آج اسے الوداع کرتے ہوئے نہ جانے کیوں اس کی ماں آنکھیں پُرنم ہوگئی تھیں جنہیں وہ چاہ کر بھی نہ چھپا سکی۔ امی! میں تواللہ کی راہ میں، وطن کی حفاظت کی خاطر، دشمنوں سے مقابلے کے لیے جا رہا ہوں۔ مجھے آپ کی دعا چاہیے کہ اللہ مجھے اپنی رضا دے۔ یہ معاذ تھا، جو اپنی ماں کو تسلی کے کلمات کہتا ہوا روانہ ہو رہا تھا۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ آج اس کا یہ سفر مبارک ہوگا۔ یہ کلمات آخری ہوں گے اور یہی وہ لمحات تھے، جو ماں کے دل کو خوشی سے لبریز ہونے کے ساتھ آنکھوں کو نم کیے جا رہے تھے۔ وہ اپنی ماں کا اکلوتا بیٹا تھا۔ ماں کی عرصے سے خواہش تھی کہ اللہ مجھے ایسی اولاد دے جو تیرے دین کی داعی اور اس وطن، پاکستان کی حفاظت کرنے والی ہو۔
کافی عرصے بعد ان کے گھر میں تین بہنوں کے بعد یہ شہزادہ آیا، جسے سبھی کا پیار ملا اور وہ اسی سوچ میں پروان چڑھا، جو ماں کی خواہش تھی۔ اس سے پہلے کہ ماں اس سے اپنی خواہش کا اظہار کرتی، وہ اسی سوچ میں دن رات گزار رعظیم شہید بیٹا
آج اسے الوداع کرتے ہوئے نہ جانے کیوں اس کی ماں آنکھیں پُرنم ہوگئی تھیں جنہیں وہ چاہ کر بھی نہ چھپا سکی۔ امی! میں تواللہ کی راہ میں، وطن کی حفاظت کی خاطر، دشمنوں سے مقابلے کے لیے جا رہا ہوں۔ مجھے آپ کی دعا چاہیے کہ اللہ مجھے اپنی رضا دے۔ یہ معاذ تھا، جو اپنی ماں کو تسلی کے کلمات کہتا ہوا روانہ ہو رہا تھا۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ آج اس کا یہ سفر مبارک ہوگا۔ یہ کلمات آخری ہوں گے اور یہی وہ لمحات تھے، جو ماں کے دل کو خوشی سے لبریز ہونے کے ساتھ آنکھوں کو نم کیے جا رہے تھے۔ وہ اپنی ماں کا اکلوتا بیٹا تھا۔ ماں کی عرصے سے خواہش تھی کہ اللہ مجھے ایسی اولاد دے جو تیرے دین کی داعی اور اس وطن، پاکستان کی حفاظت کرنے والی ہو۔
کافی عرصے بعد ان کے گھر میں تین بہنوں کے بعد یہ شہزادہ آیا، جسے سبھی کا پیار ملا اور وہ اسی سوچ میں پروان چڑھا، جو ماں کی خواہش تھی۔ اس سے پہلے کہ ماں اس سے اپنی خواہش کا اظہار کرتی، وہ اسی سوچ میں دن رات گزار رہا تھا کہ کب وہ دن آئے اور کب میں اس سعادت کی زندگی اور شہادت کی موت پانے نکلوں۔ آخر اس نے ہمت کی اور ماں کے پاس اپنا مدعا لیے چلا آیا۔ اس کی پرورش تو اسی سوچ میں ہوئی تھی مگر اسے ڈر تھا کہ میں ایک بیٹا ہی ہوں جسے اللہ سے بہت منّتوں مُرادوں سے مانگا گیا۔ ماں باپ کا پیار، بہنوں کا پیار…. کہیں مجھے روک نہ دیا جائے۔
یہاں اسے روکے جانے کا ڈر تھا اور وہاں والدین اور بہنیں یہ چاہتے تھے کہ بیٹا خود ان سے اس خواہش کا اظہار کرے تا کہ وہ بھی دیکھیں کہ آخر ان کی پرورش کیا رنگ لائی ہے؟
وقت کیسے گزرا، کسی کو پتا ہی نہ چلا۔ اس ننھے مجاہد نے جب عمر کے پندرہویں حصے میں قدم رکھا تو جوش ٹھاٹھیں مارنے لگا اور وہ ماں کے پاس گیا۔
جس رستے پر قدم رکھے ہیں اسی پہ چلتے جانا ہے
چودہ صدیاں پیچھے ہٹ کے سب سے آگے جانا ہے
اجازت لینے کے لیے لب گویا ہوئے۔ ”امی! میں جانتا ہوں، آپ نے مجھے اللہ سے رو رو کر مانگا۔ میں آپ کی آنکھوں کا تارا ہوں، بہنوں کا لاڈلا ہوں لیکن امی! آج مجھے آپ سے انکار نہیں سننا، آپ کو آج ماننا ہوگا۔ ماں کے دل میں خوشی کا چراغ روشن ہوا مگر ان جان بنتے ہوئے پوچھا، بیٹا! کیا بات ہے، کیا مانگتے ہیں، کیا آپ کی کبھی کوئی بات رد کی ہے؟ تو آج آپ کو کس چیز کا خوف ہونے لگا؟ آپ کہیں، جو کہنا ہے۔
یہ حقیقت تھی کہ معاذ کی بات کبھی رد نہ کی جاتی تھی لیکن وہ باقی بچوں جیسا بھی نہ تھا۔اس کی فرمائشیں بھی نرالی ہوتیں کہ خود پوری کرنے کا جی چاہتا۔ کبھی تبلیغ میں جانے کی خواہش میں رونے لگتا تو کبھی حفظ کے شوق کے بعد مچلتے لبوں سے قاری بننے کی خواہش، تو کبھی کسی غریب کی مدد کی خواہش، عجیب بات تھی، اس چھوٹی عمر میں اس کی سوچ، اور خواہشات پر سب حیران ہوتے کہ ہم نے اسے اتنا نہیں سکھایا جتنا یہ ہمیں سکھاتا ہے۔ واقعی یہ حقیقت ہے کہ انسان کو جب کسی سے محبت ہو جاتی ہے تو اسے محبوب کی جو ادا پسند آ جائے، اس کی نقل میں لگ جاتا ہے۔ یہی بات تھی کہ اسے اپنے نبی صل اللہ علیہ و سلم سے اس قدر محبت تھی کہ کبھی گھر کے کاموں میں والدہ اور بہنوں کا ہاتھ بٹاتا تو کبھی اپنے آنے والے داڑھی کے ہلکے ہلکے گھنے چھنے بالوں پہ محبت سے ہاتھ پھیرتا، تو کبھی جوش ِ محبت میں یہ شعر پڑھتا۔
تڑپنے پھڑکنے کی توفیق دے
دل مرتضیٰ، سوزِ صدیق دے
اس کا ہر انداز نرالا تھا۔ بہت کم گو، نرم مزاج، بہادر اور ہمدرد تھا۔ یوں وہ سب کا دل جیت چکا تھا مگر یہ لمحات جانے والے تھے۔ آج جب ماں سے اجازت کے لیے گویا ہوا تو کیا جذبات تھے کہ ماں بھی خوشی سے رونے لگی۔ اللہ نے میرے بیٹے کے دل میں ایمان کی محبت کو پیوست کر رکھا ہے۔ جوں ہی ماں سے اجازت ملی، وہ خوشی سے ماں کی گود میں سر رکھ کے بچوں کی طرح رونے لگا۔ بہنوں پر یہ منظر عیاں ہوا تو وہ فوراً سجدہئ شکر بجا لائیں اور استقامت کی دعا مانگنے لگیں۔ اور پھر وہ دن آیا جب یہ ننھا مجاہد اپنے سفر پہ روانہ ہوگیا۔
ہمیشہ ماں اسے الواداع کہتی تھی لیکن نہ جانے کیوں آج اسے معاذ کی ہر ہر بات یاد آکر رنجیدہ کر رہی تھی۔ دل چاہتا، معاذ کو سینے میں چھپا لے، آج نہ جانے دے۔ اس نے سوچا۔ آخر ماں تھی۔ لیکن صبر کرتے ہوئے اللہ سے اجر کی امید لگائے معاذ کو وداع کر رہی ہے۔ اسے عمامہ پہنایا، بالوں میں کنگھی کی، جوتے پہنائے۔ معاذ ہمیشہ امی کو جوتے پہنانے سے روکتا تھا۔ اسے یہ ہاتھ پاؤں میں اچھے نہیں لگتے تھے مگر آج وہ بھی چاہتا تھا، اسے اتنا پیار ملے کہ جہاں نظر جائے ماں کا پیار ہی نظر آئے۔
جب وہ جانے لگا تو سب سے چھوٹی بہن ماریہ نیند کی آغوش میں سوئی ہوئی تھی۔ اسے پیار کیا اور سب کی دعائیں لیتے ہوئے نکل گیا۔
وہ سب کی یادیں دل میں لیے اپنے وطن عزیز کی حفاظت میں مگن تھا۔ آخر وہ اپنے مقام پہ پہنچ گیا۔ جونہی اتر کر چند قدم آگے بڑھا، دشمنانِ اسلام کی جانب سے زوردار بم باری ہوئی اور وہ وہیں جام شہادت نوش کرگیا۔ وہ معاذ سے ”شہید معاذ“ کے نام سے جانا جانے لگا۔ اس کی ماں تک اس خبر کے ساتھ معاذ کا کچھ سامان اور اس کے جوتے بھی پہنچائے گئے، جنہیں وہ ہمیشہ ہاتھ لگانے سے روکتا تھا۔آج وہ جوتے تو تھے مگر پہننے والا نہ تھا۔ ماں محبت سے ان جوتوں کو سینے سے لگاتی کہ وہ مقام،جس کے لیے بیٹا مانگا تھا، آج اسے مل گیا۔
ماں اپنے معاذ کو یاد کر کے خوشی سے ہچکیوں سے رونے لگی۔ میرا معاذ تو واقعی عظیم تھا۔ آج اس کی ہر ہر ادا یاد آتی ہے۔ کبھی اس کا نغمے سنانا تو کبھی بہنوں کے ساتھ ہاتھ بٹانا، کبھی چھوٹی بہن کو کھلانا، کبھی اسے سبق پڑھانا۔ ماریہ کی باتیں اکثر سب کو رلا دیتیں۔ ”امی! میں یہاں بیٹھتی تھی اور بھائی مجھے آ کر سبق پڑھاتے۔ آج شام ہوگئی، بھائی ابھی تک کیوں نہیں آئے؟ امی! بھائی کب آئیں گے؟ امی! مجھے بھائی یاد آرہے ہیں۔ مجھے بھائی کے پاس جانا ہے۔“ اس کی باتیں سب کو تڑپا دیتیں۔
٭……٭……٭
ہا تھا کہ کب وہ دن آئے اور کب میں اس سعادت کی زندگی اور شہادت کی موت پانے نکلوں۔ آخر اس نے ہمت کی اور ماں کے پاس اپنا مدعا لیے چلا آیا۔ اس کی پرورش تو اسی سوچ میں ہوئی تھی مگر اسے ڈر تھا کہ میں ایک بیٹا ہی ہوں جسے اللہ سے بہت منّتوں مُرادوں سے مانگا گیا۔ ماں باپ کا پیار، بہنوں کا پیار…. کہیں مجھے روک نہ دیا جائے۔
یہاں اسے روکے جانے کا ڈر تھا اور وہاں والدین اور بہنیں یہ چاہتے تھے کہ بیٹا خود ان سے اس خواہش کا اظہار کرے تا کہ وہ بھی دیکھیں کہ آخر ان کی پرورش کیا رنگ لائی ہے؟
وقت کیسے گزرا، کسی کو پتا ہی نہ چلا۔ اس ننھے مجاہد نے جب عمر کے پندرہویں حصے میں قدم رکھا تو جوش ٹھاٹھیں مارنے لگا اور وہ ماں کے پاس گیا۔
جس رستے پر قدم رکھے ہیں اسی پہ چلتے جانا ہے
چودہ صدیاں پیچھے ہٹ کے سب سے آگے جانا ہے
اجازت لینے کے لیے لب گویا ہوئے۔ ”امی! میں جانتا ہوں، آپ نے مجھے اللہ سے رو رو کر مانگا۔ میں آپ کی آنکھوں کا تارا ہوں، بہنوں کا لاڈلا ہوں لیکن امی! آج مجھے آپ سے انکار نہیں سننا، آپ کو آج ماننا ہوگا۔ ماں کے دل میں خوشی کا چراغ روشن ہوا مگر ان جان بنتے ہوئے پوچھا، بیٹا! کیا بات ہے، کیا مانگتے ہیں، کیا آپ کی کبھی کوئی بات رد کی ہے؟ تو آج آپ کو کس چیز کا خوف ہونے لگا؟ آپ کہیں، جو کہنا ہے۔
یہ حقیقت تھی کہ معاذ کی بات کبھی رد نہ کی جاتی تھی لیکن وہ باقی بچوں جیسا بھی نہ تھا۔اس کی فرمائشیں بھی نرالی ہوتیں کہ خود پوری کرنے کا جی چاہتا۔ کبھی تبلیغ میں جانے کی خواہش میں رونے لگتا تو کبھی حفظ کے شوق کے بعد مچلتے لبوں سے قاری بننے کی خواہش، تو کبھی کسی غریب کی مدد کی خواہش، عجیب بات تھی، اس چھوٹی عمر میں اس کی سوچ، اور خواہشات پر سب حیران ہوتے کہ ہم نے اسے اتنا نہیں سکھایا جتنا یہ ہمیں سکھاتا ہے۔ واقعی یہ حقیقت ہے کہ انسان کو جب کسی سے محبت ہو جاتی ہے تو اسے محبوب کی جو ادا پسند آ جائے، اس کی نقل میں لگ جاتا ہے۔ یہی بات تھی کہ اسے اپنے نبی صل اللہ علیہ و سلم سے اس قدر محبت تھی کہ کبھی گھر کے کاموں میں والدہ اور بہنوں کا ہاتھ بٹاتا تو کبھی اپنے آنے والے داڑھی کے ہلکے ہلکے گھنے چھنے بالوں پہ محبت سے ہاتھ پھیرتا، تو کبھی جوش ِ محبت میں یہ شعر پڑھتا۔
تڑپنے پھڑکنے کی توفیق دے
دل مرتضیٰ، سوزِ صدیق دے
اس کا ہر انداز نرالا تھا۔ بہت کم گو، نرم مزاج، بہادر اور ہمدرد تھا۔ یوں وہ سب کا دل جیت چکا تھا مگر یہ لمحات جانے والے تھے۔ آج جب ماں سے اجازت کے لیے گویا ہوا تو کیا جذبات تھے کہ ماں بھی خوشی سے رونے لگی۔ اللہ نے میرے بیٹے کے دل میں ایمان کی محبت کو پیوست کر رکھا ہے۔ جوں ہی ماں سے اجازت ملی، وہ خوشی سے ماں کی گود میں سر رکھ کے بچوں کی طرح رونے لگا۔ بہنوں پر یہ منظر عیاں ہوا تو وہ فوراً سجدہئ شکر بجا لائیں اور استقامت کی دعا مانگنے لگیں۔ اور پھر وہ دن آیا جب یہ ننھا مجاہد اپنے سفر پہ روانہ ہوگیا۔
ہمیشہ ماں اسے الواداع کہتی تھی لیکن نہ جانے کیوں آج اسے معاذ کی ہر ہر بات یاد آکر رنجیدہ کر رہی تھی۔ دل چاہتا، معاذ کو سینے میں چھپا لے، آج نہ جانے دے۔ اس نے سوچا۔ آخر ماں تھی۔ لیکن صبر کرتے ہوئے اللہ سے اجر کی امید لگائے معاذ کو وداع کر رہی ہے۔ اسے عمامہ پہنایا، بالوں میں کنگھی کی، جوتے پہنائے۔ معاذ ہمیشہ امی کو جوتے پہنانے سے روکتا تھا۔ اسے یہ ہاتھ پاؤں میں اچھے نہیں لگتے تھے مگر آج وہ بھی چاہتا تھا، اسے اتنا پیار ملے کہ جہاں نظر جائے ماں کا پیار ہی نظر آئے۔
جب وہ جانے لگا تو سب سے چھوٹی بہن ماریہ نیند کی آغوش میں سوئی ہوئی تھی۔ اسے پیار کیا اور سب کی دعائیں لیتے ہوئے نکل گیا۔
وہ سب کی یادیں دل میں لیے اپنے وطن عزیز کی حفاظت میں مگن تھا۔ آخر وہ اپنے مقام پہ پہنچ گیا۔ جونہی اتر کر چند قدم آگے بڑھا، دشمنانِ اسلام کی جانب سے زوردار بم باری ہوئی اور وہ وہیں جام شہادت نوش کرگیا۔ وہ معاذ سے ”شہید معاذ“ کے نام سے جانا جانے لگا۔ اس کی ماں تک اس خبر کے ساتھ معاذ کا کچھ سامان اور اس کے جوتے بھی پہنچائے گئے، جنہیں وہ ہمیشہ ہاتھ لگانے سے روکتا تھا۔آج وہ جوتے تو تھے مگر پہننے والا نہ تھا۔ ماں محبت سے ان جوتوں کو سینے سے لگاتی کہ وہ مقام،جس کے لیے بیٹا مانگا تھا، آج اسے مل گیا۔
ماں اپنے معاذ کو یاد کر کے خوشی سے ہچکیوں سے رونے لگی۔ میرا معاذ تو واقعی عظیم تھا۔ آج اس کی ہر ہر ادا یاد آتی ہے۔ کبھی اس کا نغمے سنانا تو کبھی بہنوں کے ساتھ ہاتھ بٹانا، کبھی چھوٹی بہن کو کھلانا، کبھی اسے سبق پڑھانا۔ ماریہ کی باتیں اکثر سب کو رلا دیتیں۔ ”امی! میں یہاں بیٹھتی تھی اور بھائی مجھے آ کر سبق پڑھاتے۔ آج شام ہوگئی، بھائی ابھی تک کیوں نہیں آئے؟ امی! بھائی کب آئیں گے؟ امی! مجھے بھائی یاد آرہے ہیں۔ مجھے بھائی کے پاس جانا ہے۔“ اس کی باتیں سب کو تڑپا دیتیں۔
٭……٭……٭

