Site icon Writers Club Pakistan

شرم و حیاء اور جدت پسندی (آئرہ معید)

ہر دین کی ایک پہچان ہوتی ہے اور ہمارے دین اسلام کی جداگانہ پہچان شرم و حیا ہے۔ شرم و حیا ایمان کی اہم شاخ ہے ۔ جب تک انسان شر م و حیا کے دائرے میں رہتا ہے ذلت اور رسوائی سے بچا رہتا اور جب اس قلعے کو ڈھا دیتا ،تو اس بد ترین کام کو بھی بڑی ڈھٹائی کے ساتھ کرتا چلا جاتا ہے۔ آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے، ” جب تم میں حیا باقی نہ رہے تو جو جی چاہے کرو“۔ اسلام اور حیا کا آپس میں وہی تعلق ہے جو روح کا جسم سے ہے۔ دنیا کے دوسرے مذاہب کے مقابلے میں اسلام نے حیا کو ایمان کا جُز قرار دے کر یہ بتایا ہے کہ حیا اور ایمان آپس میں ملے ہوئے ہیں کہ اگر ایک چلا جائے تو دوسرابھی باقی نہیں رہتا۔

اسی لیے اسلام کے دشمن مسلمانوں کی حیا پر وار کر تے نظر آتے ہیں ۔ ڈراموں ، فلموں ، اشتہارات کے نام پر ان کا معاشرے کے افراد کی شرم و حیا کے سائبان میں چھید کرنا کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔

چلنا تھا جس کو دین کی پاکیزہ راہ پر

وہ قوم بے حیائی کے راستے پر چل پڑی

آج کل کے مسلمانوں نے مغربی کلچر کو اپنانا اور ان کے نقشِ قدم پر چلنا اپنا شعار بنالیا ہے۔ یہ سب کر کے ہم اپنے آپ کو ماڈرن اور ترقی یافتہ ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن یہ روشن خیالی ہمارے نورِ ایمانی کو کم کرتی جارہی ہے۔پچھلے کئی سالوں میں حقوق نسواں کے نام پر عورت کی نام نہاد آزادی کی جو تحریکیں چلائی جارہی ہیں وہ بھی اسی فتنے کی ایک کڑی ہے۔ عورت آزادی مارچ کے نام پر شیطان کے ایلچیوں اور درباریوں کا جو مکروہ دہندہ جاری ہے وہ امتِ مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ یہاں یہ بات بھی پیش ِ نظر رہے کہ اپنے حق کے لیے آواز اُٹھانا جرم نہیں گناہ نہیں ۔ لیکن احتجاج کی بھی اخلاقی حدود ہوتی ہیں ، ان آزادی مارچ کے حیا سوز نعرے اور ان نعروں کے پلے کارڈذ اُٹھائی مائیں بہنیں خود بے حےائی کی تصویر ہوتی ہےں۔ باقی رہی سہی کثر ان مردوں نے پوری کردی جو ان کو تحفظ دے کر اس بے حےائی کے میدان میں لاکھڑا کرتے ہیں گویا وہ اپنی غیرت اور حمیت کا بے کفن جنازہ خود آپ اپنے کاندھوں پر لیے کھڑے ہوتے ہیں۔

تہذیب ہی باقی ہے نہ اب شرم و حیا کچھ

کس درجہ اب انسان یہ بے باک ہوا ہے

اہل ایمان کی نفسیاتی اور روحانی تربیت کے لیے خاص طور پر ہمارے مذہب اسلام میں حیا کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ایک حیا کا مادہ ہی تربیت میں اگر پیدا ہوجائے تو انسان ہزار خرابیوں اور برائیوں سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ کیونکہ حیا دراصل سَر اور سَر میں موجود افعال و خیالات کی نگران ہے، اور پیٹ کی اور جو کچھ اس میں بھرا ہے ان سب کی نگران ہے یعنی ٰ فاسد خیالات اور حرام غذا سے بچنا بھی حیا کے تقاضوں میں سے ایک قوی تقاضہ ہے۔

جو لوگ بے حےائی و فحاشی کو ہلکا سمجھ کر اس سے آنکھیں بند کیے زندگی گزارتے ہیں وہ دراصل ایک خطرناک اور ہولناک انجام کی طرف خوشی خوشی کھینچے چلے جارہے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی ذات ، گھر ، گلی ، محلہ اور زندگی کے ہر شعبے میں قرآن و سنت کی تعلیمات کے تابع رہیں اور اس کام کا آغاز آج ، ابھی اور اپنے گھر ، اپنی ذات سے کریں ۔ کیونکہ با حیثیت مسلمان اسی میں ہماری خلاصی اور نجات ہے۔

Exit mobile version