میرے آشیاں کاتو غم نہیں کہ وہ جل رہا ہے جلا کرے
مگر ان ہواﺅںکو روکئے کہ سوال سارے چمن کا ہے
فیشن جدت پسندی کا لبادہ اُوڑھے دورِ حاضر کا وہ سجا دھجا نام ہے ،جس کی آڑ میںہر طرح کی بے ہودگی،بے حیائی ، ہَوَس پرستی، فحاشی، عریانیت، کمینگی،دہریت اور مادیت پرستی کو فروغ دیا جارہاہے۔جدت پسندی کے اس سونامی میں اُمّتِ مسلمہ اپنے تابناک ماضی کو فراموش کر کے ، حسن پرستی ، غیروں کی نقالی،مغرب کی اندھی تقلید اور اغیار کی مکمل پیروی میںاپنی زندہ و تابندہ دینی روایات اور تہذیب کی دھجیاںاُڑاتی نظر آتی ہے۔اس کے پیروکاروں کے کردار میںمذہب سے بے گانگی اور شریعت کی پابندی سے اعلانیہ بغاوت ٹپکتی نظر آتی ہے۔ان کا دل ، دماغ ، سوچ ،فکر سب مغربیت کے زیرِ اثر ہے۔ان کی زبان پر بھلے ہی محاسن اسلام ہو،لیکن ان کا جسم مکمل طور پر یورپ کے زیرِ تسلط ہے۔
خِرد نے کہہ بھی دیا ”لا الہ “تو کیا حاصل
دل و نگاہ مسلماں نہیںتو کچھ بھی نہیں
مغربی تہذیب و ثقافت نے جدت پسندی کے نام پر شرم و حیا کے تصور کو جس طرح مسخ کیا ہے ، اس کی مثال نہیں ملتی۔شرم و حیا دراصل ایسی اعلی صفات ہیں جس سے عملِ صالح کا پودا پھلتا اور پھولتا ہے۔لیکن آج جس شرم و حیا کی نمائش کی جارہی ہے وہ کیسی۔
حیا ہے؟ ، جس میں” دل میں پردہ“ اور سر سے پاﺅں تک ” بے پردہ “ ہے۔” آنکھ میں حیا “ ہے اور بے حیائی کے کاموں میں دن رات مصروف ہیں۔ان بے دین لوگوں سے جب ستر و حجاب یا شرم و حیا کی بات کی جاتی ہے تو یہ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ انسان کی آزادی پر قدغن ہے اور ایک فرد کو یہ آزادی ہونی چاہیے کہ وہ جیسا چاہے لباس پہنے اور جیسے چاہے جیے۔دین اسلام وہ دین نہیں جو زبر دستی کسی کو مسلمان بناتا ہو۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ دین ِ اسلام ایک ضابطہ حیات کا نام ہے ۔ یہ فرد کی آزادی کو بھی مقدم رکھتا ہے اور اجتماعیت اور معاشرے کے حقوق کا بھی ضامن ہے۔
لہٰذا ایسے تمام معاملات میں جن میں ایک انسان کے انفرادی افعال کا اثر اجتماعیت پر پڑتا ہو اللہ نے اصول و ضوابط کا ایک دائرہ کھینچ دیا ہے۔ جس کے اندر انسان مکمل آزاد ہے۔ لیکن یہ بات واضح رہے کہ اسلام ہر انسان کو اس وقت تک شخصی آزادی دیتا ہے جب تک اس کی آزادی سے معاشرے کے دوسرے افراد کو نقصان نہ پہنچے۔جہاں اس کی آزادی سے دوسروں کے ” انسانی ، مالی ، جانی حقوق یا عزت “ متاثر ہونے کا خطرہ ہو، وہاں اس پر اجتماعی اصول و ضوابط لا گو ہوجاتے ہیں۔
دیارِ مغرب کے رہنے والو! خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو، وہ اب زرِ کم عیار ہوگا
جدت پسندی کے ماروں نے فیشن کے نام پر جو اسلامی معاشرے میں نحوست پھیلا رکھی ہے۔اُس نے کبھی حقوقِ نسواں بل تو کبھی عورت آزادی مارچ کے ذریعے مرد و خواتین کے ایسے مسخ شدہ ایڈیشن شائع کیے ہیں جو انسان نہیںبلکہ سوسائٹی کا گند ہیں، جو محض کھیل تماشا اور دل لگی کا سامان ہیں،جو شرم و حیا کے چلتے پھرتے بے گور و کفن جنازے ہیں،جو اسلامی تہذیب و ثقافت پر بد نما داغ ہیں،جو انسانیت بالخصوص خواتین کی نسوانیت کے خریدار ہیں۔ ان بے حیائی کے پیکروں کی کوئی حد نہیں ، یہ اخلاق ر ضیلہ کا وہ سونامی ہے جو اپنے ساتھ پورا معاشرہ غرقاب کردینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔
ہم نے تو دریچوںپہ سجارکھے ہیں پردے
باہر ہے قیامت کا جو منظرتو ہمیں کیا
ہم نے اسلاف کی نصیحتوں کو بھلا دیا لیکن اہلِ مغرب نے اُسے پلو سے باندھ لیا اور اپنی ہر ایک پالیسی کو اس کے مخالف استعمال کیا۔جیسے سلطان صلاح الدین ایوبی نے امت مسلمہ کو یہ پیغام دیا کہ ”اگر کسی قوم کو شکست دینی ہوتو اس کے نوجوانوں میں فحاشی پھیلا دو“۔
حیا زندگی جبکہ بے حیائی درندگی کے سواکچھ نہیں۔مسلمان ہونے کی حیثیت سے امتِ مسلمہ کو جاگنا ہوگا ، اور میدان عمل میں آکر ان بے دین لوگوں کا مقابلہ کرنا ہوگا تاکہ ہم اپنی نئی نسل کو ان شیطانی ہتھکنڈوں کے ذیریعے زوال پذیر ہونے سے بچا سکیں۔
