالکل جائز ہے۔ دنیا والے کائنات کے عظیم ترین انسان سے یہ کہیں گے کہ اپنے رب سے دعا کیجیے کہ وہ آج ایسے غضب میں ہے جتنا وہ پہلے کبھی ہوا تھا نہ کبھی ہوگا۔ پس ہمارے دلوں کی ٹھنڈک، روحوں کا قرار سیّدالمرسلین ﷺ سفارش کریں گے“۔
حنا خلاؤں میں گھورتے ہوئے قریباً سرگوشی کرتے ہوئے بولی۔ ”اب میں بھی بس اللہ ہی سے مانگوں گی۔ اپنے بلال کا سوال بھی اللہ ہی سے کروں گی۔
حنا کی بات پر مجھے سنجیدہ ماحول میں بھی بے اختیار ہنسی آگئی۔ اسے اپنا بلال نہیں بھولا تھا۔
”اللہ سے دعا اور رسول ﷺ کی اطاعت۔ اس اصول کو یاد رکھو۔ اللہ تمہیں مایوس نہیں کرے گا۔
اب وہ شور مچاتی لڑکیاں آہستہ آہستہ آپس میں باتیں کر رہی تھیں۔ میں نے ٹائم دیکھا۔ سنبل سے گرم جوشی سے ہاتھ ملایا، حنا سے نمبر کا تبادلہ کر کے نکل آئی۔ میری بس کا پوائنٹ آنے والا تھا۔ میں لائبریری کا وسیع وعریض ہال عبور کرتی تیزی سے نیچے جارہی تھی اور زبان پر کلمہئ شُکر جاری تھا۔
٭……٭……٭
میرا رب ہی تمام خزانوں کا مالک ہے

