مصور کائنات نے ایک بہت ہی خوبصورت کائنات سجائی اور اس میں ان گنت مخلوقات رکھیں اور انسان کو اس میں سب سے بلند ترین مقام پر فائز کر دیا اور اشرف المخلوقات کے لقب سے نوازا اور اس اہم ترین مقام پر برقرار رہنے کے لئے انسان کو خود کو جن ضابطہ اخلاق کا پابند رکھنا ہے۔ دین اسلام سکھاتا ہے اور اس حیا سے موسوم کیا گیا ہے۔ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ” ہر دین کے اخلاق ہوتے ہیں اور اسلام کا اخلاق حیا ہے۔“ (مشکوٰةالمصابیح) ایک اور جگہ حیا اور ایمان کے حوالے سے فرمایا گیا ”ایمان کی 60 سے زیادہ شاخیں ہیں اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔“( صحیح بخاری)
جب تک انسان خود کو حیا کے بندھن میں باندھ دے رہے گا لیکن تقویم کے مرتبے پر فائز رہے گا جوں جوں حیا کی بندش ڈھیلی پڑے گی وہ بلندی سے پستی کی طرف آنا شروع ہو جائے گا اللہ تعالی نے اس حقیقت کو کچھ اس طرح بیان کیا ہے۔ ” ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا پھر اسے الٹا پھیر کر سب نیچوں سے نیچے کر دیا۔“ اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں ہے یہ بلندی پر چڑھنے کے لیے بڑی محنت کرنی پڑتی ہے اور بلندی پر خود کو برقرار رکھنے کے لیے بھی بڑی استقامت درکار ہوتی ہے لیکن اگر وہ خود کو چھوڑ دے تو پھر بغیر محنت کے وہ پستی میں گرتا چلا جاتا ہے یعنی جیسے جیسے حیا جاتی رہے گی وہ احسن تقویم سے گرتا چلا جائے گا۔ اس بات کو پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں بیاں فرمایا ”جب تم حیا نہ کرو تو جو چاہو کرو ۔“
حیا اور ایمان لازم و ملزوم ہیں اس حقیقت کا انکشاف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث میں بخوبی ہورہا ہے کیا ”حیا اور ایمان اکٹھے رہتے ہیں اگر ایک چلا جائے جائے تو دوسرا بھی چلا جاتا ہے۔“
حیا عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں شرم جھجک وقار وغیرہ۔ حیا بڑا وسیع موضوع ہے اسے صرف صنف نازک کی روایتی شرم تک محدود کرنا اس کے ساتھ بڑی نا انصافی ہے۔ حیا ایک لفظ نہیں بلکہ ایک پورا فلسفہ ہے جو ہماری زندگی کے ہر مرہلے میں رہنمائی کرتا ہے چاہے وہ گفتار ہو، رفتار ہو، نشست و برفاست ہو، تعام وقیام ہو، عبادات ہو، معاملات ہوں، معاشرتی اقدار ہوں، اطوار ہوں، تہذیب و تمدن ہو، ثقاوفت ہو، علوم و فنون ہوں، غرض زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس کے لیے ہمارے پاس اصول و ضوابط نہ بتادیے گئے اور انہی کی پاسداری سے ہماری زندگی خوبصورت بنتی ہے۔
آقا دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے ”حیا ہمیشہ خیر ہی لاتی ہے۔“ حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ نے فرمایا کہ ”بے حیائی جس چیز میں بھی ہوتی ہے اسے عیب دار بنا دیتی ہے اور حیا جس چیز میں بھی ہوتی ہے اسے زینت دیتی ہے۔“
اللہ تعالیٰ نے انسان کو جب تخلیق کیا تو اس کے اندر شر اور خیر کو ودیعت کر دیا اور قدرتی طور پر اس کے اندر شرم و حیا کا مادہ رکھا گیا ہے وہ خیر کو پسند کرتا ہے اور شر کو ناپسند۔ جب بچہ دنیا میں آنکھ کھولتا ہے تو وہ قدرتی طور پر سچا باحیا اور دیانتدار ہوتا ہے جھوٹ بے شرمی اور بے ایمانی انسان اپنے ماحول سے سیکھتا ہے اور اولان اسے ہر برا کام کرتے ہوئے اسے حیا آتی ہے وہ قدرتی طور پر شرم محسوس کرتا ہے اور گھبراتا ہے لیکن اگر وہ ایسے ماحول میں پرورش پائی جہاں برائی عام ہو تو پھر وہ بھی رفتہ رفتہ اس ماحول میں ڈھل جاتا ہے اور اس کی قدرت یحییٰ رخصت ہو جاتی ہے اور پھر وہ برائیوں کا فوگر ہوتا چلا جاتا ہے، ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ یہودی نصرانی با مجوسی بنا دیتے ہیں۔
حیا کے ساتھ پہلا تصور جو دماغ میں بنتا ہے وہ وہی ہے جو لڑکیوں کی روایتی شرم ہے اور میں سمجھتی ہوں کہ ان کے کردار کا سب سے قیمتی وصف ہے جو انہیں خود کو ڈھانپ کر رکھنے اور نہایت ہی پروقار طریقے سے کلام کرنے کی ترغیب دیتا ہے انہیں مہذب اور شائستہ بناتا ہے۔
لفظ عورت کے تو معنی ہی چھپی ہوئی چیز کے ہیں اور کائنات میں بھی یہ اصول کار فرما ہے کہ ہر قیمتی چیز چھپی ہوءہے اور اس کا حصول مشکل ہے جیسے موتی سمندر کی گہرائیوں میں سیپ کے اندر اور ہیرا کانوں میں چھپایا گیا ہے۔دنیا میں بھی لوگ اپنی قیمتی متاع کو خزانوں کو بھی نامعلوم مقامات پر چھپاتے ہیں۔
ترین اشیاءاندر سے مانگنے پر لائی جاتی ہیں ڈسپلے پر معمولی چیزیں رکھی جاتی ہیں دوسرا یہ بھی اصول ہے کہ ہر مہنگی چیز کی پیکنگ اتنی ہی شاندار ہوتی ہے۔ تو پھر خالق کائنات نے بھی سب سے قیمتی مخلوق کو حجاب اور جلباب پیک رہنے کی ہدایات جاری کیں ہیں جس میں سراسر اس کا فائدہ ہے اس کو ہر بد نظر اور بد نیت سے محفوظ رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم، اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور اہل ایمان کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کے پلو لٹکا لیا کریں یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تاکہ وہ پہچان لی جایں اور نہ ستائی جائیں۔“
خالق کائنات نے اپنی مخلوقات کو جوڑوں کی شکل میں پیدا کیا ہے، چرند پرند حیوانات نباتات ہویا سمندری مخلوقات حتی کے نظر نہ آنے والی مخلوق کے بھی جوڑے ہوتے ہیں اور ان جوڑوں کے درمیان اللہ پاک نے ایک خاص کشش انسیت اور ضرورت پائی جاتی ہے اسی سے نظام ارتقا جاری و ساری ہے لیکن اشرف المخلوقات کو جہاں ہر شعبے میں ضابطہ اور قانون کا پابند رکھا گیا ہے وہاں اس میدان میں بھی کامل ہدایات دی گئی ہیں اور اسلام میں داخل ہونے والی ہر خوش نصیب کے لیے سلامتی ہی سلامتی ہے اگر وہ ان ہدایات پر عمل پیرا ہوں جو اسے رب کائنات نے دی ہیں۔ اسلامی قوانین انسان کی عقل، جسمانی و روحانی صحت، عزت و آبرو، جان و مال اور اس کی نسل کی حفاظت کے ضامن ہیں اگر ان پر سختی سے عمل کیا جائے۔
ہمارے رب نے مردوں اور عورتوں کے درمیان رکھی گئی فطری کشش کی تسکین کے لیے نکاح کا خوبصورت اور پاکیزہ بندھن استوار کیا ہے جس میں بندھنے کے بعد محبت کو بھی عبادت کا درجہ دیا گیا ہے لیکن اس حصار نکاح کے علاوہ محبت کے سارے لوازمات سے سخت پرہیز بتایا گیا ہے۔ محبت کی پتنگیں تو دور کی بات نظر بھر دیکھنے پر بھی پابندی عاید ہے۔
اس ضمن میں سب سے پہلے حکم دیا سب سے پہلا حکم جو دیا گیا ہے وہ غصے بسر کا ہے اللہ پاک سورہ نور میں فرماتے ہیں مسلمان مردوں سے کہو گے اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہی ان کے لیے پاکیزگی ہے لوگ جو کچھ کریں اللہ تعالی ان کو اس کی خبر ہے۔ ”مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں ۔“ (سورہ نور)
بد نظری وہ پہلا زینہ ہے جس میں قدم رکھتے ہیں وہ خود کار زینے کی طرح بے حیائی کی منزلیں طے کرتا ہوا زنا تک پہنچ جاتا ہے کیونکہ بدنظری کے ذریعے ہی دل آلودہ ہوتے ہیں اور پھر آگے کی منزل طے ہوتی ہیں جن کی اسلام میں قطعا اجازت نہیں۔ اسی طرح فرمایا کہ ”زنا کے پاس بھی نہ پھٹکو کیونکہ وہ بڑی بے حیائی ہے اور بہت ہی بری راہ ہے۔“ (سورہ بنی اسرائیل)
لیتے ہیں تو جدت پسندی کی دلفریب دنیا میں قدم رکھتے ہیں تو شیطان انہیں گھیر لیتا ہے اور انہیں بے حیائی اور برائی کا حکم دیتا ہے اور گناہوں کی ایسی دلدل میں دھکیل دیتا ہے جس میں انسان دھنستا ہی چلا جاتا ہے۔ انسان فحاشی اور عربانی کا تماش بین بن جاتا ہے اس آزادی کا مزہ مغرب نے ہم سے پہلے چکھا اور اب اس کی سزا فیملی سسٹم کی تباہی کی صورت میں بھگت رہا ہے۔ مغرب کا ایجنڈا ہے کہ مسلمانوں سے بھی ان کی حیا حجاب پردہ غیرت عزت ناموس سب چھین لیا جائے ان کی عورتوں کو ان کے گھروں سے نکال کر بازاروں دفتروں میڈیا کی زینت بنا دیا جائے تاکہ اس کی فیشن انڈسٹری، میک اپ انڈسٹری، اشتہاری انڈسٹری، مسلمانوں کی نسل اور ماو¿ں کی گود اور تربیت سے محروم معاشرہ کے لیے ناسور بن جائیں جن کا شکار کرنا پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو جائے گا ۔
امریکا کی ایک صدر نے آج سے تقریبا سو سال پہلے کہا تھا کہ ”اگر مشرق کو قابو کرنا ہے تو ان کی عورتوں کے حجاب اتار کر قرآن کا غلاف بنا دیا جائے“ وہ اپنے اہداف بڑی تیزی سے حاصل کر رہے ہیں اور مسلم عورتیں ان کے ہاتھوں میں کھلونا بن چکی ہیں دوپٹہ سر سے تو کیا سرے سے ہی غائب ہوگئے ہیں۔
معاشرہ میں پھیلی بے راہ روی کی وجہ سے سب کی عزتیں داو¿ پر لگی ہیں اور بے حیائی کے فروغ کی وجہ سے نہ کسی عورت نہ کسی لڑکی نہ لڑکے نہ بچی کسی کی عزت محفوظ نہیں مضمون کا اختتام اس آیت سے کرونگی جو لوگ مسلمانوں میں بے حیائی پھیلانا چاہتے ہیں۔ ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے اللہ سب کچھ جانتا ہے تم کچھ بھی نہیں جانتے۔
