Site icon Writers Club Pakistan

شرم و حیا اور جدت پسندی (نازش مرتضی)

خوب سے خوب تر کی تلاش میں انسان نے سمندر کی گہرائیوں اور آسمان کی وسعتوں کو انگلیوں کے لمس میں قید کر دیا ہے صنعتی انقلاب سے لےکر ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری تک… شعبہ طب کی ترقی ہو یا زرعی پیداوار کی فراوانی ہر چیز میں جدّت موجود ہے. یہ جدت پسندی ہی تو ہے جس کی وجہ سے انسان پتھر کے دور سے نکل کر گلوبل ویلج میں داخل ہوگیا ہے ۔

جدت پسندی نہ صرف ایک جذبہ ہے بلکہ انسانی فطرت کا عنصر بھی ہے یہ حقیقت ہے کہ جدت پسندی نے انسان کو مادی زندگی میں بہت عروج بخشا ہے زندگی بہت آسان بہت پر آسائش ہو گئی ہے۔

لیکن جہاں جدت پسندی نے انسان کو عروج بخشا ہے وہیں اس جدت پسندی نے انسان کو زوال کی راہیں بھی دکھائی ہیں۔ اسی جدت پسندی کی بدولت انسانی تاریخ فرعونوں سے بھری پڑی ہے جو اقتدار کے شوق اور بادشاہی سے گزر کر خدائی دعوے دار بن بیٹھے تھے ۔ اسی جدت پسندی نے آج پوری دنیا میں عریانی کا طوفان برپا کیا ہوا ہے۔

باہمی رضامندی سے زنا کو سند جواز دے رکھی ہے بہت سے مغربی ممالک میں ہم جنس پرستی کو قانونی شکل دے دی گئی ہے اب تو جدت پرستی کے سائے میں پاکستانی عورت نے برسر عام بینر اٹھائے ہوئے ہیں ۔

”میراجسم میری مرضی“

جدت پسندی کے بارے میں محمد تقی عثمانی فرماتے ہیں کہ ”جدت پسندی ایک دودھاری تلوار ہے جو کہ انسانیت کو فائدہ پہنچانے کے کام بھی آ سکتی ہے اور اس کا کام بھی تمام کر سکتی ہے“۔(اسلام اور جدت پسندی از محمد تقی عثمانی)

سیکولر معاشرے میں سوچ اور عقل کے سہارے ہی ہر کام میں جدت پیدا کی جا تی ہے اس میں انسانیت ,اخلاق شرافت, معاشرت ہر چیز کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف انسان بلکہ معاشرے بھی تباہ ہو جاتے ہیں کیونکہ اللہ تعالی کے فرمان کے بغیر عقل بھی صرف انسان کو وہی راستہ دکھاتی ہے جو وہ دیکھنا چاہتا ہے بری سے بری چیز برے سے برے عمل کے لئے بہت ہی شاندار توجیہات مل جاتی ہیں کہ وہ ان کا اسیر بن جاتا ہے ۔

جبکہ کہ ایک مسلمان کو جدت اور ترقی کے لئے اسلامی اصولوں کی پاسداری کرنا ضروری ہے اور یہی پابندی اسلامی معاشرے کے لیے بھی ہے اسلام ایک دین فطرت ہے اسلام میں بتایا گیا ہے کہ کس جذبے کو کس طرح استعمال کرنا ہے کہ وہ وبال نہ بنے۔

اسلام کی تعلیمات کے مطابق کہا گیا ہے کہ اپنے نفس کے غلام نہ بنو نہیں تو ذلت و گمراہی تمہارا مقدر ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی یہ تو ہے جدت پسندی کا تعارف لیکن ہمارا اصل موضوع ہے ۔

شرم و حیا اور جدت پسندی

اللہ تعالی نے مسلمان کے لیے جس امتیازی خوبی کا تعین کیا ہے وہ ہے حیا …. احادیث کا مفہوم ہے کہ حیا اور ایمان ساتھ ساتھ رہتے ہیں جب حیا ختم ہو جائے تو انسان کو من مانی کرنے سے روکنے والی کوئی چیز نہیں رہتی.. حیا کی کھیتی سے ہمیشہ خیر ہی پھوٹتا ہے …

شرم و حیا ایک فطری جذبہ ہے جو کہ انسان میں ازل سے ہے اس کی مثال ہم حضرت آدم علیہ السلام کے واقعے سے لے سکتے ہیں کہ جب جنت میں شیطان نے حضرت آدم علیہ السلام کو بہکا کر ممنوعہ درخت کا پھل کھلایا تھا جس کی وجہ سے ان کے 70 ایک دوسرے کے سامنے کھل گئے تھے پھر حضرت آدم اور اماں حوا نے درخت کے پتوں سے اپنی ستر پوشی کی اس عمل میں شرم و حیا کا جذبہ ہی کار فرما تھا۔

اسلام دشمن عناصر ہیں جانتے ہیں کہ ایک مسلمان عورت شرم و حیا کا پیکر ہوتی ہے عورت اخلاقی قدروں کی محافظ ہے اور آیندہ نسلوں کی نشوونما کی ذمہ داری بھی اس کے کاندھوں پر ہے یہ دونوں کام اتنے عظیم ہیں کہ ہر خدمت ہر کام اس کے آگے ہیچ ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اسلام دشمنوں نے مسلمان عورت کو اپنا آلہ کار بنانے کی کوشش کی ہے جدت پسندی. حقوق نسواں اور تحریک نسواں کے نام پر عورت کو سڑکوں, بازاروں, ہوٹلوں اور دفتروں کی زینت بنا دیا ہے اور گھر کی چار دیواری میں محفوظ زندگی سے نفرت دلاکر پرتکلف اور نمودونمائش کی زندگی کا عادی بنا دیا

ان سب چیزوں کو حاصل کرنے کے لیے مسلمان عورت نے اپنی نسوانیت اور شرم و حیا کو ہی داو ¿ پر لگا دیا جس کی وجہ سے اسلامی معاشرے میں بے حیائی اور بے راہ روی عام ہونے لگی ہے.. سب سے مایوس کن بات یہ ہے کہ اسلامی ممالک میں بیٹھے ہوئے حکمران اپنے بیرونی آقاو ¿ں کے کہنے پر یہ سبب ہونے دے رہے ہیں کیونکہ انھیں ڈر ہے کہ ان پر قدامت پسند اور شدت پسند ہونے کی چھاپ نہ لگ جائے۔

بیرونی امداد پر پلنے والی این جی اوز کی ماڈرن بیگمات کی جنگ مردوں کے خلاف نہیں اسلام کے اصولوں کے خلاف ہے جس کے لیے کبھی خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے تو کبھی یہ عورت مارچ میں بے ہودہ بینرز لیے کھڑی ہوتی ہیں۔

میرا جسم میری مرضی کا نعرہ دے کر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی پر اکساتی ہیں یہ جدت پسندی نہیں بلکہ اسلامی معاشروں سے شرم و حیا کا جنازہ ہے جو کہ یہ مغربی زدہ بیگمات نکالنا چاہتی ہیں۔

ہمارے حکمران اب تک یہ طے نہیں کر پائے کہ پاکستان کو سیکولر ریاست بنانا ہے یا اسلامی ریاست اس لیے اسلام دشمن عناصر کو خوش کرنے کے لئے آئے روز اسمبلی میں میں نئےنئے بل پیش کیے جاتے ہیں جو کہ اسلامی اصولوں اور اقدار سے متصادم ہوتے ہیں ۔

کبھی حدود آرڈیننس کبھی گھریلو تشدد کا بل

سب سے بڑھ کر الیکٹرونک میڈیا کی آزادی کے بعد سے فہاشی اپنے عروج پر ہے بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ جیسے جیسے پاکستان میں میڈیا ترقی کر رہا ہے فہاشی بھی ترقی کی منازل طے کر رہی ہے۔

اس پر ستم یہ نیوز چینلز… اگر معاشرے میں کوئی گناہ کا واقعہ پیش آ آجائے تو تمام چینلز گناہ کی اتنی تشہیر کرتے ہیں کہ جس کو ان باتوں کا علم نہ ہو انہیں بھی خبر ہو جائے حالانکہ گناہ کی تشہیر گناہ سے بڑھ کر گناہ ہے ۔

یہ بات تو ہے معاشرتی بے حیائی کی لیکن اب تو پاکستانی قوم انفرادی طور سے بھی فحاش میں کم نہیں پچھلے سال سروے کے مطابق پاکستان میں فحش ویڈیو سرچ کرنے میں پہلے نمبر پر تھا یہ ہے ہمارا ذہنی معیار۔

ان سب باتوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آج کے مسلمان سے حیا رخصت ہوچکی ہے اور جب حیا رخصت ہو گئی تو ایمان کی پختگی بھی اس معاشرے میں جس کا جو دل چاہتا ہے کرتا ہے حرام حلال کی تمیز ختم رشتوں کی پاسداری، چوری ، رشوت، ملاوٹ سب کچھ۔

ہم نے بھی جدت پسندی میں سیکولر سوچ اپنا لی ہے خوف جوابدہی ختم ہوگیا ہے… اس بحث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کہ شرم و حیا کا تعلق جدت پسندی سے نہیں بلکہ اللہ اور اس کے بندے کے تعلق سے ہے کہ وہ کتنا مضبوط ہے اس کا ایمان کتنا پختہ ہے کہ وہ اپنی تمام خواہشات کو اپنے رب کے اصولوں کے تابع بنا لے۔

Exit mobile version