شرم و حیا اور جدت پسندی پر گفتگو کرنے سے پہلے ہمیں یہ جانناہو گا کہ حیا کیا ہے؟ اس کے تقاضے کیا ہیں؟ اس کی آسان سی تعریف یہ ہے کہ ”کوئی فحش، گناہ آلودیا نا پسندیدہ کام یا بات کرنے کے خیال سے دل میں جو جھجک، تامل اور بے چینی پیدا ہوتی ، اسے ”حیا“ کہتے ہیں“۔ ہم نے پچھلے وقتوں کی کہانیوں میں یہ کہاوت تو سن رکھی ہوگی کہ ” قدیم زمانے میں جب عورت کا دوپٹہ سر سے اتر جاتا تھا تو سورج بھی پردہ کر لیتا تھا“۔ اللہ ۔۔۔ اللہ حیا کا یہ عالم۔حیا جس کو کبھی ہم آنکھ،کان اور دل اور نا جانے کیا کیا اور کہاں کہاں ہونے کی دلیل دیتے نہیں تھکتے ، اصل میں تو یہ انسان کی ظاہری وضع قطع سے تعلق رکھتی ہے ۔ حیا جس کا تعلق ظاہر سے ہے ، اس کی شریعت نے حد مقرر کردی ہے ۔شرم و حیا جسے ایمان کا لازمی جُز قرار دیا گیا ہے۔ انسان کو نیک اعمال اور افعال پر ابھارتی اور رب العزت کی نافرمانیوں سے بچاتی ہے شرم و حیا کا تعلق آدمی کے خیالات ، تصورات، گفتگو، عبادات ، معاملات اور لباس سے ہے۔
اگر دیکھا جائے تو جس آدمی سے حیا رخصت ہو جاتی ہے ، اُسے نا بات کرنے کا سلیقہ ہوتا ہے نا لباس پہننے کا ڈھنگ، نا عبادات میں اخلاص اور نا معاملات میں حسن اخلاق، نا خیالات میں پاکیزگی اور نا سوچ میں گہرائی بلکہ ایسا شخص بڑے سے بڑے گناہ کو بِلا جھجک کرتا اور اُس پر فخر محسوس کرتا ہے۔
آج معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے راہ روی اور بے حیائی کی بڑی وجہ شرم و حیا کا رخصت ہوجانا ہے ۔جس کے نتیجے میں انسان خدا کے خوف سے عاری ہو کر جو چاہو کرو اور جیسے چاہو جیو کا عملی نمونہ بن کر خدا کے عذاب کا حقدار ٹھہرتا ہے۔ اس کی جیتی جاگتی تصویر ہمیں ان خواتین کی نظر آتی ہے جو ہر سال عورت آزادی مارچ میں کھڑی اس رب کریم کی زمین پر اسی کی دی ہوئی شرف عزت کو یوںسر عام نیلام کرتی ہیں۔ جو آزادی چاہتی ہیں اسلام اور حیا کی پابندیوں سے ، اسلام کی حدود و قیود سے، اسلام کے نظام فطرت سے۔تو کیا ملی وہ آزادی جس کی آڑ میں وہ معاشرے کو شیطان کی آماجگاہ بنانا چاہتی ہیں۔ افسوس صد افسوس! کوشش تو بہت کی اِن مغرب کی فنڈنگ پر چلنے والے شیطان کے پجاریوں نے لیکن شاعرنے کیا خوب کہا ہے!
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی
جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گاناپائدار ہوگا
اب جہاں بات آتی ہے شرم و حیا اور جدت پسندی کی تو یہ ایک حساس موضوع ہے۔حساس اس لیے کہ اس حوالے سے اہل علم اور اہل مسلمان نے جو میدان خالی چھوڑا اس پراہل مغرب نے اپنی مرضی اور پسند کی تعریف چسپاں کر دی مثلا ً بعض حضرات کا کہنا ہے کہ اگر شرم و حیا کی پاسداری کی جائے تو انسان دنیا کے ساتھ چلنے سے محروم ہوجائے گا۔ ایسا کرنے سے وہ ترقی سے محروم دوسری دنیا کی مخلوق بن کر رہ جائے گا یا شاید عجوبہ؟ جبکہ یہ بات تو وہ بھی جانتے ہیں کہ ایسا ہر گز نہیں ہے۔ دین اسلام نے انسان کی فطرت کے مطابق احکامات وضع کیے ہیں ، اسلام نے جدت یا ترقی کی حوصلہ افزائی فرمائی ہے۔
اسلام کے نزدیک جدت پسندی بذاتِ خود ایک لائق تحسین جذبہ ہے ۔ یہ عین انسان کی فطرت ہے۔اگر یہ جذبہ نا ہوتا تو انسان پتھر کے زمانے سے ایٹم کے دور تک کا سفر طے نا کرپاتا۔ مرد ہو یا عورت تعلیم ہو یا معاشرت ، سیاست ہو یا سائنس زندگی کے ہر شعبے میں وہی لوگ آگے بڑھے جنھوں نے جدت کو اپنا یا ۔اپنے رب کی مسخر کردہ کائنات کے علم سے بہرہ مند ہوئے۔لیکن جدت کو فحاشی ، بے حیائی ، بے راہ روی، بد اخلاقی جیسی ضلالت سے تعبیر کرنا دراصل ظلم،تاریکی اور جہالت کے سوا کچھ نہیں۔
لہٰذا! ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ ہم کس جدت کو اپنانا چاہتے ہیں اُ س کو جس نے عورت کے تقدس ،مرد کے تشخص اور دین اسلام کی حمیت کو پامال کیا یا وہ جدت جس نے انسان کو ہر شعبے میں بامِ عروج بخشا اور اپنے رب کائنات کی حمایت و نصرت کا حقدار بنایا۔
