Site icon Writers Club Pakistan

مطالعے کی اہمیت- شیبااعجاز

انگریزی کا مقولہ ہے، ”مطالعہ سرکردگی اور رہ نمائی ہے“۔ جب مطالعہ شروع ہوتا ہے تو ذہن کھلتا ہے اور روشنی کی کرنیں اندر کا اندھیرا چیرتی چلی جاتی ہیں۔ مطالعہ گہرا ہو تو گرہیں کھلتی ہیں اور مطالعے میں تسلسل پیدا ہوجائے تو جیسے آپ زندگی کی شاہ راہ پہ سبک رفتاری سے خراماں خراماں منزل طے کرتے چلے جاتے ہیں۔ پھر راستے کا کوئی اسپیڈ بریکر آپ کی رفتار پہ اثرانداز ہوتا ہے اور نہ راستے کا کوئی پتھر رکاوٹ ڈالتا ہے۔ ایک کے بعد ایک سنگ میل طے ہوتا چلا جاتا ہے۔
ہمارا تو مذہب بھی ’اقرا‘ سے شروع ہوتا ہے، لوح وقلم کا رشتہ بھی انسانیت کی ارتقا سے جڑا ہوا ہے۔ کتاب اور اس کا پڑھنا، لطف ہی کچھ اور ہے اور جو اس کی لذت پا جاتے ہیں انہیں پھر کسی اور بات کا لطف نہیں آتا۔ مطالعے کے فوائد گنوائے نہیں جا سکتے، یہ پڑھنے والے کی صلاحیت پر منحصر ہے کہ وہ اسے کس حد تک اپنے اندر سموتا ہے۔ اچھی کتابوں کا انتخاب آہستہ آہستہ آپ کی شخصیت نکھارتا ہے اور مختلف موضوعات کی کتب کا مطالعہ الگ الگ اثر دکھاتا ہے۔ مطالعہ، مشاہدے اور زندگی کے تجربات پر بھی اثرانداز ہوتا ہے اور کسی بھی امتحان سے گزرنے یا آزمائش سے نبردآزما ہونے پر مددگار ثابت ہوتا ہے۔
موبائل اور انٹرنیٹ کے اس دَور میں انسان اور کتاب کارشتہ ختم ہونے کی وجہ ہی سے بے راہ روی بڑھی ہے۔ گو کہ مطالعہ موبائل سے بھی کیا جا سکتا ہے لیکن سوشل میڈیا میں مختلف چیزوں کی بہتات کی وجہ سے مطالعہ بے چارہ ایک طرف دَھرا رہ جاتا ہے اور قاری کسی دوسری ہی چیز میں مگن ہوجاتا ہے، یوں بے کار کی تفریح وقت کے زیاں کا باعث بنتی ہے۔
اچھی کتب کا مطالعہ وقت گزاری اور مشغلے کے لیے بہترین ہے۔ اچھے برے وقت کا ساتھی، دوست، رفیق، غم گسار اور رازداں بھی ہے۔ لیکن جیسا کہ مرزا غالب نے کہا ہے، ”شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے“ اسی طرح آپ کی کتابوں کی لائبریری بھی آپ کے ذوق کی آئینہ دار ہوگی۔ لکھاری کے لیے مٹی، پانی، ہوا اور دھوپ، سب کام کے لیے ایک مطالعہ ہی کافی ہے۔ اب جس کو جتنی زندگی درکار ہے، وہ اتنا ہی مطالعہ کرے۔
اپنی ذات سے ہٹ کے دیکھا جائے تو مطالعہ اس وقت ہماری قومی ضرورت ہے کیوں کہ جس قوم سے علم نکل جائے، اس کی تنزلی شروع ہو جاتی ہے۔ ہمیں نوجوان نسل میں مطالعے کا شوق پیدا کرنا ہوگا اور وہ بھی مادری زبان میں، کیوں کہ مادری زبان تخلیقی صلاحیتیں ابھارتی ہے اور کتاب سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔
پیدا ہو تیرے ہجر کی موجوں میں تلاطم
تو شاعر مشرق کے دیوان پڑھا کر
جب مطالعہ، سوچ کو پختگی دے گا، الفاظ کا ذخیرہ ہوگا، دل میں لگن جاگے گی تو پھر یہی ہوگا کہ ؎
نالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوں
ہم نوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوں

Exit mobile version