بہت دنوں کی بات ہے، کسی ملک کے ایک انصاف پسند بادشاہ کا وزیر مرگیا۔ وہ وزیر بہت عقل مند اور نیک انسان تھا، جو بادشا کو رعایا کی بھلائی کے لیے اچھے مشورے دیتا تھا۔ بادشاہ اس کو بہت عزیز رکھتا تھا اور اس پر مکمل بھروسا کرتا تھا۔ بادشاہ کو اس کی موت کا بہت افسوس تھا۔ بادشاہ ہی کو نہیں، اس ملک کے عوام کو بھی وزیر کی موت کا بہت غم تھا۔
بادشاہ اپنے درباریوں میں سے کسی کو بھی اپنا وزیر بنا سکتا تھا، لیکن اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے ملک ہی کے کسی عقل مند آدمی کو وزیر بنائے گا۔ بادشاہ اپنے ایک وفادار ملازم کے ساتھ رات کو بھیس بدل کر اپنی رعایا کے حالات جاننے کے لیے نکلتا تھا۔ اس طرح وہ ان کے مسائل سے واقفیت حاصل کرتا تھا۔ ایک بار آدھی رات کے وقت وہ شہر کی ایک گلی سے گزر رہا تھا کہ اندھیرے کی وجہ سے ایک آدمی سے ٹکرا گیا۔ بادشاہ نے پوچھا، تم کون ہو اور رات کے وقت یہاں کیا کر رہے ہو؟ اس شخص نے جواب دیا، میں اس شہر کا ایک شریف انسان ہوں اور بے وقوفوں کو عقل مند بننے کے گُر سکھاتا ہوں۔
بادشاہ گھوم پھرکر اپنے محل واپس پہنچا اور دوسرے دن حکم جاری کیا کہ شہر میں رات کے وقت ہر شخص ہاتھ میں چراغ لے کر نکلا کرے۔ جو شخص ایسا نہیں کرے گا، اسے سخت سزا دی جائے گی۔
کچھ دنوں بعد بادشاہ رات کے وقت شہر کی ایک گلی سے گزر رہا تھا کہ وہ پھر ایک آدمی سے ٹکرا گیا۔ بادشاہ کو بہت غصہ آیا۔ اس نے پوچھا، تم کون ہو اور اس وقت یہاں کیا کر رہے ہو؟
جناب! میں اس شہر کا ایک معززآدمی ہوں اور بے وقوفوں کو عقل سکھلاتا ہوں۔ بادشاہ نے پہچان لیا کہ یہ وہی شخص ہے، جو چند دن قبل بھی اس سے ٹکرایا تھا۔
کیا تم نے بادشاہ سلامت کا حکم نہیں سنا کہ رات کے وقت ہرآدمی ہاتھ میں چراغ لے کر نکلاکرے۔ تم نے بادشاہ کے حکم کی تعمیل نہیں کی، اس لیے تم کو سخت سزا ملے گی۔ بادشاہ نے غصے میں کہا۔
جناب والا! میرے ہاتھ میں چراغ ہے، آپ دیکھ سکتے ہیں۔ اس آدمی نے جواب دیا۔
مگر یہ روشن کیوں نہیں ہے؟ بادشاہ نے سوال کیا۔
جناب والا! بادشاہ سلامت کا حکم صرف اتنا ہے کہ ہر آدمی ہاتھ میں چراغ لے کر چلے۔ یہ حکم نہیں دیا کہ اس میں تیل بھی ہو اور وہ روشن بھی ہو۔ بادشاہ حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا۔ اس آدمی نے پھر کہا، میرا خیال ہے کہ بادشاہ کے دربار میں عقل مند وزیروں کا قحط ہے ورنہ ایسا حکم صادرکرنے سے پہلے وہ بادشاہ سلامت کی توجہ دلاتے۔ میری دعا ہے کہ خدا ہمارے بادشاہ سلامت کو ایک عقل مند وزیر باتدبیرعطا فرمائے۔
بادشاہ یہ جواب سن کر دل ہی دل میں بہت شرمندہ ہوا۔ وہ اس آدمی کے ساتھ ساتھ چلنے لگا اور باتوں میں اس کے بارے میں ذاتی معلومات حاصل کرلیں۔
بادشاہ نے پوچھا، تمہارا پیشہ کیا ہے؟ اس نے جواب دیا، جناب والا! میں ایک مدرسے میں استاد ہوں اور عقل مند بنانے والی دو عظیم کتابوں کا حافظ ہوں۔ اس کے علاوہ بہت ساری ایسی کتابیں پڑھ چکا ہوں جو انسان کو عقل مند بنا کر انہیں کام یاب انسان بنا سکتی ہیں۔ میرے استاد نے مجھ سے کہا تھا کہ اگر کوئی آدمی ’گلستان اور بوستان‘ کی حکاتیوں کو سمجھ کر پڑھے اور ان پر غور کرے تو ایک دن وہ عقل مندترین انسان بن کر کسی بادشاہ کے دربار میں جگہ پا سکتا ہے۔
باتیں کرتے کرتے اس عقل مند انسان کا گھرآگیا اور وہ سلام کر کے رخصت ہوگیا۔ بادشاہ نے اس کے مکان اور محلے کو ذہن نشین کرلیا اور اپنے محل میں واپس چلا گیا۔ دوسرے دن بادشاہ نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ اس عقل مند آدمی کو عزت کے ساتھ ہمارے حضور پیش کیا جائے۔ بادشاہ اس کی گفتگو اور عالمانہ باتیں سن کر بہت خوش ہوا، اور اسے اپنا وزیر بنا لیا۔ اس وزیر نے بادشاہ کو بہت اچھے اور مفید مشورے دیے۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ شہر کے سارے باشندوں کو مفت چراغ اور تیل فراہم کیا جائے اور گلی کوچوں میں رات کو روشنی کرنے کے لیے چراغ تھامے نوکر رکھے جائیں۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ استادوں کے ساتھ شہر کے ہر شخص کو چاہیے کہ وہ شیخ سعدی کی کتابیں ’گلستان وبوستان‘ ضرور پڑھے۔

