Site icon Writers Club Pakistan

عبادت اور خوف ِ الٰہی

اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا تاکہ وہ اس کی عبادت کرے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: ”میں نے جن وانس کو خلق نہیں کیا سوائے اس لیے کہ وہ میری عبادت کریں۔“ اس بِنا پر قرآن مجید تاکید سے یہ بات بیان کر رہا ہے کہ انبیائے الٰہی ومرسلین کے اہم ترین اہداف میں سے ایک یہ ہے کہ لوگوں کو خدائے وحدہُ لاشریک کی عبادت کی دعوت دیں۔ رب العالمین فرماتا ہے، ”اوریقیناً ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا ہے کہ تم لوگ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے اجتناب کرو۔“ مزید فرمایا، ”اور اللہ میرا اور تمہارا، دونوں کا پروردگار ہے۔ لہٰذا، اس کی عبادت کرو۔ یہی صراطِ مستقیم ہے۔“
واضح رہے کہ ایسی عبادت صرف انسان کی اپنی تکمیل کے لیے ہے۔ چوں کہ خدا تعالیٰ کی ذات میں کوئی نقص نہیں اور نہ ہی اسے اس بات کی حاجت ہے کہ وہ کسی کی عبادت کے ذریعے اپنی کم زوری کو دُور کرے۔ دوسرے لفظوں میں، عبادت تو اس انسان اپنی تکمیل کا ایک ذریعہ ہے جو عبادت کو انجام دیتا ہے۔ یہ عبادات خدا تعالیٰ کے لیے کمال کے حصول کا ذریعہ نہیں ہیں۔ قرآن مجید میں آیا ہے، ”اور روئے زمین کے تمام بسنے والے بھی کافر ہوجائیں تو ہمارا اللہ سب سے بے نیاز ہے اور وہ قابل ِ حمد وستائش ہے“
اسلام کے تصور ِ عبادت کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے لفظ عبادت کے معنی ومفہوم، جو عربی زبان ہی کا ایک لفظ ہے، ذہن نشین کرلیں۔ عبادت کے لغوی معنی انتہائی عجز وتذلل کے ہیں۔ امام راغبؒ لکھتے ہیں، ”عبودیت کے معنی اظہار ِ فروتنی کے ہیں اور عبادت کے معنی اس سے بھی ایک درجہ آگے، یعنی غایت درجہ فروتنی کے ہیں۔ اس کی مستحق صرف وہ ذات ہے جس کی مہربانیاں بے پایاں ہیں۔ اسی لیے ارشاد ہوا ہے: صرف اسی کی عبادت کرو۔“
معروف عربی لغت ”لسان العرب“ میں ہے، ”عبادت کے معنی اطاعت کے ہیں۔ ”عبدالطاغوت“ یعنی اس نے طاغوت کی اطاعت کی اور اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا قول ہے: ”ایاک نعبد“ یعنی ہم تیری ہی عاجزانہ اطاعت کرتے ہیں اور لغت میں عبادت کے معنی اطاعت مع الخضوع ہیں۔ چنانچہ عبادت کے ساتھ عاجزی وانکساری کا ہونا لازمی ہے۔
عبادت کی منزل تقویٰ کا حصول ہے۔ شریعت کی اصطلاح میں تقویٰ کے معنی ہیں کہ نفس کو ہر اُس کام سے بچانا، جس کے باعث کوئی شخص عذاب کا مستحق قرار پائے۔ جیسے کفروشرک، بے حیائی اور حرام چیزوں سے بچنا اور فرائض کی ادائیگی کرنا۔ تقویٰ کو یوں بھی بیان کیا گیا ہے۔ ”تیرا رب تجھے وہاں نہ پائے جہاں اس نے منع کیا ہے۔“ یا یوں کہیے کہ تقویٰ انسانی زندگی کی وہ صفت ہے جو تمام انبیاء کی تعلیم کا نچوڑ ہے۔

فروتنی است دلیل رسیدگان کمال
کہ چوں سوار بمنزل رسد پیادہ خود

یعنی اہل کمال کی نشانی عاجزی اور انکساری ہے۔ آپ نے دیکھا نہیں کہ سوار جب منزل ِ مقصود پر پہنچتا ہے تو پیادہ ہو جاتا ہے۔ اب جب، منزل کے بارے میں جان گئے ہیں تو اس منزل پر پہنچنے کے لیے ہمیں زاد ِ راہ کی ضرورت تو پڑے گی۔ عبادت کی راہ میں تقویٰ ہماری منزل ہے اور اخلاص وخَشیت الٰہی ہمارا زاد ِراہ ہے۔ ان کی پیدائش کا بنیادی مقصد اللہ تعالیٰ کی ”عبادت“ ہے اور عبادت میں جان ہی ”اخلاص“ سے پڑتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ”اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! کہہ دیجیے کہ بے شک میری نماز، میری قربانی اور میرا جینا، میرا مرنا (سب) اللہ ہی کے لیے ہے جو سارے جہانوں کا پالنے والا ہے۔“
چناں چہ اخلاص تمام اعمال کی روح ہے اور وہ عمل، جس میں اخلاص نہ ہو، اس جسم کی مانند ہے جس میں روح نہ ہو۔ گویا اخلاص، عبادات واعمال میں روح کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہر انسان کا بنیادی مطمحِ ِ نظر یہی ہونا چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرکے اس کی رضا حاصل کرے تاکہ اسے جنت نصیب ہو۔ اس مقصدکے لیے اخلاص کا ہونا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ کے یہاں اعمال کا حُسن معتبرہے نہ کہ محض کثرت۔ جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ”وہ تمہیں ضرور آزمائے گا تاکہ وہ جان لے کہ تم میں سے کون ہے، جو بہتر اعمال کرنے والا ہے۔“
مذکورہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے اعمال کے حُسن جانچنے کا تذکرہ کیا ہے، کثرت کا نہیں۔ چناں چہ اعمال کی قبولیت اور اس پر اجر وثواب کے حصول کے لیے اس میں روحانیت واخلاص اور کیفیت کا اعتبار ہے نہ کہ محض تعداد یا قلت وکثرت کا۔ مفسرین کے مطابق، ”احسن عمل“ سے مراد وہ نیکی ہے، جو اخلاص پر مبنی ہو اور شریعت کے مطابق ہو۔“ اس آیت کے پیش نظر علما ومحققین نے اعمالِ صالحہ کی قبولیت کے لیے دو شرطیں بیان کی ہیں: ایک، اخلاص یعنی وہ عمل، جو صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے کیا جائے اور دوسری، اتباعِ سنّت یعنی وہ عمل، جو قرآن وسنّت کی تعلیمات کے موافق ہو۔ بدعت یا کسی اور طرح سے خلاف ِ شرع نہ ہو۔
ایک حدیث میں خاتم النّبیین رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ متقی، مخلوق سے مستغنی اور اخفاپسند بندے کو پسند فرماتا ہے۔“ اس حدیث میں اللہ تعالیٰ نے تین صفات والے بندے کو اپنا محبوب قرار دیا ہے۔ ایک متقی: وہ بندہ، جو ظاہر وباطن میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے عذاب سے ڈرتا ہو اور اس کی معصیت سے بچتا ہو۔ دوسرا غنی: وہ بندہ، جو لوگوں کے مال وجاہ سے کوئی غرض اور کوئی حرص ومفاد وابستہ نہ رکھتا ہو بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے فقر وحاجت کا اظہار کرتا ہو۔ مخلوق سے استغناء برتتا ہو اور اللہ کے سامنے خود کو محتاج بنا کر رکھتا ہو۔ تیسرا خفی: وہ بندہ، جو اپنے نیک اعمال بھی مخلوق کے دکھاوے سے بچنے کے لیے چھپ کرکرتا ہو اور اگر کوئی گناہ صادر ہوجاتا ہو تو اس کو بھی چھپاتا ہو اور اس پر خوب توبہ واستغفار کرتا ہو، کیوں کہ اپنے گناہوں کابندوں کے سامنے اظہار بھی شریعت میں پسندیدہ نہیں۔
اب خشیت الٰہی کا کرنا ضروری ہوگیا ہے۔ خشیت یعنی خوف۔ خوف دل کی بے چینی کا نام ہے۔ جب انسان حرام کام اور معاصیات کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کا دل اللہ کے خوف سے لرز جاتا ہے۔ اسی طرح اللہ نے جن کاموں کے کرنے کا حکم دیا، اسے چھوڑنے سے بھی دل بے چین ہوجاتا ہے یا ان پر عمل کر کے عدم قبولیت کا خدشہ محسوس کرتا رہتا ہے۔ اسی کا نام خوف ِ الٰہی ہے۔ ایک مومن سے یہ خوف مطلوب ہے۔ کیوں کہ اللہ کا خوف عبادت اور توحید میں شامل ہے۔ قرآن میں خوف سے متعلق متعدد قسم کے الفاظ وکلمے آئے ہیں، جن میں اللہ سے ڈرنے کا حکم اور تلقین کی گئی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے یہاں تک فرما دیا کہ ”اللہ سے ڈرنے والے علم والے لوگ ہیں۔“ مگر افسوس بھی اسی بات کا ہے کہ آج علم والوں کی کمی نہیں، کمی ہے تو صرف اللہ سے ڈرنے والوں کی۔ انسان کو خوف ِ خدا ہو تو شاید وہ کبھی گناہ کے قریب بھی نہ پھٹکے۔ اس لیے مذکورہ بالا تمام امور انسانی زندگی اور نیکی کی قبولیت کے اہم ترین جز ہیں۔ اللہ ہمیں متقی اور پرہیزگار بنائے، آمین۔

Exit mobile version