Site icon Writers Club Pakistan

دل میں لیے ہر بات رہ گئے – ثوبیہ اجمل

 

دل میں لیے ہر بات رہ گئے

گنوا کر اسے خالی ہاتھ رہ گئے

دل کی دل میں بات رہ گئی

ہم بے زباں مثلِ زرد پات رہ گئے

نئی منزل کی جانب لوگ چل دیے

ہم لیے اکیلی اپنی ذات رہ گئے

کسی کومانگے بنا مل گئی مرادیں

حرفِ دعا لیے ہم خالی ہاتھ رہ گئے

اپنے کلام پر کبھی ناز تھا ہمیں

چپ چاپ اب دیکھتے مات رہ گئے

 

Exit mobile version