Site icon Writers Club Pakistan

عبادات و معاملات

عبد کو اپنے معبود کی عبادت کرنی ہی ہوتی ہے، برضا ورغبت یا بادل ِناخواستہ، کیوں کہ یہی اس کی زندگی کا مقصد اور یہی اس کی زندگی کی ضمانت ہے۔ انسانی فریضوں میں سے کچھ تو ایسے ہیں کہ ان کی جزا، اُجرت، معاوضہ یا محنتانہ یہیں، اسی دنیا میں مل جاتا ہے۔ جلد یا بدیر۔ کچھ فرائض ایسے ہیں، جن کا بدلہ اس زندگی میں نہیں بلکہ آنے والی زندگی میں دیا جا ئے گا۔ کچھ فریضے ایسے ہیں، جن کا تعلق براہ ِ راست اللہ تعالیٰ کی ذات سے ہے۔ ان فرائض میں سے اگر خدانخواستہ کوئی فرض چھوٹ بھی جائے گا تو مجھے اللہ رب العالمین کی رحمت سے پوری امید ہے کہ وہ معاف کر دے گا۔
کچھ فریضے ایسے بھی ہیں، جن کا تعلق اللہ کے کنبے، اس کی مخلوق سے ہے۔ اس میں صرف انسان ہی نہیں بلکہ دیگر تمام مخلوقات بھی شامل ہیں۔ وہ جانورہوں، حشرات الارض ہوں، پرندے ہوں یا جمادات ونباتات۔ سب اسی کی مخلوق ہیں، اسی کی پیداوار ہیں اور یہ سب مخلوقات اسے بہت عزیز ہیں۔ ان سب کا اسے بہت زیادہ احساس اوردھیان ہے۔ تمام کائناتیں اس کی توجہ اور تصرف میں ہیں۔ سب چیزیں اس کے احاطہئ رحمت میں ہیں، اس کے فضل کے حصار میں ہیں۔ ہر مخلوق اس کے کرم کی مرہون ِ منّت ہے۔ عبادت کا مقصد یہ ہے کہ حق ِ بندگی ادا ہو، مالک راضی ہو جائے، زندگی گزارنے کا طریقہ، سلیقہ اور ڈھنگ آجائے۔
عبادت کا ثواب یہ ہے کہ دنیا میں اطمینان ِ قلب نصیب ہو اور آخرت میں انعام کے طور پر جنت میں ساقیئ کوثرؐ کی قربت نصیب ہو جائے۔ عبادت کا سواد یہ ہے کہ جس طرح نماز میں صفیں برابر اور سیدھی ہوتی ہیں اسی طرح عام زندگی میں بھی وہی اتفاق واتحاد، اخوت ومحبت، خلوص ویگانگی، مساوات وبھائی چارے کی فضا قائم ہوجائے۔
احساس ِتعلق پیدا ہو، خلوص ِ نیت، عاجزی ووقار نصیب ہو۔ سپاہیانہ جلال اور خاکسارانہ تمکنت حاصل ہو۔ ہمہ وقت خود کو حالت ِ نماز میں محسوس کرے۔ ایک نماز سے دوسری نماز تک کا سارا وقفہ نمازکو قائم کرنے میں کوشاں ومصروف ہو۔ عبادت کا مقصد کہاں تک پورا ہوتا ہے اور اس کا ثواب کتنا ملے گا؟ یہ کوئی کیسے جان سکتاہے؟ البتہ تیسری بات، جو نماز کے سواد کی ہے، یہ مقصدکہاں تک پورا ہوتا ہے، اس کا اندازہ ہم اپنی روزمرہ زندگی سے لگا سکتے ہیں۔ اگر ہمارے دل میں دوسروں کے کام آنے کا جذبہ پیدا نہیں ہوتا، اگر کسی کے دکھ درد میں شریک ہونے کا احساس نہیں جاگتا، اگرکسی کی خاطرکچھ کرگزر نے کی تڑپ نہیں اٹھتی، اگر کچھ اچھا کر دکھانے کی امنگ انگڑائیاں نہیں لیتی اور اگر زندگی کو جینے کا ڈھنگ نہیں آتا تو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ ہماری نمازوں میں کوئی خشوع اور خضوع نہیں ہے۔
ہماری عبادت میں کہیں کوئی کجی ہے۔ جب ہم خدا کے ہاں ہوتے ہیں تو پھر بھی وہاں نہیں ہوتے۔ ہم بظاہر اپنے خدا کے سامنے ہوتے ہیں مگر اپنے قلب وذہن میں ہزاروں بت لیے ہوتے ہیں۔ کہیں خواہشات کا بت تو کہیں نیک نامی کا بت، کبھی لذت وراحت کا بت تو کہیں عزت و مرتبت کا بت۔ کیا یہ شرک نہیں ہے؟ کیا یہ بت پرستی نہیں ہے؟
آئیے! یہ بت پرستی چھوڑنے کا عہد کرلیں اور آج سے خدائے وحدہُ لاشریک، بے مثل ولاثانی اور حقیقی پروردگارکی عبادت کریں، صرف اسی کی پوجا کریں۔ خالصتاً خلوص ِ نیت سے اس کی بندگی کریں تاکہ بندہ ہونے اور بندہ کہلانے کاحق ادا ہو۔ ساتھ ہی ان فرائض کی ادائیگی کا بھی عزم ِ صمیم کریں جو اس کی مخلوق ہونے کے حوالے سے ہم پر عائد ہوتے ہیں۔ نیز یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ ہمیں اپنے حقوق اُس وقت تک نہیں مل سکتے جب تک ہم اپنے فر ائض ادا نہیں کر لیتے۔ اپنے حقوق چھین کر حاصل کرنے کی بجائے ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ کیا ہم نے اپنے فرائض ادا کر لیے ہیں؟ کہیں ہم خدا اور اس کی مخلوق کے مجرم تو نہیں؟؟

Exit mobile version