Site icon Writers Club Pakistan

ماں جی – طارق بلوچ صحرائی

کثرت کے پیچھے بھاگنے والا سود خور معاشرہ برکت اور قناعت کے مفہوم کی گہرائی کو نہیں سمجھ سکتا۔ غلامی طویل ہو جائے تو سوچیں بھی غلام ہو جاتی ہیں اور پھر زنجیروں کی ضرورت نہیں رہتی۔ اورپھر آئینے دھندلے ہو کر بے چہرگی کے خوف سے چٹخنے لگتے ہیں۔
جب اخلاقیات کا جنازہ اُٹھتا ھے تو پھر گرگ آشتی تہذیب جنم لیتی ھے ۔ ماں کہا کرتی تھی ہر عطا پر غور ضرور کیا کرو، ہر عطا نعمت نہیں ہوتی، آزمائش بھی ہو سکتی ھے اور حکمت کے نور سے ہی آپ آزمائش اور نعمت میں فرق کر سکتے ہیں۔ میری ماں فقیری میں بڑی امیر تھی اسکی یادداشت کمال کی تھی اُسے ہمیشہ یاد رہتا تھا کہ اُس نے میری خطاؤں اور نافرمانیوں کو کیسے بھولنا ھے۔ شاید یہ عادت اُس نے رب کائنات سے سیکھی تھی۔ رزق کی خزاں میں بھی میں نے کبھی اُن کی زبان سے شکوہ نہیں سنا تھا۔ شکر ہر حال میں شکوے سے بہتر ہوتا ھے ۔وہ کہتی تھی اگر شکر ہو تو ہر کھانا من و سلویٰ ھے ۔ جب بھی گھر میں اچھا کھانا بنتا وہ گورکن کو ضرور بھجواتی تھی کہتی تھی اور دنیا میں آپ کا آخری محسن گورکن ہوتا ھے ۔ کہتی تھی مسرت والی پرسکون زندگی جینا چاہتے ہو تو حالات کے دفنائے لوگوں کا ہاتھ پکڑ کر انہیں باہر نکالو اور اپنے کندھوں کو زندہ لوگوں کی سسکیوں کے لمس کا عادی بناؤ کیونکہ ہم تخلیق ہی سہارا بننے اور درد بانٹنے کے لیے کیے جاتے ہیں ۔ رب کی مخلوق کو خود سے اہم سمجھو یہی محبت ھے اپنے منفی رویے سے لوگوں کے اندر قبریں نہ اگاؤ نہ اُن کے پاس اتنے نوحے ہوتے ہیں نہ اتنے چراغ کسی کے سوال کو عزت دینا کیونکہ جب سوالوں کے موسم گزر جائیں تو فقط پچھتاوے ہی رہ جاتے ہیں۔ ہر موسم میں محبتیں اور خواب ہی کاشت کرنا کہتی تھی جنگل معاشرے کی زبان طاقت ہوتی ھے ۔ یہ اُن اکتائے ہوئے سہمے بدن کا دُکھ نہیں جان سکتے جو ذرد چہرہ اٹھائے پھرتا ھے ۔
میں نے ایک دن کہا ماں جی شیخ عبدالرحمان صاحب بڑے نصیبوں والے آدمی ہیں دولت اُن کے گھر کی لونڈی ھے جس چیز کو ہاتھ لگاتے ہیں سونا بن جاتی ھے ۔ اُن کی تجوریاں دولت سے بھری رہتی ہیں۔
ماں مسکرائی اور بولی ہم عجیب زمانے میں زندہ ہیں جہاں دولت کی ذخیرہ اندوزی اللہ کا فضل کہلاتی ھے۔ حکمت کی روشنی حاصل کرنے کیلئے دِیا نہیں دل جلانا پڑتا ھے ۔
بیٹا تمہیں ایک کہانی سناتی ہوں۔
کردار مر جاتے ہیں کہانیاں زندہ رہتی ہیں۔ جب تک جس کہانی سے لوگ سبق حاصل کرتے رہتے ہیں وہ زندہ رہتی ھے ۔ ایک شخص کو دولت مند بننے کا بڑا جنون تھا اُس نے ہر جائز و ناجائز طریقے سے بے انتہا دولت بنائی مگر قناعت کی دولت سے محروم ہو گیا۔ کسی طرح اُس کے قابو میں جن آ گیا جن نے کہا کیا مانگتا ھے وہ شخص بولا میں جس چیز کو بھی ہاتھ لگاؤں وہ سونے کی ہو جائے پھر وہ جس چیز کو بھی ہاتھ لگاتا وہ سونے کی ہو جاتی۔ وہ خوشی سے قہقہے لگانے لگا۔ اسی خوشی میں اُس نے اپنی اکلوتی بیٹی کو بھی چھو لیا وہ سونے کی بن گئی وہ بہت چیخا چلایا مگر بیٹی دوبارہ زندہ انسان نہ بن سکی۔ وہ اسی دُکھ میں مر گیا۔ پُتر یہ سرمایہ دارانہ سوچ ہی اس دور کا طاغوت ھے ۔ میرے بیٹے خوش نصیب وہ ھے جو جس کو بھی چھوئے وہ زندہ ہو جائے سونا بنانے والا نہیں ۔ زندگیاں، آسانیاں اور خوشیاں بانٹنے والا ہاتھ ہی خوش نصیب ہوتا ھے ۔
میں نے اُس دن جب ماں کی آنکھوں میں آنسو دیکھے تو تڑپ گیا۔ میری ماں بہت حساس تھی اور حساس لوگوں کا ایک المیہ ہوتا ھے ۔ یہ کسی سے ناراض نہیں ہوتے بس جینا چھوڑ دیتے ہیں۔ ماں کیا ہوا کیا آپ مجھ سے ناراض ہیں؟
نہیں پُتر ماں تڑپ گئی پُتر یہ خوشی کے آنسو ہیں جو صرف آنکھوں سے بہتے ہیں دُکھ والے آنسو تو آنکھوں کے ساتھ ساتھ حلق میں بھی گرتے ہیں۔ آج میں ہمسایوں کے ہاں گئی تھی میں نے اُس کے ایک سال کے بچے کو دیکھا وہ نیند میں مسکرا رہا تھا اُس کے چھوٹے سے ہونٹوں پر بڑی مقدس مسکان تھی۔ میں سوچنے لگ گئی کیا میرا رب اتنا مہربان ہے اپنی مخلوق سے اتنا پیار کرتا ھے اُس کو اتنے چھوٹے بچے کی خوشی کا بھی خیال ھے نہ جانے اُس کو خواب میں کیا خوبصورت دکھایا کہ بچہ مسکرا رہا تھا پھر میں نے سوچا ہم اتنے مہربان اتنے عظمت والے اتنے ظرف والے رب سے اتنے دور کیوں ہیں؟ ہم خود کو چھوٹا اور کمتر کیوں سمجھتے ہیں جب بنانے والا ہمارا تخلیق کار اتنا بڑا ھے تو اُسکی تخلیق کمتر کیوں ہو سکتی ھے ۔ سوئے ہوئے چھوٹے سے بچے کی مسکان نے مجھے رب کے اور قریب کر دیا۔
میں نے ایک دن ماں سے پوچھا ماں تیری زندگی میں بھی Regrettsہیں اور انسان خود کو کیسے بدل سکتا ھے ؟
ماں مسکرائی مگر اُسکی مسکراہٹ میں ہجر کی تھکن تھی ہاں پُتر میری زندگی میں دو پچھتاوے ہیں۔ ایک دُکھ تو یہ ھے اُس نے میرے ظرف اور اوقات سے بڑھ کر دیا مگر میں اُس کی عطا کے مطابق وہ شکر ادا نہ کر سکی جو حق بنتا تھا۔
میری زندگی کا دوسرا Regrettیہ ھے کہ میں زندگی میں کئی بار کافر بنی ہوں میں نے زندگی کے وہ لمحے گنوا دیئے ہیں۔ جب میں کافر بنی رہی
میں نے حیرانی سے ماں کی طرف دیکھا۔
ماں میرے سوال کو میری آنکھوں سے پڑھ کر بولی۔
پُتر سلطان باہوؔ کہتا ھے ۔
جو دم غافل او دم کافر
میری زندگی کا جو جو بھی لمحہ اُسکی یاد کے بغیر گزرا ھے وہ میری زندگی کا پچھتاوا ھے ۔
تمہارا دوسرا سوال انسان خود کو کیسے بدل سکتا ہے؟ تو سنو چار چیزیں انسان کو بدل دیتی ہیں اور انسان کے اندر جینز کی پروگرامنگ کرکے مثبت اور صراط مستقیم کے راستے پر ڈال دیتی ہیں۔
پہلی چیز اللہ کا ذکر ھے دوسری بات اللہ والے کی نظر ھے ۔ تیسری بات رزق حلال ھے اور چوتھی چیز کوئی ایسی نیکی جس کا اللہ کے سوا کوئی دوسرا گواہ نہ ہو۔
میں نے مسکرا کر کہا آپ دونوں بھی عجیب ہی ہیں میں نے ایک بار بابا سے پوچھا بابا آپ کو اپنی کونسی خامی اچھی لگتی ھے ۔
اُس دن وہ بڑے موڈ میں تھے بولے بڑا ذوق والا سوال کیا ھے تم نے
اکثر لوگ بڑے بے ذوق ہوتے ہیں مئے خانے میں بھی بنا وضو کے آ جاتے ہیں پھر آسمان کی طرف دیکھ کر بولے یہ تو ساقی کا ظرف ھے پھر بھی پلائے بنا واپس نہیں لوٹاتا۔
بولے کاشف پُتر میں بڑا خوبصورت ہرجائی ہوں مجھے اپنی یہ خامی بڑی اچھی لگتی ھے۔
میں نے حیرانی سے بابا کی طرف دیکھا
میری طرف دیکھ کر بولے
پُتر میں کئی بار راستہ بھولا ہوں کئی بار جیون کی سرکس دیکھنے میں واپس جانا بھول گیا تھا کئی بار زندگی کے میلے میں گم ہوا ہوں کئی بار گھر کے راستے سے بھٹک گیا تھا مگر پھر لوٹ کر اُسی کے پاس دوبارہ پہنچ جاتا ہوں جو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ھے جس کا تعارف رحمان ھے جس نے اپنے غضب پر اپنی رحمت کو بھاری کر لیا ھے ۔ وہ مجھے پیار سے دیکھتا ھے ، مسکراتا ھے اور پھر اپنی رحمت کے حصار میں لے لیتا ھے اُسے ہمیشہ یاد رہتا ہے کہ اُس نے میری خطاؤں ، بے وفائی میرے ہرجائی پن کو کیسے بھولنا ھے۔
ایک دن سرشام ماں مجھ سے کہنے لگی پُتر مجھے زندگی کی شام کی دستک سنائی دینے لگی ہے۔ پُتر یہ فتنے کا دور ھے سرمایہ دارانہ سوچ ہی اس زمانے کا تراشا ہوا بت اور طاغوت ھے مگر یاد رکھنا تمہارا اللہ ہی تمہارا رب ھے ۔ رشتوں کو دولت پر ہمیشہ ترجیح دینا، قناعت سے بڑی کوئی دولت نہیں۔بیٹا جب کبھی زندگی تھکن اور اضطراب کا شکار ہو جائے تو اپنی رفتار کم کر لینا اپنی دوڑ کو فطرت کی رفتار کے مطابق کر لینا زندگی میں سکون آ جائے گا جو بھی حدود وقت سے آگے نکلتا ھے اُسے لہو کے چھینٹے برداشت کرنا پڑتے ہیں مگر ماں جی یہ فطرت کی رفتار کیا ھے ؟ ماں نے کروٹ بدلی اور آہستہ سے بولی بیٹا فطرت کی رفتار ’صبر‘ ھے ۔اور پھر ایک دُھندلی شام ماں مجھے ادھورا کرکے اپنے مالک کے پاس چلی گئی۔ اُس دن مجھے معلوم ہوا انسان کی دو زندگیاں ہوتی ہیں ایک ماں کے ساتھ دوسری ماں کے بناء اور دوسری والی زندگی اور موت میں بہت تھوڑا فرق ہوتا ھے۔ ماں کی جدائی نے مجھے زخمی کر دیا تھا مجھے یاد ھے ایک دن کہنے لگی تیرا باپ اہل دل ھے۔ میں نے کہا ماں اہل دل کون ہوتے ہیں۔ کہنے لگی
جس کو فراق گھائل کر دے مگر ادھورا وصل مار دے وہ اہل دل ہوتا ھے ۔ کہنے لگی تیرا باپ ایک بہادر شخص ھے وہ جانتا ھے جس چیز سے بھی آپ بھاگو گے وہ آپ کا تعاقب کرے گی اور دنیا کے بازار میں سب سے قیمتی سکہ حوصلہ ھے ۔ میں ہر وقت ماں کی قبر کے سامنے بیٹھا اُسکی قبر کو دیکھتا رہتا ہوں۔ گورکن بھی کبھی کبھی آ کر بیٹھ جاتا ھے اور دُکھی ہو کر مجھے دیکھتا رہتا ھے ۔ ایک دن مجھ سے بولا پُتر تیری ماں بڑی عورت تھی تو ہر وقت اُسکی قبر کو کیوں دیکھتا رہتا ھے میں بولا۔ مجھ میں قناعت نہیں ھے ۔ گورکن نے میری طرف حیرانی سے دیکھا۔
ہاں چاچا میں صحیح کہہ رہا ہوں۔
میں نے اُسکا ہاتھ پکڑا اور کہا
چاچا تجھے ایک بات بتاؤں۔
میری ماں مجھے ہر وقت بڑی محبت سے دیکھتی رہتی تھی۔ مجھے دیکھ کر اُس کے چہرے پر خوشی دمکنے لگتی تھی۔ میں نے ایک دن ماں سے پوچھ ہی لیا ماں تو مجھے ہر وقت ایسے محبت سے کیوں دیکھتی رہتی ھے کیا تمہارا دل نہیں بھرتا۔ کہنے لگی
پُتر خالق پاک ھے اور اُس کی محبت بھی
مخلوق کی محبت میں بس ایک خامی ہوتی ھے کیا؟
میں نے حیرانی سے پوچھا تھا
نم آنکھوں سے مسکراتے ہوئے کہنے لگی
محبت میں قناعت نہیں ہوتی

Exit mobile version