Site icon Writers Club Pakistan

شرم و حیا اور جدت پسندی (فوزیہ بانو)

افراط وتفریط کی بھول بھلیاں میں بھٹکنے والی دنیا کو اگر عدل کا راستہ دکھانے والا کوئی ہو سکتا تھا تو وہ صرف مسلمان تھا ، جس کے پاس اجتماعی و انفرادی زندگی کی ساری گھتیوں کے صحیح حل موجود ہیں ۔ مگر دینا کی بد نصیبی کا یہ ایک عجیب درد ناک پہلو ہے کہ اس اندھیرے میں جس کے پاس چراغ تھا وہی کمبخت رتوند کے مرض میں مبتلا ہوگیا ۔ دوسروں کو راستہ دکھانا تو درکنار خود اندھوں کی طرح بھٹک رہا ہے اور ایک ایک بھٹکنے والے کے پیچھے دوڑتا پھرتا ہے۔

شرم و حیا کا لفظ جن احکام کے مجموعہ پر بطور عنوان استعمال کیا جاتا ہے ، وہ دراصل اسلامی ضابطہ معاشرت کے نہایت اہم اجزاءپر مشتمل ہیں۔ اس پورے ضابطے کے سانچے کو ان احکام کے صحیح مقام پر رکھ کر دیکھا جائے تو کوئی ایسا شخص جس میں بقدر رمق بھی اگر فطری بصیرت باقی ہو ، یہ اعتراف کیے بغیر نہ رہے گا کہ معاشرت میں اس کے سوا اعتدال و توسط کی کوئی دوسری صورت نہیں ہو سکتی اور اگر اس ضابطے کو اس کی اصل بنیاد اور روح کے ساتھ عملی زندگی میں برتا جائے تو اس پر اعتراض کرنا تو درکنار ، مصائب کی ماری ہوئی دنیا سلامتی کے اس سر چشمہ کی طرف دوڑی چلی آئے گی اوراس سے اپنے امراض معاشرت کی دوا حاصل کرے گی لیکن افسوس یہ کام کرے گا کون؟ وہ جس کو یہ کام کرنا تھا وہ تو خود کئی برس سے جدت پسندی اور ترقی کے نام پر مغربی لباس ، مغربی معاشرت ، مغربی آداب و اطوار حتیٰ کہ چال ڈھال اور بول چال تک میںمغربی طریقوں کی اندھی تقلید میں مصروفِ عمل ہے۔وہ تو خود مسلم سوسائٹی کو مغربی سانچوں میں ڈھالنے کی کوششیں کررہا ہے۔

مسلم سوسائٹیز میںروشن خیالی اور جدت پسندی کے نام پر شراب ، جوا ، لاٹری ، ریس ، تھیٹر ، رقص و سرور اور مغربی تہذیب کے دوسرے ثمرات کو ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔ شائستگی ، اخلاق ، معاشرت ، معیشت ، سیاست ، قانون ، حتی ٰ کہ مذہبی عقائد اور عبادات کے متعلق بھی جتنے مغربی نظرےات یا عملیات موجود تھے ۔ ان کو کسی تنقید اور کسی فہم و تدبر کے بغیر اس طرح تسلیم کیا گیا کہ گویا وہ آسمان سے اتری ہوئی وحی ہو ، جس پر سمعنا واطعنا کہنے کے سوا کو ئی چارہ نہیں ۔

مسلمانوں کی تاریخ میں یہ سب سے زیادہ شرمناک دور ہے جس میں اہل ِ مغرب نے کہا کہ اسلام آرٹ کا دشمن ہے ۔ وہ تو ہمیشہ سے ناچ گانے اور مصوری و بت تراشی کی مذمت کرتا آیا ہے۔انھوں نے بالخصوص شرم و حیا کو نہایت نفرت کی نگاہ سے دیکھا ، اپنے لٹریچر میں اس کی نہایت گھناﺅ نی اور مضحکہ انگیز تصویریں کھینچیں، اسلام کے عیوب کی فہرست میں عورتوں کی ” قید “ کو نمایاں جگہ دی گئی۔ لیکن افسوس کہ امت مسلمہ کو حسبِ دستور اس چیز پر شرم نہ آئی بلکہ نیم رضامندی کے ساتھ ہم ان کے مقصد کو پوراکرنے میں ان کے آلہ کار بن گئے۔

اب مسلماں بھی نکلے ہیں کچھ روشن خیال

جن کی نظروں میں حجات صنف ِ نازک ہے وبال

چاہتے ہیں بیٹیوں، بہنوں کو عریاںدیکھنا

محفلیں آباد لیکن گھر کو ویراں دیکھنا

یہ بات اب طشت ازبام ہو چکی ہے کہ ان این جی اوزکی پشت پناہ اقوام متحدہ ، امریکہ اور صہیونی گماشتے ہیں ۔جن کا مطمح نظراور مقصد ِ حیات ہی اسلام کے نور کو اپنی پھونکوں سے بجھانا ہے۔لیکن خدا کے قانونِ فطرت سے بغاوت کے نتیجے میںخود اہل ِ یورپ کی معاشرتی ٹوٹ پھوٹ او ر خانگی زبو حالی بد ترین صورت اختیار کر گئی ہے۔اس ضمن میں سوویت یونین کے آخری صدر میخائل گوربا چو ف کا یہ ”اعتراف جرم “سند کی حیثیت رکھتا ہے، جس میں انھوں نے کہا:”ہم نے عورتوں کو گھر سے نکال کر بہت بڑی غلطی کی ہے ۔ اس سے اگرچہ ہماری مصنوعات بڑھ گئیںلیکن ہم معاشرتی ابتری کا شکار ہوگئے“۔

لہٰذا شرم وحیا کو جدت پسندی اور روشن خیالی کے نام پر مغربی تہذیب پر پرکھنے اور اسلام کو دقیانو سیت کہہ کراس کی روشن تعلیمات کو بالائے طاق رکھنے کے بجائے ، امت مسلمہ کو اپنی اساس کو پہچاننا ہوگا اپنی کھوئی ہوئی میراث کو واپس لینا ہوگا تاکہ جس ترقی اور خوشحالی کی نوید ہمیں دین ِ اسلام سناتا ہے وہ پوری آب و تاب کے ساتھ پروان چڑھ سکے۔

 

Exit mobile version