Site icon Writers Club Pakistan

سہولت اور صلاحیت – انصر محمود بابر

اپنے علاقے کے کروڑ پتی لوگوں کی لسٹ بنا کر دیکھ لیں۔ آپ حیران رہ جائیں گے کہ انھوں نے ان کروڑوں کی کیا کیا قیمت چکائی ہے۔ مثلاً وہ گھر داماد تھا اور دوسرے شہر سے سائیکل پہ پانچ پانچ کلوسامان لے کر آیا کرتا تھا اور بازار میں اپنے سسرکی پرچون کی دکان پہ بیچا کرتا تھا۔ آج چالیس سال کے بعد اس کے پانچ سے زیادہ گودام ہیں جہاں کنٹینرزکے حساب سے مال آتاہے اورٹرکوں کے حساب سے لوڈہوہوکر مارکیٹ میں سپلائی ہوتاہے۔ آج شہرکے چند کروڑپتی لوگوںمیں اس کا شمار ہوتاہے۔ بے شمار جائیدادوں، گاڑیوں اور کوٹھیوں کا مالک ہے۔ بزنس کی دنیا پہ اس کا راج ہے۔ مارکیٹ میں روزانہ کی بنیاد پہ ریٹ وہ دیتا ہے۔

اب آئیے دوسرے پہلو کی جانب۔ اس کے بڑے بھائی کی وفات ہوئی تو جنازہ پڑھ کر وہ اپنے آفس میں موجود تھا۔ اس کے پاس اپنے بھائی کی بیوہ اور بچوں کو دلاسہ دینے تک کا وقت نہیں تھا۔ لوگ تعزیت اور سوگ کے لئے آتے اور وہ موجود نہ ہوتا۔ ساری نعمتوں کے باوجود پیٹ بھر کر کھانا اور جی بھرکر سونا اس کے مقدرمیں نہیں۔

اس کا کوئی دوست نہیں۔ اس لئے کہ دوستوں کے ساتھ گپ شپ کے لئے بھی اس کے پاس وقت نہیں۔ کسی فلاحی اور رفاہی کام کی بھی اس کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں۔ ایک بار اسے ہارٹ اٹیک ہوا تو ڈاکٹرز نے سختی سے بیڈریسٹ پہ بھیج دیا اور اس بیڈریسٹ کے دوران وہ پرانے کھاتے اور حساب چیک کیا کرتا۔ کسی نے اسے ہنستے ہوئے نہیں دیکھا اورتفریح یا آﺅٹنگ کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

اس نے ایک بار مجھ سے پوچھا تھا کہ میں چوبیس گھنٹوں میں کتنی روٹیاں کھاتا ہوں۔ میں نے کہا کہ کم و بیش پانچ روٹیاں کھاتاہوں تو اس نے ٹھنڈی سانس لے کر میری قسمت پہ رشک کرتے ہوئے کہا تھا کہ تم خوش نصیب ہوجو پیٹ بھر کر کھانا کھاتے ہو جبکہ میں چوبیس گھنٹوں میں زیادہ سے زیادہ آدھی روٹی کھاتا ہوں ورنہ زیادہ تر دوائیاں کھاتا ہوں۔ میں نے پوچھا کہ حاجی صاحب آپ رات میں سوتے کتنا ہیں؟ جواب میں انھوں نے ایک محرومی سے پھرپور آہ بھری اورکہا کہ ڈھیر ساری گولیاں کھانے کے باوجود بمشکل دو گھنٹے سو پاتا ہوں۔

یہ وہ چند قیمتیں ہیں جو اس نے کروڑپتی ہونے کی چکائی ہیں۔ اب وہ ذاتی طور پر کن کن محرومیوں کاشکارہے؟ اس بارے میں کوئی دوسرا کچھ نہیں کہہ سکتا اور یہ کسی ایک شخص کی داستان نہیں، اکثر کروڑپتیوں کی کہانی اور سامانِ عبرت ہے۔ کوئی بھی سہولت ہو، وہ اپنی قیمت ضرور وصول کرتی ہے۔ مثال کے طور پہ اگر آپ اچھی صحت چاہتے ہیں تواس کے لئے وقت کی قربانی دینا ہو گی۔ واک کرنا ہو گی اور ورزش کے لئے وقت نکالنا ہو گا، پسینہ بہانا ہو گا۔ اگر آپ خوب گہری نیند سونا چاہتے ہیں تو دن بھر ایمانداری سے کام کے بعد مطمئن ضمیر لے کر بستر پہ جائیں اور جی بھر کر مزے کی نیند سے لطف اندوز ہوں۔ صبح تازہ دم اور ہشاش بشاش اٹھیں اورپھر سے ایک نئے دن کی ابتداء کریں۔

کیلکولیٹر نے پہاڑے، کمپوزنگ نے خطاطی اور کتابت، ڈش، ٹی وی اور کیبل نے مطالعہ اور سمارٹ فون نے دوستوں کے ساتھ گپ شپ کی جگہ لے لی ہے۔ پہلے میلوں کا سفر کر کے رشتہ داروں اور دوستوں کے ہاں جایا جاتا تھا اور آج ایک ہی جگہ اکٹھے بیٹھ کر بھی اکیلے اور تنہا ہیں۔ جیسے جیسے سہولتیں بڑھ رہی ہیں ویسے ویسے وقت جیسی نعمت سے برکت اٹھتی جا رہی ہے۔ میڈیکل سائنس میں دن دگنی اور رات چگنی ترقی ہونے کے باوجود بیماریوں میں بھی اسی رفتار سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ذرائع آمدورفت میں بے پناہ اضافہ ہونے کے باوجود اور ذاتی گاڑیاں ہونے کے باوجود کسی اپنے کے ہاں جانے کے لئے وقت نہیں ہے۔ دولت کی فراوانی تو ہے لیکن خوشحالی نہیں ہے۔ اچھا بزنس اور اچھی جاب تو ہے مگر آسودگی نہیں ہے۔ گاڑی اور بنگلہ تو ہے مگر اطمینان نہیں ہے۔ نرم و ملائم بستر تو ہے مگر نیند نہیں ہے۔ سب کچھ سمیٹ لینے کی ہوس تو ہے مگر احساس ِ تحفظ نہیں ہے۔ چاہئے تو یہ تھا کہ اتنی ساری سہولتوں کے ہوتے ہوئے صلاحیتیوں کو زنگ نہ لگنے پاتا۔ مگر بے چینی ہے کہ ایک تسلسل کے ساتھ بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے۔

ان ساری سہولتوں اور آسانیوں کو پانے کے چکر میں یہ احساس تک نہ ہوا کہ ہم نے کیا کیا کھو دیا ہے۔ آج جب یہ احساس ہوا ہے تو ازالہ ممکن نہیں۔ آج سے یہ ہم پہ ہے کہ کیسے ہم سہولت اور صلاحیت میں توازن برقرار رکھتے ہیں۔ میرے نزدیک اس کا ایک ہی فارمولہ ہے کہ اپنی سہولتوں اور آسانیوں میں ان کو ضرور شامل رکھیں جو ان سے محروم ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ کبھی آپ کی صلاحیتوں کو زنگ نہیں لگنے دے گا۔

 

Exit mobile version