تخلیق انسانیت کے مرحلے میں ہی پاکیزہ تر مخلوق نے اللہ جل شانہ سے یہ بات کہ دی تھی کہ ایسی مخلوق کو کیونکر تخلیق فرمانے کا ارادہ کرتے ہیں جو زمین میں کشت و خون کے دریابہانے میں باک محسوس نہیں کرے گی۔تاہم خالق کائنات سے ظاہر و پوشیدہ اسرار عیاں تھے جبھی فرمایا کہ جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جان سکتے۔انسان کے زمین میں اتارے جانے کے بعد سب سے پہلے حضرت آدم ؑکے بیٹوں میں آپسی اختلاف اور قتل نا حق سرزد ہوایہ مضمون سورت المائدہ میں بیان ہواہے کہ ایک بھائی نے دوسرے بھائی کو قتل کردیا(قابیل نے ہابیل کو قتل کیا)۔انسان کے راہ مستقیم بھٹک جانے کے واضح امکانات کے تدارک کے لئے انبیا علیھم السلام مبعوث ہوئے۔جو انسانوں کو عہد الست کی یاددہانی کروائیں کہ ان کو ہر آن ہر گھڑی اپنے رب کی ذات سے حذر رکھنا ہے جبھی وہ کامیاب و کامران ہوپائے گا۔انسان کی جانب سے متعین کردہ ثوابت حق سے انحرافات کی تفصیل تو بہت طویل بحث کی متقاضی ہے۔ذیل میں صرف ایک اہم مسئلہ پر کلام کرنے کی اختصار کے ساتھ کوشش کی جائے گی۔
شرم و حیا
انسان فطرتی طورپر عفت و عظمت اور حیاکا پیکر ہے کہ وہ اپنی اور اپنے گردو پیش میں بسنے والوں کی عزت و عظمت اور حیا و پاکدامنی کا تحفظ و انتظام کرتاہے۔مردہو یا عورت سبھی اپنے تئیں شرم و حیا کو عملی جامہ پہناتے نظر آتے ہیں۔تمام مذاہب و تہذیبوں کی تاریخ پڑھ جانے سے معلوم ہوتاہے کہ انسان کس طرح اپنی عفت و عزت کا خیال رکھتاتھا۔اسلام نے تو اس پر خصوصی توجہ دی ہے کہ محرم و غیر محرم کے اصول بیان فرمائے،دل اور آنکھ کی خیانت کی باز پرس کی نوید سنائی ،ظاہر و پوشیدہ بہرطور گناہ و منکرات سے بچنے کا حکم صادر فرمایا،مردو عورت دونوں کو غض بصر اور شرم گاہوں کی حفاظت کا حکم دیا کہ انسان اس وقت تک حقیقی کامیابی و کامرانی سے سرفراز نہیں ہوپائے گا کہ وہ اپنی شرم گاہ کی حفاظت نہ کرلے۔
یاد رہے اسلام نے شرم و حیا کی صفات کا مطالبہ صرف عورتوں سے نہیں کیا بلکہ حیا و پاکدامنی کا تقاضا و مطالبہ مردو عورت دونوں سے سورت النور میں کیا گیا ہے اور سورت المومنون میں تو شرم گاہ کی حفاظت کرنے والوں کو کامیاب قرار دیا گیا اس مفہوم میں مردو عورت دونوں داخل ہیں۔تاہم ازمنہ قدیم سے یہ ریت چلی آرہی ہے کہ جب کبھی حیا و پاکدامنی اور عفت و عزت کے بگاڑ اور فساد کی بات ہوتی ہے تو عورت کا تصور اذہان میں وارد ہوجاتاہے ۔اس میں شک نہیں کہ یہ عادت اور طرزعمل اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے اسلام نے ایک بنیادی کلیہ بتلا دیا ہے کہ مردو عورت میں تفریق و امتیاز کا معیار جنس و ذات نہیں بلکہ تقوی ہے۔سورت الحجرات میں یہ مضمون وارد ہوااور احادیث رسولؓ سے بھی یہی موقف قوی ہوجاتاہے۔اسلام نے قرآن و سنت میں تخلیق انسانی ہو یا عمل صالح اور جزا و سزا کا معیار اور اسی طرح عزت نفس کی حفاظت کی تلقین و تائید سورت النور اور سورت الاحزاب میں مذکر و منث دونوں کو اپنا مخاطب بنایا۔
قدیم مذاہب اور عورت
انسان چونکہ بدی اور غلطی کی جانب سرعت کے ساتھ لپکتا ہے اسی بنا پر یہودیوں اور عیسائیوں نے تعلیمات ربانی کو فروگذاشت کرتے ہوئے دیدہ دلیری کے ساتھ تعلیمات الٰہی میں تحریفات کردیں۔اور بے دھڑک معاشرہ میں پنپتی بدی و برائی کو عورت کی جانب منتقل کردیا کہ یہ پیکر ذلت و رسوائی اور شیطان کا اساسی مہرہ ہے لہذا اس سے علیحدگی اختیار کی جائے۔یہی نہیں روم و فرس اور عرب و یونان،ہند وچین میں بسنے والے مذاہب اور تہذیبوں کی روشنی میں عور ت کو ہمہ جہتی برائیوں کا منبع و مصدر سمجھا جانے لگا اور اس کو مال کی طرح وراثت میں منتقل کردیا جاتا،حیوان سے بدتر زندگی گذارنے پر شہر سے دور محل سرائے میں رکھا جاتا،زندہ درگورکردیا جاتا،کھانے پینے میں مرد و عورت میں تمیز روارکھی جاتی،بیوہ و طلاق کی صورت میں اس کو خاوند کے ساتھ قتل کردیا جاتا ،پالتوجانوراور بغیر روح کے جسم سمجھاجاتا۔قتل وقتال کی صورت میں عورت کو بلی بنا دیا جاتا،قرض و سودکی ادائیگی میں عورت کو رہن رکھا جاتا،عورت کو ناپاک سمجھا جاتاتھا،عورت کو عزت و مقام صرف اس صورت میں مل پاتاجب وہ کسی رئیس و امیر کی بیٹی ہوتی،عورت کو چوروں کے حربے اور سچائی سے دور کا واسطہ نہ ہونے کا تصور تھا،عورت کے پیروں میں کاٹھ ماری جاتی تاکہ بے بس ہوجائے،کم عمری میں شادی ہوتی،شادی کی صورت میں باپ کے ورثہ سے محروم ہوتی،عزت کا پیشہ اختیار نہیں کرسکتی تھی الغرض ایسے قبیح افعال کی طویل فہرست ہے جس سے عورت ذات کو گزرنا پڑتا۔انسانی معاشرہ میں اس کو بحیثیت انسان حقوق ادنیٰ درجے کہ بھی میسر نہ تھے یہاں تک کہ خود یورپ جو آج کل حقوق نسواں کا عالمی چیمپین بننے کی سعی کرتاہے میں عورت نے بڑی جانفشانی و جدوجہد کے بعد بنیادی حقوق سترہویں میں حاصل کیے۔
موجودہ معاشرہ میں عورت
مشرقی ممالک میں بسنے والے ممالک میں مسلمان عورت کو زندگی بسر کرنے کا آزادانہ حق میسر نہیں ،ماسبق زمانوں کے مذاہب و تہذیبوں کی رسوم و رواج کو اختیار کرتے ہوئے مقید کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔پردہ کے نام پربے جا سختی، نکاح کے وقت جبرو اکراہ،طلاق و خلع کی صورت میں طعن و تشنیع کا محور،وراثت سے محرومی،گھروں میں خادمہ و ملازمہ کی طرح کا تندوتیز رویہ اور ٹھیڑی پسلی سے پیدا ہونے کے طعنے،بچے جنم دینے کے علاوہ گھر کے بانے اور سنوارنے اور زندگی کے امور میں بہتر رہنمائی و مشاورت سے محرومی اور اس طرح کے بہت سی عادات کا سامنا برصغیر کی عورتوں کو خصوصا اور عرب مملکتوں میں عموما دیکھنے کو ملتی ہیں۔ اگرچہ عرب ممالک اور ترکی وغیرہ میں بسنے والی خواتین کو حاصل شدہ حقوق و آزادی برصغیر کے ممالک کی نسبت زیادہ حآصل ہے مگر اسلامی تعلیمات کے عین مطابق حقوق سے پھر بھی مستفید نہیں ہوتی۔
جدت پسندی اور عورت
جدت پسند طبقہ مغرب کو شرم و حیا کے نام میں عیب نظرآتاہے کہ وہ اس لفظ کو سنتے ساتھ ہی یہ سمجھ لیتے ہیں کہ عورت کی آزادی و خوشی کا گلہ اسلام اور مسلمانوں نے گھونٹ دیا ہے چنانچہ اس کے ردعمل کے طورپر انہوں نے اصلاح و سدھار کے نام پر ایسے اقدامات و نظریات پیش کیے کہ جس سے خود عورت کی ذات کو بھی گھن آنے لگی۔مغرب کی سکالرمسزاینی بسنت نے لکھا ہے کہ میں جب مسلمانوں کے تعدد ازواج کی حوصلہ شکنی کرتی ہوں تو اس کے ساتھ مغرب میں عورت کو عیش و عشرت اور تمتع کا ذریعہ سمجھنے کو بھی پسند نہیں کرتی۔جدت پسندی و اصلاح کے نام پر عورت کو بازار کی رونق بنا دیاگیا کہ اس کے ذریعہ سے پیسہ کمایا جاتاہے،نکاح کے رشتہ میں بندھنے کی بجائے اس کو لاتعداد مردوں کے ساتھ جنسی تعلقات بنانے پر اکسایا جاتاہے،مردوں کا مقابل لانے کے لئے اس کے فطرتی ساخت اور پرورش و تربیت اولاد سے بے پروابنادیا گیا۔چادر و چاردیواری کی باعزت زندگی کی بجائے اس کو نائٹ کلبوں اور ہوٹلز و موٹلز ،اشتہارات و سکرین پر مال تجارت کی شے ثابت کیا جارہاہے۔
اسلام اور عورت
اسلام وہ دین برحق ہے جس نے عورت کو ساتویں صدی عیسویں میں وہ حقوق عنایت کیے کہ اس کا تصور بھی مغرب و اقوام مغرب کے تصورات سے ماوراہے اور پھر خود مغرب نے تو عورت کے پرزور اسرار و مطالبہ کے بعد اس کے حق آزادی کو قبول کیا۔مگر اسلام نے ماں کے قدموں تلے جنت کا تصور پیش کیا، بیٹی کے احترام کی تلقین حضورﷺ ؓ کے طرزعمل سے ثابت ہوتی ہے ،بہن پر خرچ کرنے کو افضل صدقہ قراردیا،بیوی کے ساتھ حسن معاملگی کو سب سے بہترین عمل قراردیا۔عورت کو اسلام نے وراثت میں حصہ دار بنادیا۔عورت کو اختیار ملا کہ اس کی رضا کا کوئی جائزعذر ہو تو نکاح فسخ کرسکتی ہے، عورت کو ناپسندیدہ مرد سے خلع کا حق دیا،اسلام نے عورت کو تعلیم و تعلم اور تجارت و طب،نرسنگ،جہاد،امور زندگانی میں مشورہ دینے کا حق عطاکیا ہے۔بیوہ و مطلقہ عورتوں سے شادی کی ترغیب اسلام نے دی ہے،یتیم و بے سہاربچوں کی کفالت اور بہن و بیٹی مطلقہ کی دیکھ بھال کو اجرو ثواب کا ذریعہ قراردیا گیا۔غیر مسلم لڑکی کے سر پر دوپٹہ رکھنے کا حکم اسلام نے دیا،آپﷺ نے زہر دینے والی خاتون کوسزا نہیں دی،کوڑہ ڈالنے والی اور حضورﷺ کے ڈرسے ہجرت کرنے والی خواتین آپﷺ کے اخلاق حمیدہ سے مسرت ہوکر اسلام قبول کرلیا۔قرآن کریم میں عورتوں کے نام سے سورت نازل ہوئی اور کئی سورتوں میں کو خالص خواتین کے مسائل کا تذکرہ فرمایا گیا،شوہر کی تابعداری اور حقوق اللہ کی محافظت کرنے والی کو جنت کی بشارت ملی،عورت کو مردوں کے مساوی حقوق دیے گئے کہ وہ باہم ایک دوسرے کالباس ہیں ۔مردپر لازم کیا گیا کہ عورت کے جملہ اخراجات کی ذمہ داری اداکرے۔جہاد و باجماعت نماز کی ادائیگی سے معافی بھی ملی۔مخصوص ایام میں عیدین و حج میں طواف کے علاوہ دیگر مناسک حج اداکرنے اور عیدگاہ جانے کا حکم بھی دیا گیا تاکہ اجروثواب میں شریک ہوپائے۔ایام مخصوصہ میں نماز کی ادائیگی سے معافی عنایت ہوئی۔الغرض اسلام نے عورت کو جو حقوق عطاکیے ہیں ان کو بیان کرنا ایک مضمون میں محال ہے تاہم مذکورہ حقوق کی ادائیگی کردی جائے تو مغرب و اقوام مغرب کے تمام ترپروپیکنڈے دم توڑجائیں گے۔اسلام نے جو حقوق عورت کو عطاکیے ہیں ان کا عشرعشیر بھی مغرب نے عورت کو عزت و عظمت نہیں دی ہے۔
حوالہ جات :محسن نسواںؓ، تہذیب اسلامی، انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر، تہذیب و تمدن پر اسلام کے اثرات و احسانات
