جس طرح ایک مرد اور عورت ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں اِسی طرح شروم و حیا بھی ان دونوں کے ساتھ ایسے ہی لازم و ملزوم ہیں شرم و حیا جسم میں ایک روح کی مانند ہوتی ہے اگر روح جسم سے نکل جائے تو زندگی بے معنی اور فضول ہوجاتی ہے اسی طرح اگر شرم و حیا ہمارے اندر سے ختم ہوجائے تو انسان بھی فضول اور بے معنی ہوجاتا ہے جس طرح روح جسم کا لباس ہوتی ہے اسی طرح شرم و حیا بھی جسم کا لباس ہے جس طرح جسم لباس کے بغیر بہودہ لگتا ہے اسی طرح شرم و حیا کے بغیر بھی انسان بہودہ ہوتا ہے ۔
ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”’ایمان کی ساٹھ سے زیادہ شاخیں ہے اور حیا بھی ایمان کی ایک ایسی ہی شاخ پے۔“ شرم و حیا ان اوصاف میں سے ایک ایسی صفت ہے جو انسان کے اندر چھوٹے ہوتے ہی پیدا ہوجاتی ہے ۔ ایک بچہ بھی بغیر کپڑوں کے کسی کے سامنے نمودار نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ شرماتا ہے کہ کوئی اسے ایسی حالت میں نا دیکھ لے۔
شرم و حیا کا تعلق کسی ایک شخص کی ذات کے ساتھ منسوب نہیں ہے اس کا تعلق ہر اس فرد کے ساتھ ہے جو روئے زمین پر رہتا ہے یہ ایمان کا حصہ ہے یہ ہمارے دین کا بنیادی حصہ جس کے بغیر ہمارا دین اسلام نا مکمل ہے مسلمان کے دین کی پہچان اس کے لباس,اس کے اسلام اور اس کی شرم و حیا سے ہوتی ہے ۔ ہمارے دین اسلام دنیا میں موجود تما مذہبوں سے بہتر سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس میں ہر انسان کے لیے زندگی گزارنے کے لیے بہتر راہنمائی موجود ہے چاہے اس کا تعلق دنیا میں موجود کسی ہی شعبہ کے ساتھ کیوں نا ہوں چاہے وہ معاشی زندگی ہوں یا معاشرتی، اخلاقی ہوں ہر پہلو ہر شعبہ زندگی میں مکمل ہدایت موجود ہے اس کا کام انسانوں کو برائیوں سے بچانا اور نیکی کی راہ دیکھانا ہے مغرب ممالک میں رہنے والے لوگ آج خود سے اپنی ذات سے تنگ ہوچکے ہیں کیونکہ زندگی بسر کرنے کے لیے ان کے پاس کوئی اچھا طریقہ کار موجود نہیں ہیں شرم و حیا کی حدود کو پار کرکے ایک جیسی چیزیں کرکے ان کی روحیں تھک چکی ہے ان کے دماغ خراب ہوگئے ہر طرف ایک ہی بادل کا سایہ ہے وہ دین اسلام کی طرف گامزن ہورہے ہیں ۔
ہمارا معاشرہ جن کے لیے یہ تمام چیزیں موجود، ہدایات موجود ہیں وہ اپنے دین سے دوری اختیار کررہا ہے جدت پسندی اور نئے نئے فیشن کو ایجاد کررہے ہیں اور ساتھ ان پر عمل بھی کررہے ہیں جہاں عورتیں مردوں کے لباس کو ملبوس کررہی ہیں وہاں مرد بھی خود کو عورتوں کے سانچہ میں ڈال رہے ہیں اور عورتیں جیسے لباس زیب تن کررہے ہیں جہاں تعلیم کے نام پر، گھروں سے دور دونوں ہی اپنی دنیا میں مگن اور جسم فروشی میں مشغول۔جہاں عورتوں کو خود ڈھانپنے کی ضرورت ہے وہ کھلم کھلا فحاشی بے حیائی پھیلا رہی ہیں۔ خواجہ سراحہ جن کو کہا جاتا ہے کہ ان کی بددعا ڈرا جائے آج وہ بھی ہماری نسل نوجوانوں کو بڑی تعداد میں خراب کررہے ہیں جسم فروشی ایک عام سی چیز بن گئی ہے اور ان کے پاس ایک ہی بات وہ جو دوہراتی رہتی ہیں ہم بھی انسان ہے ہمارے بھی جذبات ہیں یہ لوگ ہمیں جینے نہیں دیتے،ہمیں رہنا ہے تو ہمیں یہ کرنا پڑتا ہے۔
صد افسوس کہ ہمارے مرد جو قوم کا اثاثہ ہیں اسلام کی رونق ہے وہ بھی بھاگ بھاگ کر ان کے پاس جاتے ہیں یہ سب کچھ اس وجہ سے ختم ہورہا ہے کیونکہ شرم و حیا ان کے اندر سے ختم ہوگی ہیں آنکھوں میں حیا نہیں رہی اور ان کے دل بھی ناپید ہوگے ہیں اور خواجہ سراءکے علاوہ اچھی خاصی عورتیں جن کو اللہ نے مکمل پیدا کیا ہے وہ بھی جسم فروشی کا کام بخوبی سے سر انجام دے رہی ہیں۔ انسانوںنے خود کی ضروریات بڑھا لیں ہیں۔ جس کو پورا کرنے کے لیے وہ گناہ کرنے سے بھی نہیں کتراتے۔ حدیث مبارک میں آتا ہے جب انسان گناہ کرتا ہے تو خدا اس کے دل میں ایک سیاہ نقطہ پڑ جاتا ہے جب وہ توبہ کرلیتا ہے تو وہ سیاہ نقطہ ختم ہوجاتا ہے جو توبہ نہیں کرتا تو نقطہ پورے دل پھیل جاتا ہے اور اس کا دل زنگ آلودہ ہوجاتا ہے پھر اسے عبادت کرنے میں لذت نہیں آتی۔
مرد عورتوں پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں اور عورتیں مردوں پر۔ نا مرد نگاہیں نیچی رکھنا چاہتے ہیں اور نا ہی عورتیں خود کو پردہ میں کرنا چاہتی ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے”اے نبی مومن مردوں سے کہا دوں اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔“ اسی طرح عورتیں کے لیے بھی پردہ کا حکم دیا ”اے نبی مومن عورتوں سے کہا دو کہ پردہ کریں اپنی نگاہوں کو نیچی رکھیں ۔
“جہاں ایک مرد عورتوں پر بہتان لگا رہے ہیں وہاں عورتیں بھی مردوں پر بہتان لگا رہی ہیں مرد کہتا ہے عورتیں نگاہیں نیچی رکھیں تو ہم بھٹکے نا اور عورت کہتی ہے مرد اپنی نگاہوں کو نیچی رکھیں ہمارا جسم ہے ہماری مرضی ہے ہمارا لباس ہے ہماری زندگی ہے وہاں بھی ایک مرد کچھ ایسے الفاظ کستا ہے ہماری نگاہیں ہم جیسے چاہے اُسے دیکھے لیکن یہ دونوں ہی اس چیز کو سمجھنے سے قاصر ہے کہ شرم وحیاءان دونوں کا بنیادی جزو ہیں اگر دونوں ہی اس پر عمل نہیں کریں گئے تو دونوں ہی خسارہ پر ہیں برائیاں جنم لے گئی گناہوں کی شرح بڑھے گی قتل و غارت ہوگئے ذہنی سکون میسر نہیں ہوگا یہ کسی کے لیے بھی قید نہیں ہے۔ شرم و حیا اگر ختم ہورہی ہے تو انسان بھی زوال کا شکار ہورہا ہے نگاہوں میں شرم نا ہونے کی وجہ سے انسان ہر وہ چیز کرتا اور دیکھ بھی لیتا ہے جس کی وجہ سے اُنھیں جسمانی کمزوریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور پھر اس کے علاج کے لیے ان کو ڈاکٹروں کے پاس جانا پڑ رہا ہے ان کی آنے والی اُولاد ان سے زیادہ فحاش نکل رہی ہیں۔ انسان جتنا دوسروں کا نقصان کررہا ہے اس سے زیادہ اسے خود کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
آج موجودہ زمانے میں سائنٹسٹ جس بات کی تنقید کرتے ہیں لوگوں کی راہنمائی کرتے ہیں وہ کئی برسوں پہلے ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سب کچھ بتا چکے ہیں ہمارے پاس ہماری کتاب قرآن مجید موجود ہے جس میں نا صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ اس دنیا میں موجود تمام لوگوں کے لیے مکمل درس، ہدایت اور راہنمائی موجود ہے جن کی تعلیمات پر غیر مسلم عمل کرکے برتری حاصل کر رہے ہیں شرم و حیا ہماری زینت ہے اسلام کا حصہ ہے اس سے انسان بہت سے گناہوں، برائیوں سے بچا رہتا ہے پردہ کرکے نہ تو عورتوں کے حسن میں کمی رونما ہوگی نا ہی مرد کی ذات پر کوئی تنائو پیدا ہوگا اگر وہ نظریں نیچی کرلے۔
آخر میں یہ ہی کہنا چاہوں گی دنیا چار روز کی ہے اور کوئی بھی یہاں مستقل طور پر نہیں رہتا گناہ کرکے ڈٹے رہنا شیطان کا کام ہے اور شرمندہ ہوکر معافی مانگ لینا اللہ کے نیک بندوں کی صفات ہیں ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی بیویوں سے، صحابہ کرام کی بیویوں، بیٹیوں سے کوئی بھی عورت زیادہ پرہیز گار شرم و حیا والی نہیں ہے اور ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ابنیاءکرام سے زیادہ کوئی بھی مرد زیادہ شرم و حیا والا نہیں ہے ہم ان جیسے بن نہیں سکتے لیکن کوشیش کرسکتے ہیں کوشیش کرکے ہم کسی بھی چیز اور کام کو ممکن بنا سکتے ہیں ۔
حدیث میں آتا ہے ”حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم شرم و حیا کا پردہ اس قدر غالب تھا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پردہ نشین کنواری لڑکی سے بھی زیادہ شرمیلہ محسوس ہوتے تھے۔“
دنیا میں ایسے لوگ بھی گزرے ہیں جو اپنے گناہوں اور برائیوں کی وجہ سے تباہ و برباد ہوئے ہیں اور ایسے بھی گزرے ہیں جو اپنی پاکدامنی اور گناہوں سے بچنے کی وجہ سے اللہ کے مقرب بنے اور دنیا میں آج بھی لوگ انھیں یاد کرتے ہیں۔
