کوئی فحش گناہ یا ناپسندیدہ کام یا بات کرنے کے خیال سے دل میں جو جھجک ،تامل اور بے چینی پیدا ہوتی ہے، اسے ”شرم وحیائ“ کہتے ہیں ۔ یہ شرم وحیاءبرائیوں کی راہ میں ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے ،برا کام کرنا تو درکنار محض اس کام کے خیال سے ہی دل کے اندر احتجاج پیدا ہوتا ہے۔ یہ احتجاج جس قدر ہوگا ،شرم وحیاءاتنی ہی ہوگی اور اس شر م وحیاءکا کسی کے دل پر جتنا قابو ہو گا وہ شخص برائیوں سے اسی قدر محفوظ رہے گا۔
مختصر یہ ہے کہ جو شخص کچھ۔ برا کرنا چاہیے اسے کرنے کے خیال سے دل میں جو جھجک، شرمندگی اور بیقراری پیدا ہوتی ہے اس کا نام شرم وحیاءہے اور ایسا شخص حیا دار ہوگا۔ اگر کوئی شخص فطرت کے خلاف کام کرےتو پھر اس کے لیے برائیوں کی راہ پر چلنا آسان سے آسان تر ہوتا چلا جاتا ہے۔
شرم وحیاءہی وہ صفت ہے جس کی باعث پاکدامنی قائم رکھی جاسکتی ہے۔شرم وحیاءاور پاکدامنی کا چولی دامن کا ساتھ ہے کیونکہ شر م و حیاءان تمام باتوں سے انسان کو روک لیتی ہے جو انسان کی پاکدامنی کو خراب کرتی ہیں۔ ایمان کے بعد مسلمان کا سب سے بڑا حسن اس کی پاک دامنی ہے اور درحقیقت اس کی حفاظت ہی کے لئے اسلام نے شرعی حدود مقرر کی ہیں، جن کی پاسداری شر م وحیا ءکے بغیر ممکن نہیں۔ قرآن پاک میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ ”بےشک اللہ عدل و احسان اور قرابت داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی اور برے کاموں اور سرکشی سے روکتا ہے ۔“(النحل:90)
دنیا کے دوسرے مذاہب کے مقابلے میں اسلام کی خاصیت یہ ہے کہ اس نے شرم وحیا ءکو ایمان کا جز قرار دیا ہے۔حیا کو ایمان کا لازمی جز قرار دے کر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” حیا ایمان کا حصہ ہے ۔“ (بخاری)
حیا ایک صفت ہے . حیا کے بارے میں ابو داود کتاب الجہاد میں ایک واقعہ مذکور ہے کہ ”ایک خاتون ام خلاد کا ایک لڑکا ایک جنگ میں شہید ہو گیا تھا۔وہ اس کے متعلق دریافت کرنے کے لئے نبی ص کے پاس آئیں۔ مگر اس حال میں بھی چہرے پر نقاب پڑی ہوئی تھی۔ بعض صحابہ نے حیرت کے ساتھ کہا کہ تمہارے چہرے پر نقاب ہے ؟یعنی بیٹے کی شہادت کی خبر سن کر تو ایک ماں کو تن بدن کا ہوش نہیں رہتا اور تم اس حالت میں بھی باپردہ آئی ہو۔ جواب میں کہنے لگیں،” میں نے بیٹا تو ضرور کھویا ہے مگر اپنی حیا نہیں کھوئی۔“
حیا کے ضمن میں پہلی چیز نظریا نگاہ ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث قدسی میں ارشاد فرمایا ”نگاہ ابلیس کے زہریلے تیروں میں سے ایک تیر ھے۔ جو شخص خدا کے ڈرسے اسکو چھوڑ دے گا میں اس کے بدلے اسے ایسا ایمان دوں گا جس کی حلاوت وہ اپنے دل میں پائے گا۔“
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات فراہم کرتا ہے۔عورت معاشرے کی بقا اور تحفظ کی ضامن ہے۔ زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں ہے جس میں ہمارے لئے اسلام کی رہنمائی اور ہدایات موجود نہ ہوں۔ ہمارا یقین ہے کہ پوری انسانیت کی بھلائی اور فلاح اسلام کے ان زریں اصولوں پر عمل کرنے میں ہی ہے۔اسلام کا نظام عفت و عصمت نہ صر ف عورت اور مرد بلکہ پورے معاشرے کی بقا اور تحفظ کا ضامن ہے۔ اسلام نےمرد اور عورت دونوں کو غض بصر( نگاہیں نیچے رکھنے)اور حیاوحجاب کاواضح حکم دیا ہے۔ اس کی پاسداری کے بغیر معاشرے کو محفوظ نہیں بنایا جا سکتا۔
آج اس معاشرے میں جہاں بے حیائی اور فحش عام ہے۔ جذبہ حیاءرکھنے والا ہر فرد پریشان ہے ،نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ،”حیاءایمان ہے اور ایمان بہشت میں لے جائے گا اور بے حیاءجفا ھے اور جفاجہنم کا موجب ہے۔“ (مسند احمد)
اللہ تعالی کو ہمارا ایسا جذبہ حیاءدرکار ہے جو کسی خوشی اور مصیبت کے وقت دبنے نہ پائے۔ میڈیا اور دیگر ذرائع کے سبب بڑھتی ہوئی بے حیائی کو دیکھ کر ہمارا اپنا ایمان انتہائی کمزور ترین درجے پر جا پہنچتا بے اور بے حیاءغیر محسوس راستوں سے ہمارے اندر داخل ہو جاتی ھے اور ہم بے خبر رہتے ہیں۔یہ بے خبری اور یہ غفلت خدانخواستہ کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ”حیاءاور ایمان ہمیشہ اکھٹے رہتے ہیں، جن میں سے کوئی ایک اٹھا لیا جائے تو دوسرا خود بخود اٹھ جاتا ہے۔“ (مشکوتہ المصابیح)
دور حاضر میں ایک نیا فتنہ جدت پسندی کا ھے، جو درحقیقت قدیم ترین جہالت کی نئی شکل ہے۔ اب زندگی کے مختلف شعبوں میں تبدیلی کی رفتار بڑھ گئی ھے۔ زندگی کے بعض پہلوو¿ں میں اشیا ، اقدار اور نظریات و خیالات چند گھنٹوں میں ،کہیں چند مہینوں میں اور کچھ چند سالوں میں پرانے ہوتے جاتے ہیں۔اس صورتحال میں جدیدیت کی نفی کرنا یا اس کے خلاف ڈٹے رہنا،خوا وہ جدید یت کی منفی شکل ہی کیوں نہ ہو ،اسان نہیں ہے۔اسلام کسی مثبت جدت کا مخالف نہیں تھا،نہ آ ج ھے اور نہ کل ھوگا۔تاہم اسلام ایسی ہر جدت اور جدید یت کے راستے کا سنگِ گراں ھے جو اسلام کے کسی بھی اصول ،کل یا جز سے ٹکراتی ہو۔اسلام میڈیا ،تہذیب ،معاشرت یا معیشت کسی بھی شعبے میں جدت کا مخالف نہیں لیکن اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر وہ اپنے طے کردہ اصولوں میں سے کسی اصول کی نفی کا بھی روادار نہیں۔اگر جدید یت کو ایک طرز فکر کے طور پر لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ھے کہ ہر جدید شے خواہ وہ خیال وفکرو فلسفہ ھو یا کوءمادی جدید ایجاد ،صحیح ھے۔گر چہ وہ فکر یا شے انسانی تمدن اور اخلاق کے لئے کتنی ہی تباہ کن اور ضرررساں کیوں نہ ہو۔لیکن اسلام ایسی کسی جدید فکرو ایجاد کا خیر مقدم کرنے کے لئے تیار نہیں جو انسانی تمدن کے لئے تباہ کن اور انسانی فکر میں منفی اثرات پیدا کرے۔یہ اسلام کا مرکزی خیال ھے ،یہی اس کا اصول ھے،یہی اس کی فروع ھے۔اب جو اس اصول کو قبول کرلے تو فبہا۔نہیں تو دین میں کوئی زورو زبردستی نہیں ھے۔مثلا یہ نعرہ کہ ” جیسے چاہو جیو“ پھر روز حشر بھی جیسے چاہو جواب دے لینا۔
جب شرم و حیا کی بات ہو اور ساتھ ہی جدت پسندی کا موضوع زیربحث آ ئے تو لازماً ذہن میں جدت پسندی کا مطلب بے ہودگی، بے شرمی اور بے حیا ءکے رویے، دوپٹوں سے بے نیاز خواتین،منہ بگاڑ بگاڑ کر ادھوری اردو بولنے والے لوگ،ٹی وی چینلز کی نامناسب لباس پہننے والی اینکر ز اور مغربی تہذیب کی نقالی کی طرف ذھن جاتا ھے۔
یہ بد قسمتی ہے کہ جدید یت کی نمائندگی کرنے والے خواتین و حضرات زیادہ تر اسی قبیلے کے ہیں جس میں بزرگوں کی تعظیم،معاشرتی اقدار کی پاسداری،خداخوفی،اخرت میں جواب دہی کا احساس وغیرہ جیسی خوبیاں بہت کم یا نہ ہونے کے برابر ہیں۔جدیدیت کا مطلب یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ کسی اخلاقی ضابطے کی پاپندی نہ کی جائے۔ چھوٹوں پر شفقت ،بڑوں سے احترام سے نہ پیش آ یا جائے۔لباس میں کسی ضابطے کی پاپندی نہ ہو۔ زبان تہذیب کے اثر سے آزاد ہو حالانکہ جدت کو معقولیت کے ساتھ اختیار کیا جائے تو کل یوم حشر میں خدا کے سامنے جوابدہی آ سان ہو سکتی ہے اور خلق خدا کے سامنے ذلت سے بچا جاسکتا ہے۔ یہ وہ دن ہوگا جب ہر شخص کو اللہ کی عدالت میں کھڑے ہو کر تنہا حساب دینا ھو گا کہ اختیار کی آ زادی تھی تو انسان نے نیکی و بدی کے کس راستے کا انتخاب کیا۔
